October 21st, 2018 (1440صفر11)

سبیکا، عافیہ اور پاکستان کا وقار

 

امریکا میں ٹیکساس کے اسکول کے جنونی طالب علم نے دس طلبہ کی جان لے لی۔ اب اسے بچانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں اس حوالے سے پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے دانست میں مسئلہ حل کردیا۔ کہتے ہیں کہ انتہا پسندانہ رجحانات عالمی مسئلہ ہیں ان کی وجوہات تلاش کرکے تدارک کی ضرورت ہے۔ لیجیے مسئلہ حل ہوگیا۔ دنیا 25 برس سے انتہا پسندی کی تعریف نہیں کرپارہی، ایسے رجحانات کے اسباب کو کیا تلاش کرے گی۔ کشمیریوں فلسطینیوں کے نزدیک جو چیز حریت پسندی ہے بھارت اور اسرائیل کے نزدیک وہ دہشت گردی ہے۔ افغان طالبان اپنے ملک سے غیر ملکی افواج کو نکال رہے ہیں، امریکیوں کے نزدیک یہ دہشت گردی ہے۔وزیراعظم کے اس بیان کے ساتھ ہی ایک اور پاکستانی خون مٹی میں مل کر ضائع ہوگیا۔ پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ بھی ٹیکساس اسکول میں ہونے والی فائرنگ میں جاں بحق ہوئی تھی۔ عجیب منطق ہے ہمارے حکمرانوں کی ریمنڈ ڈیوس قتل کرے تو مقتولوں کے خون کی قیمت چند ٹکے، کرنل جوزف قتل کرے تو مقتول کے خون کی قیمت کوئی نہیں۔ بعد میں خبر دی گئی کہ 50 لاکھ دیت دی گئی ہے۔ سبیکا شیخ قتل ہوجائے تو کیا جرمانہ ہوگا۔ قاتل بچ نکلے گا۔ پاکستانی حکام قاتل کو حوالے کرنے کا مطالبہ نہیں کرسکتے یہاں معاملہ سفارتی استثنا کا بھی نہیں بلکہ معاملہ صرف طاقتور اور کمزور کا ہے۔ کمزوری بھی قوموں اور عوام میں نہیں حکمرانوں میں ہے جو قوم کو بھی کمزور کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے بڑے آرام سے سبیکا اور دیگر 9 طلبہ کے قتل کو انتہا پسندانہ رجحانات کے فلسفے میں گم کردیا۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان کی ایک بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی14 برس سے امریکی قید میں ہے اس پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا پھر بھی اسے 86 برس کی سزا سنائی گئی ہے پاکستانی حکمران اس کو امریکا سے مانگنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔ ایک اور پاکستانی لڑکی ملالہ یوسف زئی پر مبینہ حملے اور فائرنگ کا واقعہ بھی ہوا لیکن پاکستانی حکمرانوں اور عالمی برادری نے اس پر قطعاً مختلف رد عمل دیا۔ ملالہ پر مبینہ حملے کو دہشت گردی، اسلامی انتہا پسندی، حقانی نیٹ ورک، طالبان اور نہ جانے کیا کیا قراردیا گیا۔ جب کہ آج تک ملالہ پر حملے، اس کو لگنے والی گولیوں اور حملہ آوروں کے بارے میں حقائق منظر عام پر نہیں آسکے۔ سبیکا کو دن کی روشنی میں قتل کیا گیا، قاتل موجود آلۂ قتل دستیاب دیگر 9 طلبہ ہلاک لیکن یہ عالمی رجحان قرار پایا۔ ملالہ پر مبینہ حملہ عالمی رجحان قرار کیوں نہیں پایا۔ عافیہ کے معاملے میں عالمی رجحان کو مد نظر کیوں نہیں رکھا گیا پھر یہ بھی اتفاق ہے یا اس کی بھی کوئی منطق ہے کہ جس روز سبیکا شیخ کی موت کی خبر پاکستانی اخبارات کی زینت بنی اسی روز یہ افواہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی کہ عافیہ صدیقی کا دوران قید انتقال ہوگیا۔ یہ خبر پھیلانے کے بھی مقاصد ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دیکھا جائے پاکستانی قوم میں کتنی غیرت باقی ہے۔ ایک مہینے میں کیا کیا دکھایا گیا ایک کرنل پاکستانی نوجوان کو کچل کر چلا گیا۔ ایک پاکستانی طالبہ امریکی دہشت گرد کی فائرنگ سے شہید ہوگئی ایک پاکستانی لڑکی 14 سال سے امریکی قید میں ہے اس کی موت کی خبر آگئی۔ لیکن پاکستانی حکمران اور پورا ملک ٹھنڈا رہا۔ رفتہ رفتہ امت کو تو سلاچکے اب پاکستانیت کو بھی سلایا جارہاہے۔ جنرل پرویز پوچھتے تھے کہاں ہے امت۔سب سے پہلے پاکستان۔۔۔ اب کون پوچھے گا کہاں ہے پاکستانیت۔ پاکستان کی بیٹیاں قید میں ہیں امریکا میں قتل کی جارہی ہیں ان کے لیے کوئی آواز کیوں نہیں اٹھ رہی۔ امریکی جاسوس پاکستانیوں کو قتل کر گیا اس کو ملک سے نکال دیا گیا۔ امریکی کرنل نے پاکستانی کو روند دیا اسے تمام اخلاقیات، قوانین اور سفارتی قوانین کو روندتے ہوئے ملک سے جانے دیاگیا، لے دے کر اسلامی جمعیت طلبہ کے جوان امریکی قونصلیٹ پہنچے اور باقی سب نے پریس کلبوں کا رخ کیا یا پھر اخباری بیانات پر اکتفا کیا۔ اگر یہی رویہ رہا تو پنجاب، سندھ، پھر کراچی، لاہور، پشاور اور اس کے بعد علاقے محلے تک تقسیم ہوجائے گی۔ پاکستانیت ہی کو جگالیا تو امت مسلمہ اس کے نظریے میں پنہاں ہے وہ خود جاگ جائے گی۔ حکمرانوں سے کوئی توقع نہیں وہ صرف عدالتوں سے جنگ لڑنے میں مصروف ہیں ان کو اس کی فکر نہیں کہ پاکستا ن کے ساتھ دنیا میں کیا ہورہاہے اور دنیا پاکستان کے ساتھ کیا کررہی ہے۔ہر روز اخبارات میں عدلیہ اور فوج کے خلاف بیانات جواباً غداری کے تمغے دیے جارہے ہیں۔ ایک کو خلائی مخلوق کہا جارہاہے لیکن یہ بھی تو مریخی مخلوق ہے جو اس ملک کی اسمبلیوں اور وزارتوں تک پاکستانی ہے اس کے بعد لوٹ مار اور دولت سمیٹ کر مریخ ہی چلے جاتے ہیں۔ انہیں بجلی، پانی، گیس کے بحرانوں کی فکر بلکہ اس کا احساس بھی نہیں۔ ایک مرتبہ پھر پاکستانی قوم کو موقع مل رہا ہے انتخابات میں ایسے لوگوں کو اسمبلیوں میں پہنچائیں جو کم از کم پاکستان کے وقار کو تو بلند کرسکیں۔ ان خلائی اور مریخی مخلوقوں نے ملک کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔

بشکریہ جسارت