October 19th, 2018 (1440صفر9)

کالا دھن قلعی کرالو

 

 غزالہ عزیز 

ہمارے بھولے وزیراعظم نے لوگوں کو ٹیکس دینے پر آمادہ کرنے کے لیے ایک پرکشش رعایتی اسکیم متعارف کروائی ہے۔ اس اسکیم کو متعارف کراتے ہوئے ہمارے بھولے وزیراعظم نے ٹیکس دہندگان کی تعداد 12 لاکھ سے بڑھ کر 30 لاکھ تک پہنچ جانے کی اُمید ظاہر کی ہے۔ اس کے تحت انکم ٹیکس کی انتہائی شرح 35 فی صد سے کم کرکے 15 فی صد کردی گئی ہے۔ لہٰذا اب جس کی آمدنی ایک لاکھ روپے ماہانہ ہے اُسے کوئی انکم ٹیکس نہیں دینا پڑے گا۔ لہٰذا 7 لاکھ رجسٹرڈ ٹیکس دینے والوں میں 5 لاکھ 22 ہزار افراد فوری طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر نکل گئے۔ ان 5 لاکھ 22 ہزار افراد کو خوش ہونے کا مکمل حق ہے لیکن بچ جانے والے 2 لاکھ 78 ہزار ٹیکس دہندہ کا قصور کیا ہے؟؟۔ پھر ٹیکس اصلاحات کے تحت جن پاکستانیوں کے اثاثے ملک سے باہر ہیں وہ صرف 2 فی صد جرمانے کی ادائیگی کے بعد اس ایمنسٹی اسکیم کے تحت ٹیکس کی چھوٹ سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ البتہ سیاست دان اس سہولت سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے تو سیاستدان کون سے اپنے نام سے باہر اثاثے رکھتے ہیں۔ ملک کے اندر بھی اثاثے چھپانے والے صرف 5 فی صد جرمانہ ادا کرکے ٹیکس نیٹ کا حصہ بن سکیں گے۔ وزیراعظم کو اُمید ہے کہ اس اسکیم کے بعد پاکستان میں 3 کروڑ ٹیکس دہندہ ہوں گے۔
فی الحال تو یہ ہوا ہے کہ 7 لاکھ رجسٹرڈ ٹیکس دینے والوں میں سے کم ہو کر صرف 2 لاکھ 78 ہزار رہ گئے ہیں۔ اب ان کو 3 کروڑ کیسے بنایا جاسکے گا؟ یہ بلین ڈالر کا سوال ہے لیکن اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ہی وزیراعظم کی حکومت ختم ہوجائے گی۔ اسحاق ڈار جن کا شمار نواز شریف کے کلیدی ساتھیوں میں ہوتا تھا، اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے اور نواز شریف نے اپنی پہلی ترجیح معیشت کو قرار دیا تھا۔ لیکن اُن کی حکومت کے آخری دور میں اس ترجیح اور اُس کے اثرات دور دور تک نظر نہیں آرہے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ مالیاتی خسارے بڑھ گئے ہیں، کرنسی کی قدر کم ہوگئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بھی تیزی سے کم ہورہے ہیں۔ یہاں تک کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان کے بڑھتے ہوئے خسارے اور ادائیگیوں کے عدم توازن پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ آج اسحاق ڈار بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمے بھگت رہے ہیں۔ بستر علالت پر بھی وہ استعفا دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ لہٰذا انہیں چھٹی کی درخواست دینے پر آمادہ کیا گیا۔ کچھ حلقوں کی طرف سے ملک کا نہیں شریف خاندان کے وزیر خزانہ بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ نواز شریف کے تینوں اقتدار میں اسحاق ڈار اہم ترین عہدوں پر فائز رہے۔ اسحاق ڈار کے خلاف ذرائع آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے سے متعلق مقدمہ احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ بھی پہلا واقعہ تھا کہ عہدے پر قابض وزیر خزانہ کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی، اسحاق ڈار نے دباؤ کے تحت 20 نومبر 2017ء میں وزیراعظم کو چھٹی کے لیے خط لکھا۔ اس طرح آخر کار شاہد خاقان عباسی نے ان کے لیے چھٹی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان سے وزارت خزانہ کا قلم دان واپس لے لیا۔ وسط دسمبر میں احتساب عدالت نے ان کی میڈیکل رپورٹیں مسترد کرکے انہیں اشتہاری قرار دے دیا تھا۔ ساتھ ہی انٹرپول کے ذریعے انہیں گرفتار کرکے پاکستان واپس لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن چار ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس پر عمل نہیں ہوپایا۔
ان حالات میں وزیراعظم نے بڑی سوچ بچار کے بعد اپنی اقتصادی ٹیم بنائی، وزیر خزانہ کے بجائے مفتاح اسماعیل کو مشیر برائے اقتصادی امور اور رانا افضل کو وزیر مملکت برائے خزانہ تعینات کیا گیا۔ لیکن یہ ٹیم کیا کرسکے گی؟ جب کہ مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیراعظم اسحاق ڈار کے چلے جانے سے قومی معیشت کا پہیہ رُک جانے کی بُری خبر سنا رہا ہے اور موجودہ وزیر اعظم اس کی بہتری کی نوید سنا رہے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا عوام کس کی بات کا یقین کریں؟؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت کی مدت ختم ہونے سے چند ہفتے قبل ایسی اسکیم متعارف کروانے کا مقصد انتخابات کے لیے باہر سے کالا پیسہ ملک کے اندر لا کر سفید کرنا اور انتخابات میں استعمال کرنا ہے۔