September 23rd, 2018 (1440محرم12)

اور فیصلہ ہوگیا

 

آخر فیصلہ آگیا۔ جمعہ 6جولائی کو نیب کی عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کی بیٹی اور داماد کو مجرم قرار دے دیا۔ فیصلے کے مطابق نواز شریف کو 10سال، مریم کو سات سال اور ان کے شوہر صفدر کو ایک سال کی سزا سنائی ہے۔ علاوہ ازیں لاکھوں پاؤنڈ جرمانے اور ایون فیلڈ کی جائداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ کیپٹن صفدر کو نیب سے تعاون نہ کرنے پر سزا دی گئی ہے۔ وہ مانسہرہ میں اپنی انتخابی مہم چلا رہے تھے اور ممکن ہے کہ اب تک گرفتار کرلیے گئے ہوں۔ لیکن دو دن پہلے ہی نیب نے یہ اعلان کیا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینے والوں کو 25جولائی تک گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اب مریم اور ان کے شوہر صفدر انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل ہوگئے ہیں۔ جمعہ کو فیصلہ سنانے میں بار بار تاخیر کی جاتی رہی اور صبح ساڑھے 9بجے کے بعد 5مرتبہ وقت آگے بڑھایا گیاجب کہ پوری قوم یہ اہم فیصلہ سننے کی منتظر تھی۔ بہرحال سہ پہر ساڑھے چار بجے جسٹس محمد بشیر نے فیصلہ سنانا شروع کیا لیکن کھلی کرپشن کا فیصلہ بندے کمرے میں ہوا، ذرائع ابلاغ کے تمام نمائندوں کو عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔ فیصلہ تو آگیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس پر عمل درآمد بھی کرایا جاسکے گا ؟ کیا پاکستان کی کسی عدالت کے حکم پر لندن میں موجود شریف خاندان کی جائداد ضبط کی جاسکتی ہے؟ جہاں تک سزاؤں پر عمل کرانے کا تعلق ہے تو یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب مریم اور نواز شریف ملک میں واپس آئیں۔ اگر انہیں گرفتار کرنا ہی مقصود ہوتا تو یہ فیصلہ ان کی پاکستان میں موجودگی پر کیا جانا چاہیے تھا۔ خود میاں نواز شریف نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ عدالت میں کھڑے ہو کر فیصلہ سننا چاہتے ہیں چنانچہ فیصلے کی تاریخ آگے بڑھا دی جائے۔ لیکن اب ان باپ بیٹی کو یہ موقع دے دیا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو ملک میں طویل عرصے تک واپس ہی نہ آئیں۔ اس عرصے میں وہ مزید قانونی کارروائی کرسکتے ہیں۔ یہ فیصلہ احتساب عدالت کا ہے جسے عدالت عالیہ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ وہاں بھی سنگل بینچ، دو رکنی بینچ اور 5رکنی بینچ میں ’’قانونی‘‘ کھیل جاری رکھا جاسکتا ہے اور پھر اس کے بعد عدالت عظمیٰ تو ہے ہی۔ اپیل کرنے پر احتساب عدالت کا فیصلہ معطل ہوا تو گرفتاری کا خدشہ بھی نہیں رہے گا۔ نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار بھی مفرور قرار دیے گئے ہیں جو بیماری کے بہانے لندن میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ نواز شریف اور مریم کے پاس تو بیگم کلثوم نواز کی شدید علالت کا جواز ہے جو وینٹی لیٹر پر ہیں ۔ نواز شریف اگر جرأت کا مظاہرہ کر کے اب بھی واپس آجائیں تو ن لیگ کے کارکنوں کا حوصلہ بڑھے گا اور انتخابات میں پارٹی کو فائدہ پہنچے گا۔ اب تک تو یہی کہا جاتا رہا ہے کہ وہ گرفتاری سے نہیں ڈرتے گو کہ ایک آمر اور آئین شکن جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں ان کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی تو وہ چند دن جیل میں کاٹ کر 10سال تک واپس نہ آنے کا سمجھوتا کر کے سعودی عرب نکل گئے تھے۔ انہوں نے اپنے قریب ترین ساتھیوں کو بھی اس سمجھوتے کی ہوا نہیں لگنے دی۔اب ممکن ہے کہ ان میں ہمت اور جرأت پیدا ہوگئی ہو ورنہ پاکستان میں اقتدار کی سیاست سے تو وہ باہر ہو چکے ہیں ۔ ن لیگ کے بہت اہم ارکان پارٹی چھوڑ چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں ۔ تازہ ترین واردات سینئر رہنما ظفر علی شاہ نے ڈالی ہے اور تحریک انصاف سے اپنا سیاسی مستقبل وابستہ کرلیا ہے۔ تحریک انصاف میں جس تیزی سے لوگ شامل ہو رہے ہیں وہ بے سبب نہیں ۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ میاں صاحب ضرور واپس آئیں گے، مسلم لیگ ن عدالتوں کا احترام کرنے والی جماعت ہے، فیصلے کا سامنا کریں گے۔ لیکن جولائی 2017ء سے اب تک اور نیب عدالت کے مذکورہ فیصلے پر مجرموں اور ان کے حواریوں کا جو ردعمل سامنے آیا ہے اس میں تو کہیں احترام کا پہلو نہیں پایا جاتا۔ سابق وزیر خزانہ اور کراچی سے انتخاب لڑنے والے مفتاح اسماعیل تک نے نیب میں پیش ہونے سے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ جواب جمع کرانے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ۔ ذہنی بیمار ہونے کے باوجود وہ الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ شریف خاندان کے خلاف فیصلہ آنے پر ایک بار پھر یہ تکلیف دہ مناظر دیکھنے میں آئے کہ نہ صرف عمران خان نے میدان صاف ہونے پر خوشی کا اظہار کیا بلکہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے کئی شہروں میں بھنگڑے ڈالے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ ایسی حرکتیں کسی کو بھی زیب نہیں دیتیں گو کہ ماضی میں کئی بار ایسے نظارے دیکھنے میں آتے رہے ہیں ۔ یہ صرف جماعت اسلامی تھی جس کے قائدین نے بھٹو کی پھانسی کے فیصلے پر کارکنوں کو بے قابو ہونے سے روکا تھا حالاں کہ بھٹو نے سب سے زیادہ ستم جماعت اسلامی پر ڈھایا تھا۔ یاد رہنا چاہیے کہ وقت کسی کا بھی ایک سا نہیں رہتا۔ باوقار اور مہذب لوگ مخالفت کا اظہار بھی وقار کے ساتھ کرتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں جشن منانے والے جنونیوں سے ن لیگ کے کارکنوں کی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں اور اگر یہ سلسلہ بڑھایا گیا توانتخابات ٹل سکتے ہیں جن کے انعقاد پر اب بھی شک کے سائے منڈلا رہے ہیں اور مقتدر قوتیں ممکنہ نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس فیصلے سے ایک دن پہلے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو گرفتار کرلیاگیا۔ ان پر آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل سمیت کرپشن کے دیگر 3الزامات ہیں۔ یہ بڑی اہم گرفتاری ہے۔ فواد حسن بڑے طاقت ور بیورو کریٹ اور شریف حکومت کے کئی رازوں کے امین ہیں۔ آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں گھپلوں کی آنچ میاں شہباز کے دامن تک پہنچتی ہے۔ فواد کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک انگریزی اخبار نے اسی دن اپنی رپورٹ میں کہانی کا دوسرا رخ دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں شواہد کے بغیر گرفتار کیا گیا اور یہ مخصوص لوگوں کو ہدف بنانے کا بہترین کیس ہے، الزامات میں سنگین خامیاں ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ معاملہ برابر کرنے کے لیے جمعہ ہی کو آصف علی زرداری کے بہت قریبی ساتھی حسین لوائی کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی گرفتاری آصف علی زرداری کے لیے پیغام ہے جن کا کہنا ہے کہ مقتدر قوتوں کی ہر ادا میں ایک پیغام ہوتا ہے اور گزشتہ دنوں ان کے آبائی علاقے سے بھی ان کے ایک ساتھی کو گرفتار کر کے پیغام دیا گیا ہے۔ حسین لوائی کی گرفتاری اگر پیغام نہیں ہے تو یہ بتانے کی کوشش ہے کہ دونوں پارٹیوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جارہا ہے تاہم تیسری پارٹی محفوظ ہے۔ ایسی صورت حال میں پیپلز پارٹی، شریف خاندان کو ملنے والی سزاؤں کی تحسین نہیں کرے گی اور ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں تحریک انصاف کے خلاف کوئی خفیہ سمجھوتا ہو جائے کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ فواد حسین کے بارے میں خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ ذرا سا دباؤ پڑنے پر بہت کچھ اگل سکتے ہیں ۔ ویسے بھی اب انہیں شریف خاندان سے مزید کسی فائدے کی امید نہیں تاہم مسلم لیگ ن کے رہنما بیرسٹر ظفر اللہ کا دعویٰ ہے کہ وہ شریف برادران کے خلاف سلطانی گواہ نہیں بنے گا۔ گرفتاریوں کا سلسلہ چل پڑا ہے اور مزید اہم افراد گرفتار ہوسکتے ہیں۔ کسی نے جرم کیا ہے تو بلا رعایت اسے پکڑنا اور سزا دینا چاہیے لیکن یہ عمل کسی بھی طرح شفاف انتخابات پر اثرانداز نہ ہو۔