ووٹ کی عزت | Jamaat-e-Islami Women Wing
August 19th, 2018 (1439ذو الحجة7)

ووٹ کی عزت

 

نا اہل قرار دیے گئے میاں نواز شریف مسلسل گردان کررہے ہیں کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘ اسے عزت مل جائے تو ملک ٹھیک ہوجائے گا‘‘۔ ووٹ کے بجائے ووٹر کو عزت دینے کی بات کی ہوتی تو بہتر تھا۔ عزت و ذلت دینے والا تو اﷲ ہی ہے جس نے میاں صاحب کو تین بار عزت دی لیکن خود میاں صاحب کی حکومت نے خود ووٹ کی ذلت کا سامان فراہم کردیا۔ جمعہ کو بجٹ پیش کرنے سے پہلے ایک غیر منتخب شخص مفتاح اسماعیل کو جس کے پاس عوام کا ایک ووٹ بھی نہیں تھا، بیک جنبش قلم وفاقی وزیر خزانہ بنادیا۔ کیا یہ ووٹ کو عزت دی گئی یا تمام منتخب ارکان قومی اسمبلی کی ذلت کا سامان کیا گیا۔ چونکہ بجٹ پیش کرنا تھا اس لیے مشیر خزانہ کو خزانے کا قلمدان تھمادیا گیا۔ ظاہر ہے کہ یہ غیر معمولی اقدام نواز شریف کی ہدایت کے بغیر تو نہیں کیا گیا ہوگا۔ ن لیگ کی حکومت کے پاس منتخب ارکان اسمبلی کی کمی تو نہیں ہے پھر محض بجٹ پیش کرنے کے لیے مفتاح اسماعیل کے سر پر یہ سہرا کیوں سجایاگیا۔ بجٹ کا تالا کھولنے کے لیے مفتاح کو آگے کردیاگیا۔ اس اقدام کے بعد اب بہتر ہوگا کہ میاں نواز شریف ووٹ کو عزت دینے کی بات نہ کریں کیونکہ مفتاح اسماعیل کے پاس عوام میں سے کسی کا ووٹ نہیں ہے، البتہ صرف میاں نواز شریف کا ووٹ ہوگا چنانچہ اب نعرے میں تبدیلی کرلی جائے کہ صرف میرے ووٹ کو عزت دو۔ ن لیگ کی حکومت چند دن کی رہ گئی ہے اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بقول، بد قسمتی سے کسی اور پارٹی کی حکومت بھی آسکتی ہے جو بجٹ میں رد و بدل کرسکتی ہے۔ لیکن ن لیگ کی حکومت نے جاتے جاتے وزارتوں کی لوٹ سیل لگادی اور چار ارکان نے وفاقی وزیر کا حلف اٹھالیا، ان کے علاوہ ایک وزیر مملکت بھی ہیں۔ ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ اگر مرکز میں کوئی بڑی تبدیلی آئی تو یہ افراد اپنے نام میں سابق وفاقی وزیر کا لاحقہ لگاسکیں گے۔ نئے وزرا کے تقرر کے لیے کچھ انتظار کرلیا ہوتا، اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں۔ اصولی طور پر تو چند دن کی حکومت کو اگلے سال کا بجٹ بھی پیش نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن پیش کردیاگیا۔ اس پر احتجاج ہوتا رہے گا اور جمعہ کو بجٹ اجلاس میں مار پٹائی تک کی نوبت آگئی تھی۔ شاید یہی جمہوریت ہے۔ میاں نواز شریف بار بار یہ اشارے دے رہے ہیں کہ وہ جیل جانے والے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ جمعرات کو پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کہاکہ جیل چلاجاؤں تو کارکن مایوس نہ ہوں، حالات جیسے بھی ہوں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ میاں نواز شریف یہ مشورہ کارکنوں کو دینے کے بجائے اپنے آپ کو دیں کہ مایوس نہ ہوں، حوصلہ رکھیں۔ اس بات کا امکان تو نہیں ہے کہ نواز شریف کو جیل بھیج دیا جائے گا لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ کسی لیڈر کے جیل جانے پر کارکن بھی اپنے اپنے کام میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ بھٹو جیسے مضبوط لیڈر کے جیل جانے کے بعد ان کے بہت قریبی ساتھی بھی ادھر ادھر ہوگئے اور کوئی بڑا احتجاج نہیں ہوا۔ بھٹو کے وزیر قانون حفیظ پیرزادہ جن کو وہ ’سوہنا منڈا‘ کہتے تھے، نئی شادی رچاکر کہیں اور مصروف ہوگئے۔ میاں صاحب کو تو اس بات کا تین مرتبہ تجربہ ہوچکا ہے۔ انہیں جب پرویز مشرف نے جیل میں ڈالا اور پھر جلاوطن کردیا تو ن لیگ کے کتنے کارکن سڑکوں پر آئے۔ وہ 10 سال کا معاہدہ کرکے سعودی عرب کی پناہ میں گئے تھے۔ بیچ میں وہ معاہدے کی خلاف ورزی کرکے پاکستان واپس آئے تو انہیں گمان تھا کہ ہوائی اڈے پر ان کے استقبال کے لیے اتنا بڑا مجمع ہوگا جس کے سامنے حکومت بے بس ہوجائے گی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ جیسے آئے تھے ویسے ہی واپس کردیے گئے۔ میاں نواز شریف بار بار کہہ رہے ہیں کہ کسی وزیراعظم کو پھانسی پر چڑھادیا گیا اور کسی کو برطرف کردیاگیا۔ ایسا ہوا اور بہت افسوسناک ہوا لیکن میاں صاحب یہ ضرور بتائیں کہ جب بھٹو کو جنرل ضیا الحق نے جیل میں ڈالا اور پھر عدالت کے ذریعے پھانسی دلوائی تو اس وقت میاں صاحب کس کے ساتھ کھڑے تھے۔؟ نواز شریف کہتے ہیں کہ جو اربوں کھا گئے ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں، بس میرے پیچھے پڑے ہیں۔ لیکن میاں صاحب! آپ تو کئی بار حکومت میں آچکے ہیں، جولائی 2017ء سے پہلے تک بھی آپ ہی کی حکومت تھی اور اب بھی شاہد خاقان عباسی کے نام پر آپ ہی کا سکہ چل رہا ہے، حکومت ن لیگ ہی کی ہے۔ تو میاں صاحب! یہ جو اربوں کھا گئے کیا ان کی گرفت کرنا، ان کا حساب لینا آپ کا کام نہیں تھا؟ آپ بتائیں کہ آپ نے کیا کیا۔ آج روزانہ اربوں روپے کے گھپلے سامنے آرہے ہیں، یہ کوئی جولائی 2017ء کے بعد کا قصہ تو نہیں۔ کیا آپ نے ان لٹیروں کے گریبان پر ہاتھ ڈالا؟ ہرگز نہیں۔ لیکن اربوں روپے کھاجانے والوں میں تو بہت سے آپ کے اپنے بھی ہیں۔ آپ ہی کے دور میں اربوں روپے کے قرضے معاف کرائے جاتے رہے۔ شریف برادران کے دور میں ان کی شوگر ملوں کی تعداد بڑھتی رہی، بجلی، پیٹرول، اشیائے ضرورت، سب مہنگی ہوتی گئیں اور عوام کی زندگی مشکل تر ہوگئی۔ ایسے میں یہ توقع عبث ہے کہ عوام آپ کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔ آپ نے تو خود ووٹ اور ووٹر کو بے توقیر کردیا۔