October 21st, 2018 (1440صفر11)

دخترانِ اسلام تمہاری عظمت کو سلام!

 

حافظ ادریس

دخترانِ اسلام نے ہر دور میں اسلامی تاریخ میں عظیم الشان مثالیں رقم کی ہیں۔ خدیجۃ الکبریٰؓ سے لے کر ام عمارہؓ تک اسماء بنت ابوبکرؓ سے لے کر زینب بنت علیؓ تک، رابعہ بصریہؒ سے لے کر طرابلس کی شہیدہ فاطمہؒ اور زینب الغزالیؒ سے لے کر آسیہ اندرابی تک ہماری زریں تاریخ میں بڑے عظیم نام ملتے ہیں۔ آج امت مسلمہ زوال کا شکار ہے۔ اقوام عالم ہمیں حقیر جانتی ہیں۔ ہم نے خود اپنے آپ کو رسوا اور ذلیل کیا ہے۔ اس کے باوجود ان اندھیروں میں اللہ کے فضل سے چراغ جلتے ہیں تو روشنی پھیلتی ہے۔ آج ماہ رمضان کی بابرکت ساعتوں میں تین دخترانِ اسلام کی یادوں نے تڑپا بھی دیا اور امید کی کرن بھی روشن کر دی۔
سب سے پہلے عافیہ صدیقی یاد آئیں جو ظالم امریکی حکمرانوں کی درندگی اور بے حمیت پاکستانی مقتدر قوتوں کی نااہلی کی وجہ سے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے۔ فروری 2003 سے ظلم و ستم کا شکار اعلیٰ تعلیم یافتہ بنت پاکستان، دختر اسلام کے حق میں آج تک کسی حکمران نے آواز نہیں اٹھائی۔ عافیہ صدیقی جو کبھی زندگی کی گزرگاہوں میں بہت فعال کردار ادا کرتی تھیں، آج ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئی ہیں۔ دنیا کو بنیادی حقوق کا سبق دینے والے ادارے پتا نہیں کس وادی میں کھو گئے ہیں یا موت کی وادی میں اتر گئے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے درندے امریکا کو کوئی بھی یہ کہنے کو تیار نہیں کہ دنیا کی سب سے طاقتور قوم ہونے کے دعوؤں کے ساتھ اس شرمناک حرکت پر اسے ڈوب مرنا چاہیے۔
پاکستان میں عبوری سیٹ اپ کا اعلان ہوتے ہی عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ فوزیہ صدیقی نے پھر سے اپنا دکھڑا ایوانِ اقتدار تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اخباری خبر کے مطابق ’’کراچی (آئی این پی) ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک کو نگران وزیراعظم نامزد ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں پاکستان کے ’’دسویں وزیراعظم‘‘ سے عافیہ کے لیے انصاف مانگ رہی ہوں۔ اس اپیل کے ساتھ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کا مطالبہ ہے کہ قوم کی بیٹی کو وطن واپس لایا جائے۔ عافیہ موومنٹ میڈیا انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ عافیہ کو میر ظفر اللہ خان جمالی کے دور میں کراچی سے اغواء کیا گیا تھا جس کے بعد چودھری شجاعت حسین، شوکت عزیز، محمد میاں سومرو (نگران وزیراعظم)، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، میر ہزار خان کھوسو (نگران وزیراعظم)، میاں محمد نواز شریف، شاہد خاقان عباسی کے بعد آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دسویں وزیراعظم ہیں جن سے میں عافیہ کے لیے انصاف کی اپیل کر رہی ہوں۔ امید ہے آپ قوم کو عافیہ کی امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی کا تحفہ دیں گے۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ دنیا امید پر قائم ہے، اس لیے امید تو کبھی نہیں توڑنی چاہیے، مگر عبوری حکمران ہوں یا مستقل، ان سے ایسی امیدیں باندھنا سراب کے پیچھے بھاگنے کے مترادف ہے۔
عافیہ ہی کے شہر سے تعلق رکھنے والی ہونہار اور خوبصورت بچی سبیکا عزیز شیخ اپنی ذہانت و قابلیت کی بناء پر امریکا میں ایک کورس کرنے کے لیے منتخب ہوئی تھی۔ امریکی ریاست ٹیکساس کے سانتافی ہائی اسکول میں سبیکا کا کورس تقریباً مکمل ہونے کو تھا۔ اس نے اپنی والدہ کے نام اپنے پیغام میں خوشخبری دی تھی کہ وہ 9جون کو اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ کراچی میں ہو گی۔ 18مئی کو جب کہ سبیکا نے دوسرا روزہ رکھا ہوا تھا، اچانک کلاس میں انسانی شکل میں ایک خونخوار امریکی طالب علم نے فائرنگ شروع کی، وہ ایک امریکی لڑکی کو گرل فرینڈ بنانا چاہتا تھا، جس نے انکار کر دیا۔ اس لڑکی کو قتل کرنے کے ساتھ نشانے باندھ کر اس نے درجن بھر طلبہ و طالبات اور اساتذہ کو ہلاک اور تقریباً اتنے ہی بے گناہوں کو شدید زخمی کر دیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وہ خودکشی کرنا چاہتا تھا، مگر اس کی ہمت نہ پاسکا۔ اس نے اپنے آپ کو اسلحے سمیت پولیس کے حوالے کردیا۔ یہ امریکا ہے، یہاں دنیا میں سب سے زیادہ قتل و غارت گری ہوتی ہے۔ مگر نہ تو اسے کوئی دہشت گرد ملک کہتا ہے، نہ اس کی مذمت ہوتی ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔
سبیکا نے جو پیغام دیا تھا، اس سے سارا خاندان خوش و خرم تھا، مگر کسے معلوم تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ عید کرنے کے بجائے ان کی عید کی خوشیاں بھی چھین لے گی۔ وہ تو شہادت کی وادی میں اتر گئی ہے، اسے نہ کوئی غم ہوگا، نہ ملال۔ روزہ دار پر تو اللہ کی رحمتیں متوجہ ہوتی ہیں۔ 23مئی کو سبیکا کا جسد خاکی پاکستان پہنچا تو کراچی میں اس کے جنازے میں غمزدہ مسلمانوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ رمضان کی گھڑیوں میں سبیکا ہر روزہ دار کو یاد آتی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اس کے والدین اور خاندان کے سب افراد کو صبر عطا فرمائے اور اسے اپنے مقرب بندوں میں شامل کرکے اس کی قبر کو جنت کے باغات میں سے ایک باغ بنا دے۔ یہ دنیا ظلم و ستم سے بھر گئی ہے۔ عدل و انصاف کا ترازو تو روزِ حشر ہی لگے گا اور ذرے ذرے کا حساب ہوجائے گا۔
اسی ماہ رمضان میں شدت کی گرمی میں ایک اور معصوم بچی کی تصویر سامنے آئی، جو امتحان کی تیاری بھی کرتی تھی اور پانچ پانچ گھنٹے اپنے مظلوم والد، حریت کشمیر کے رہنما سید شبیر شاہ سے جیل میں ملاقات کے لیے انتظار میں بھی بیٹھتی تھی۔ یہ بچی امت مسلمہ کا فخر ہے، اس کی کہانی ذرا ملاحظہ فرمائیے۔ انٹر کے امتحان میں سوا ارب آبادی کے ملک بھارت میں اس نے بورڈ میں اول پوزیشن حاصل کی۔
نئی دہلی (بی بی سی) سما شبیر عام کشمیری لڑکیوں سے محض اس لیے مختلف نہیں ہیں کہ انہوں نے بھارت بھر میں منعقدہ بارہویں جماعت کے وفاقی امتحانات میں کشمیر سے ٹاپ کیا۔ وہ اس لیے بھی مختلف ہیں کہ ان کے والد شبیر احمد شاہ سینئر حریت پسند رہنما ہیں جنہوں نے کُل ملا کر اب تک 31 سال مختلف جیلوں میں گزارے ہیں۔ امتحانات کی تیاری کے دوران جب سما دلی کی تہاڑ جیل میں والد سے ملنے جاتیں تو انہیں پانچ گھنٹے انتظار کرنا پڑتا، لیکن وہ یہ وقت جیل کے باہر پڑھائی میں صرف کرتی تھیں۔ سما کہتی ہیں: ’ویسے بھی کشمیر میں اگر آپ کے ساتھ کچھ نہیں ہوا پھر بھی حالات کا اثر آپ کے دل و دماغ پر پڑتا ہے، لیکن میں ذاتی طور پر پریشان تھی، میرے بابا جیل میں تھے اور ملاقات اس قدر مشکل تھی۔ والد سے متاثر ہوئیں کہ وہ سال ہا سال سے قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود اپنے مقصد کے لیے کوشاں ہیں، اس لیے انہوں نے بھی طے کرلیا کہ وہ ان کے لیے فخر کا باعث بن کر دکھائیں گی۔ سما شاہ کی والدہ سرکاری اسپتال میں تعینات ایک ڈاکٹر ہیں اور خود انصاف کی لڑائی لڑنے کے لیے وکالت کا پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہیں۔ یہ پوچھنے پر کہ اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مظاہروں میں حصہ لیتے ہیں لیکن انہوں نے سارا وقت امتحان کی تیاری میں صرف کیا۔ سما کہتی ہیں کہ انہوں نے بچپن سے اپنوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا طویل سلسلہ دیکھا ہے۔ میری لڑائی قانونی ہوگی، اسی لیے میں نے ڈاکٹر یا انجینئر بننا نہیں چاہا، میں وکیل بنوں گی، اور کشمیر ہو یا کوئی اور جگہ میں ناانصافیوں کے خلاف اپنی تعلیم اور اپنا ہنر بھرپور استعمال کروں گی۔ سما کی والدہ ڈاکٹر بلقیس کہتی ہیں کہ خاوند کے جیل میں قید ہونے کے بعد انہوں نے بچوں کی دیکھ بھال کا ذمہ لیا، کیوں کہ وہ چاہتی تھیں کہ ’جیل کے اندر شبیر شاہ کا سر فخر سے اونچا ہو۔ سید علی گیلانی کے ایک فرزند ڈاکٹر اور چھوٹے بیٹے زرعی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، مسلح رہنما سید صلاح الدین کے چھوٹے بیٹے بھی ڈاکٹر ہیں، آسیہ اندرابی کے فرزند ملائیشیا میں اعلیٰ تعلیم میں مصرف ہیں۔‘‘
ہم ان تینوں دخترانِ اسلام کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کا خون اور پسینہ، جدوجہد اور عزمِ جواں ناقابلِ شکست ہے۔ اس موقع پر مصر و شام، غزہ و فلسطین، اور کشمیر و بنگلا دیش میں یہود و ہنود اور اسلام دشمنوں کے علاوہ نام نہاد مسلمان حکمرانوں کے مظالم کا شکار ہزاروں بے گناہ خواتین و بچیوں کی دل فگار یادیں بھی قلب و جگر کو تڑپا دیتی ہیں۔ ان سب کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعائیں نکلتی ہیں۔ اے کاش اس امت کے دامن میں پھر سے کوئی صلاح الدین ایوبی آجائے، کوئی محمد بن قاسم دستیاب ہوجائے، کسی طارق و غزنوی کے وجود سے اللہ میاں اس امت کی ذلت کو عزت میں بدل دے۔ ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد!۔