November 15th, 2018 (1440ربيع الأول6)

بھارتی آبی جارحیت اور لاپروا پاکستان

 

خان فہد خان

بھارت تقسیم ہند سے لیکر آج تک مسلسل پاکستان کو کمزور کرنے اور نیچا دکھانے کی ناکام کوششیں کرتا آرہا ہے۔ وہ اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تنزلی کے لیے کوشاں رہا ہے۔ درحقیقت بھارت پاکستان کو کسی بھی میدان میں کامیاب دیکھنا نہیں چاہتا تبھی تو کھیل کے میدان سے لیکر اقتصادی میدان تک اپنی شاطرانہ چالیں چل کر پاک وطن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ آئے روز ایسے منصوبے اور سازشیں تیار کر رہا ہے جن سے پاکستان کا امن اور معیشت متاثر ہو۔ پاکستان میں امن کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازشوں کا ثبوت کلبھوشن ہے اور پاکستانی معیشت کے خلاف بھارتی سازش کا عملی ثبوت اس کے آبی منصوبے ہیں جن سے وہ اپنے فائدے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا نقصان کر رہا ہے۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی معشیت کا انحصار زراعت پر ہے۔ بھارت پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازش کے تحت پاکستانی دریاؤں پرکئی ڈیم بنا کر پانی روکنا چاہتا ہے اس کی یہ سازش کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بھارت نے آبی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن میں سے ایک کشن گنگا پاور ہاؤس ہے، اس کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور پاکستانی اعتراضات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ہوئی۔ اس بجلی گھر کی تعمیر دریائے نیلم پر ہوئی ہے جو پاکستان کے حصے میں آنے والے دریائے جہلم کا معاون دریا ہے یاد رہے پاکستان پہلے ہی نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کام کررہا ہے بھارت نے اس منصوبے کو متاثر کرنے کی سوچی سمجھی سازش کی ہے۔ بھارت نے یہ منصوبہ 2005 میں پیش کیا اور 2009 میں اس پر کام شروع کیا۔ پاکستان نے اس منصوبے سے متعلق خدشات پر عالمی بینک سے رجوع کیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور اپنا مسئلہ بیان کیا۔ عالمی بینک نے پہلے پاکستان کے موقف کی تائید کی اور بھارت کو ڈیم کے ڈیزائن میں تبدیلی کا کہا لیکن بھارت نے عالمی بینک کا حکم خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس پر کام جاری رکھا یوں 2018 میں بھارت یہ منصوبہ مکمل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ جو پاکستان کی غیر موثر سفارت کاری اور کیس کو اطمینان بخش انداز میں پیش نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ کشن گنگا ڈیم کے آپریشنل ہونے کے بعد پاکستان کو ہوش آیا اور پھر عالمی بینک کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن اس بار پاکستان کو اس نے بھی ٹکا سا جواب دے دیا۔ یوں پاکستان اپنے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کو بچانے میں ناکام ہوگیا اب اس منصوبے کی بجلی پیدا کرنے کی استعداد 8فی صد کم ہوگئی ہے۔ اس منصوبے پر بات ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی بھارت کا یہ آخری متنازع منصوبہ ہے۔ بھارت دریائے نیلم جہلم کے علاوہ چناب اور سندھ پر بھی کئی ڈیم بنا رہا ہے جو پاکستان میں آبی قلت پیدا کرنے اور زمینیں بنجر کرنے کی مکمل سازش ہے۔
بھارت دریائے چناب پر 3بڑے اور 21چھوٹے متنازع آبی منصوبوں پر کام کررہا ہے جن پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں اور دریائے سندھ پر بھارت کارگل ڈیم کے نام سے دنیا کا تیسرا بڑا ڈیم تیار کررہا ہے یہ منصوبہ 2028 تک مکمل ہوگا۔ بھارت اگر اپنے ان آبی منصوبوں کومکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پاکستان میں پانی کی شدید قلت ہو سکتی ہے اور معیشت کو شدید نقصان پہنچنے گا۔ بھارت تو دشمن ہے اس کو تو ہر چال چلنی ہے کہ کس طرح پاک سرزمیں کمزور ہو لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ ایک طرف بھارت ہے جو پاکستان دشمنی میں متنازع اور ناجائز ڈیم بنانے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے دوسری طرف پاکستان کی حکومت اور ادارے اس جانب طرف توجہ نہیں دے رہے۔ دشمن کی سازشوں کا کوئی توڑ نہیں نکال رہے حالاں کہ ان دریاؤں کے پانی سے استفادہ کرنے کا ہمارا پہلا حق ہے لیکن اس کے باوجود ہماری حکومت اور ادارے لاپروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو آبی قلت کے شکار بنا رہے ہیں جس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 40سال میں کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا۔ کالاباغ اور دیامیر بھاشاڈیم جیسے منصوبوں پر ہوم ورک کیا گیا جو آغاز ہی میں متنازع ہوگئے لیکن ان کے بعد کوئی نیا منصوبہ ڈیزائن نہیں کیا اور نہ ہی ان پر اعتراضات ختم کرکے انہیں شروع کیا گیا۔ آج تک ان آبی منصوبوں کو لیکر سندھ اور کے پی کے کے لیڈر سیاست چمکا رہے ہیں اور دشمن کے عزائم کو کامیاب بناتے ہوئے وطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

آج پاکستان کو اپنی آبی ضروریات کے لیے آبی ذخائر کی اشد ضرورت ہے جس کا اندازہ آپ ان اعدادو شمار سے لگا لیں کہ ہر سال پانی کو ذخیرہ کرنے کے نامناسب انتظام کی وجہ سے 28ملین ہیکٹر پانی سمندر برد ہو جاتا ہے۔ جس سے پاکستان کو سالانہ 180ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ یہی نہیں ہر سال پانی کو ذخیرہ کرنے کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے جو سیلاب تباہی مچاتے ہیں ان سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ آج ملک میں زمینیں بنجر اور بڑے شہر پانی کی بوند بوندکو ترس رہے ہیں۔ اس ساری صورت حال کے باوجود ہمارے ادارے اور حکومت اس مسئلہ پر توجہ نہیں دے رہے۔ پاکستان میں ضرورت کے مقابلے میں آبی ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں جو دو (تربیلا اور منگلا) ڈیم پاکستان میں بنے ہیں وہ بھی آج مٹی سے بھرنے کی وجہ سے اپنی استعداد سے کم کام کردے رہے ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک میسر آبی وسائل کا 30سے 40فی صد محفوظ کیا جاتا ہے جب کہ ایک پاکستان ہے جو صرف 10فی صد پانی کو محفوظ کرتا ہے اور اس کا دشمن اس کی لاپروائی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اس کے پانی سے مستفید ہو رہا ہے۔ وطن عزیز کے اداروں اور گزشتہ تمام حکومتوں نے مل کر دشمن کے ناپاک عزائم کو قوت بخشی اور ملک وقوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور ابھی پہنچا رہے ہیں کیوں کہ آج تک بھی انہوں نے کسی منصوبے پر کام شروع نہیں کیا اگر اس ہی طرح سستی، لاپروائی سے کام لیا جاتا رہا اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پر توجہ نہ دی گئی تو وہ دن زیادہ دور نہیں جب پاکستان آبی قلت کا شکار اور زمینیں بنجر ہوجائیں گی لوگ پانی کی خاطر ایک دوسرے کی جان لیں گے۔