June 24th, 2018 (1439شوال10)

پاک بھارت مشترکہ جنگی مشقیں…. شرمناک فیصلہ

 

 

ملک الطاف حسین

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے دفاع نے گزشتہ دنوں امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کے لیے اور مشترکہ کمیونٹی بنانے کے لیے شنگھائی اسپرٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’امن مشن 2018ء) کے نام سے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت مشترکہ فوجی جنگی مشقیں ہوں گی، جن میں پاکستان، بھارت، چین اور روس سمیت 8 ممالک شریک ہوں گے۔ فوجی مشقیں اگست سے ستمبر میں ہوں گی، جن کی میزبانی روس کرے گا، بھارتی اور امریکی میڈیا کے مطابق تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور بھارت کی افواج دہشت گردی کے خاتمے، دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو بے اثر کرنے اور جنگ کی تیاریوں کو جانچنے کے علاوہ ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے مشترکہ مشقیں کریں گی۔
’’شنگھائی تعاون تنظیم‘‘ کے بیجنگ اجلاس میں پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر نے شرکت کی، بھارت کے وزیر دفاع نرملہ سیتارامن نے مذکورہ فوجی مشقوں میں بھارت کی شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا جب کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے بھی 25 اپریل کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے فیصلے کے تحت چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بھارت کے ساتھ مشترکہ مشقوں میں پاکستان شامل ہوگا جن کی تفصیلات بعد میں بتائی جائے گی۔ یاد رہے کہ اِس خبر کے ساتھ دو دیگر اہم خبریں بھی موجود ہیں اور وہ یہ کہ اس دوران بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی چین کے دورے پر جب کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ روس کا دورہ کررہے تھے۔
کسی بھی ملک کی فوج اُس ملک پر محض بیرونی جارحیت کو روکنے یا یہ کہ ملک کے اندر اور باہر ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہی نہیں ہوتی کہ جن سے ملک کا دفاع اور سلامتی متاثر ہونے کا خطرہ ہو بلکہ مذکورہ اہداف کے ساتھ ساتھ ہر ملک کی فوج اپنے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی بھی محافظ ہوا کرتی ہے۔ پاک فوج دنیا کی تمام افواج میں ایک منفرد اور ممتاز مقام رکھتی ہے۔ یہ دنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے، عالم اسلام کی پہلی فوج ہے جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے روانہ ہونے والے عالمی امن مشنز میں اس فوج کی خدمات سب سے زیادہ ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی حالیہ جنگ میں پاک فوج کی قربانیاں امریکی و ناٹو افواج کی مجموعی قربانیوں سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ جب کہ ’’جہاد افغانستان‘‘ کے ذریعے پاک فوج نے عالمی امن کی حفاظت اور سرد جنگ سے امریکا و مغربی یورپ سمیت آدھی دنیا کو نکالنے کے لیے ناقابل فراموش قربانیاں دیں اور یادگار کامیابی حاصل کیں۔
پاکستانی فوج نے کبھی بھی کسی جنگی محاذ پر شکست نہیں کھائی، البتہ عالمی طاقتوں کی سازشوں، جرنیلوں کی حماقتوں اور بزدل حکمرانوں کی وجہ سے اکثر جیتے ہوئے محاذوں سے واپس ہونا پڑا۔ 1965ء کی جنگ میں امریکا نے پاکستان کی فوجی امداد بند کردی اور دباؤ ڈالا کہ پاک فوج مزید پیش قدمی نہ کرے جب کہ روس نے معاہدہ تاشقند کے ذریعے جنرل ایوب خان کو مجبور کیا کہ وہ بھارت کے قبضہ کیے ہوئے تمام علاقے واپس کردے، 65ء کی جنگ محض 15 دن تک لڑی گئی تھی اگر مزید 15 دن تک جاری رہتی تو مقبوضہ کشمیر آزاد ہوجاتا۔ اسی طرح 71ء کی جنگ میں روس نے بھارت کی بھرپور فوجی مدد شروع کی۔ امریکا نے مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے ساتواں بحری بیڑی بھیجنے کا اعلان کیا مگر عملاً بحری بیڑہ نہ پہنچا اور یہاں تک کہ ڈھاکا میں بھارتی فوجیں داخل ہوگئیں۔ کارگل کی جنگ بھی اگر مزید دو ہفتے جاری رہتی تو سیاہ چن اور مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کو حیران کن کامیابیاں مل جاتیں، تاہم یہاں پر بھی امریکی دباؤ پر ’’معاہدہ واشنگٹن‘‘ کے ذریعے فوج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ اس تمام صورت حال کا بظاہر جائزہ تو یہی ہے کہ امریکا ، روس اور بھارت کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے پاکستانی فوج کو ہمیشہ آگے بڑھنے سے روکا گیا لیکن اس جائزے کے ساتھ یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل اے کے نیازی، جنرل پرویز مشرف، ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مجیب الرحمن اور میاں نواز شریف بھی اُن ناکامیوں کے براہ راست ذمے دار ہیں جو پاک فوج کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود کامیابیوں میں تبدیل نہ کی جاسکیں۔
عالمی سامراجی قوتوں نے ایک بار پھر پاک فوج پر ایک نئے انداز سے حملہ کرنے کی کوشش کی ہے، ماضی میں جو کام روس اور امریکا مل کر کرتے رہے اب وہ کام روس اور چین سے لیا جانے والا ہے اور وہ یہ ہے کہ کس طرح سے شیر اور بکری کو ایک ہی گھاٹ پر پانی پلایا جائے۔ ان کی یہ سوچی سمجھی سازش ہے کہ پاکستان اور بھارت کی ’’فوجی
قیادت‘‘ کو ایک دوسرے کے قریب کردیا جائے جس کے لیے مشترکہ جنگی مشقوں کا جال بچھایا گیا ہے۔ 8 ملکوں کی فوجی مشقیں جن کی میزبانی روس کرے گا، چین استقبالیہ پڑھے گا، بھارت اور پاکستان کے فوجی دستے بغلگیر ہوں گے اور بقیہ چار ممالک بینڈ بجائیں گے۔ مشترکہ جنگی مشقیں جو خطہ میں قیام امن اور انسداد دہشت گردی کے نام پر کی جانے والی ہیں ان میں شریک ممالک کی قیادت کا سب سے بڑا جھوٹ اور دھوکا یہ ہے کہ ’’انسداد دہشت گردی کی جنگ‘‘ کی تشریح اور اہداف پر ان کے درمیان کوئی اتفاق نہیں کیوں کہ امریکا اور ناٹو دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کی جنگ کا جو نقشہ کھینچتے ہیں چین، روس اور پاکستان اُس سے اختلاف رکھتے ہیں۔ مجوزہ مشترکہ جنگی مشقوں میں شریک 8 ممالک کہتے ہیں کہ افغانستان کے بحران کا کوئی فوجی حل نہیں لیکن وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ افغانستان سے امریکی فوجیں انخلا کرجائیں۔ سوال یہ ہے کہ جب افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے تو پھر افغانستان پر غیر ملکی کیوں مسلط رہیں۔ خطے کے امن و استحکام کے لیے امریکی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جارہا؟۔ صاف مطلب ہے کہ بالفاظ دیگر روس، چین، بھارت اور پاکستان سمیت شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک افغانستان میں امریکی و ناٹو افواج کی موجودگی پر کوئی درپردہ ڈیل کرچکے ہیں یا کرنے والے ہیں، امریکی فوج افغانستان میں کب تک موجود رہے گی، اس کی موجودگی سے خطہ کے ممالک کیا اور کس طرح کے فائدے اٹھا پائیں گے یقیناًخفیہ سفارت کاری کے ذریعے ان کے معاملات کو ڈیل کیا جارہا ہوگا۔ جن میں سی پیک، مسئلہ کشمیر اور افغانستان کی تعمیر نو سرفہرست ہوں گے۔ سی پیک پر بھارت اور امریکا کے تحفظات کو دور کرنا، مسئلہ کشمیر پر چین اور روس کا مشترکہ موقف کی جانب آگے بڑھنا جو بھارت کو سپورٹ کرے، افغانستان کے اندر تعمیر نو اور دیگر تجارتی منصوبوں میں بھارت کو چین کے توسط سے داخل کرنا تا کہ پاکستان کوئی اعتراض نہ کرسکے وغیرہ وغیرہ۔
سی پیک اور افغانستان کے معاملات پر جو بھی ڈیل ہورہی ہے اُس کو کچھ وقت کے لیے نظر انداز کیا جاسکتا ہے تاہم ’’مسئلہ کشمیر‘‘ پر کسی بھی طرح کی ڈیل کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں بھارت کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کا کوئی جواز نہیں، شنگھائی تعاون تنظیم کا کوئی بھی ایسا فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا جس کی رُو سے پاکستان کے دفاع، سلامتی اور نظریے کے بنیادی اہداف متاثر ہوتے ہوں۔ پاک بھارت کشیدگی کا بنیادی تنازع ختم کرائے بغیر پاکستانی فوجی دستے بھارتی فوجی دستوں کے ساتھ ایک ہی ٹرک اور ٹینک پر بیٹھ کر مشترکہ جنگ مشقوں میں شریک ہوں انتہائی افسوسناک اور شرمناک فیصلہ ہے اور اگر اس فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو پھر قوم حق بجانب ہوگی۔ وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ بیجنگ اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ ماسکو کے درمیان مزید کڑیاں ملانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ آخر وہ کون سا خارجی دباؤ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی اور آئے دن کشمیری مسلمانوں کی شہادتوں کی خبریں سننے کے باوجود پاک بھارت مشترکہ فوجی مشقوں کا شیڈول طے کیا جارہا ہے، بھارت کی 7 لاکھ فوج نے مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیری مسلمانوں کے خلاف جس طرح کا ظالمانہ کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے کیا اس کے علاوہ بھی دہشت گردی کی کوئی دوسری مثال اور محاذ ہوسکتا ہے جہاں پر پاکستانی اور بھارت کے فوجی دستے مشترکہ مشقیں کرسکیں۔ کیا مسئلہ کشمیر حل کرائے بغیر جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کی کوئی دوسری صورت ہوسکتی ہے، اگر پاک فوج پاکستان پر تین مرتبہ جارحیت کرنے اور مشرقی پاکستان توڑنے والی فوج کے ساتھ مل کر جنگی مشقیں کرے گی تو پھر جنگ کس سے ہوگی، مقبوضہ کشمیر جو پاکستان کا حصہ اور شہہ رگ ہے اُسے آزاد کون کرائے گا۔ 70 برس سے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ رکھنے، مشرقی پاکستان توڑنے، لاکھوں بنگالی اور کشمیری مسلمانوں کا قتل عام کرنے والی فوج کے ساتھ کھڑے ہو کر ’’مشترکہ دشمن‘‘ کے خلاف جنگی مشقیں کرنا کہاں کی عقل اور کیسی دلیل ہے، بھارت اگر دشمن نہیں تو پھر ہماری فوج کا دشمن کون ہے؟؟۔
بہرحال وزیردفاع خرم دستگیر جیسے بے ضمیر لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ ہی شنگھائی تعاون تنظیم ایسا کوئی ادارہ ہے جس کے بغیر پاکستان چل نہیں سکتا، اس لیے بہتر ہوگا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب اور جی ایچ کیو بھارت کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے فوری واپس لیں اور تنظیم کو ان الفاظ کے ساتھ آگاہ کردیں کہ ’’پاکستان کے ساتھ ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر آئے روز حملوں کے علاوہ مقبوضہ کشمیر بے رحم تشدد اور قتل عام کرنے والی بھارتی فوج کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں میں شریک ہونا پاک فوج کے لیے ممکن نہیں‘‘۔اللہ ہماری مدد اور نصرت کے لیے کافی ہے۔ آمین ثم آمین۔