October 24th, 2017 (1439صفر3)

کیا ہم امریکہ کے بعد چین کے غلام ہوں گے؟

 

شاہنوازفاروقی
ٓپنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین اپنے تعاون کی کوئی قیمت نہیں مانگتا۔وہDo Moreکی تکرارکرتا ہے اور نہ ہی اس نے اپنے اتحادیوں سے کبھی فوجی اڈے اورایئربیس مانگے ہیں۔
شہبازشریف کے اس بیان کا مفہوم عیاں ہے۔شہبازشریف نےاس بیان میں امریکہ کانام نہیں لیالیکن تاریخ شاہد ہےکہ امریکہ نے ہمیشہ ہم سے اپنے تعاون کی قیمت طلب کی ہے۔جنرل پرویزمشرف نےامریکہ کے لیے پاکستان کوتباہ وبربادکردیا۔انھوں نےامریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کوگودلے کر اپنے پچاس ہزارشہری اور فوجی مروادیے۔انھوں نے16سال میں پاکستان کا 100ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان کردیا،مگر اس کے باوجودامریکہ پاکستان سے Do Moreکاتقاضاکرتا رہتا ہے۔یہ حقیقت بھی راز نہیں کہ امریکہ نے برسوں تک ہمارے ہوائی اڈے استعمال کیے ہیں اور ہمارے کئی فوجی اڈے امریکہ کے زیرانتظام رہے ہیں۔شہباز شریف نے اپنے بیان میں انہی تمام امور کی نشاندہی کی ہے۔لیکن اب بھی انہیں امریکہ کانام لے کر بات کرنے کی جرات نہیں ہوئی ،لیکن شہبازشریف کے بیان سے اتنی حقیقت ظاہر ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ محسوس کررہا ہے کہ ہم آہستہ آہستہ سہی،امریک کے اثر سے نکل رہے ہیں ۔لیکن پاکستان کے فوجی اورسول حکمرانوں کی تاریخ شرمناک، المناک اور ہولناک ہے۔
اس تاریخ کا لب لباب یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے امریکہ او ر یورپ کی غلامی کو ایک ’’حکمتِ عملی‘‘ ایک’’ فلسفہ‘‘اور ایک ’’عادت‘‘ میں ڈھال لیا۔چنانچہ پاکستان کے حکمران طبقے نے گزشتہ پچاس سال میں کبھی بھی امریکہ اور یورپ کی غلامی سے آزاد ہونے کی کوشش کیا خواہش بھی نہیں کی۔امریکہ نے پاکستان میں فوجی آمریت کو پسند کیا تو فوجی آمر آدھمکے۔امریکہ نے جمہوریت بحال کرنی چاہی تو ہمارے یہاں جمہوریت بحال ہوگئی۔امریکہ ہمیں سیٹواور سینٹو جیسے معاہدوں میں پھنساناچاہا تو ہم ان معاہدوں کا حصہ بن گئے۔امریکہ نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ذریعے ہماری معیشت کو قرضوں کی معشیت بنالیا۔امریکہ نے نائن الیون کے بعد ہم سے فوجی اڈے مانگے، ہم نے امریکہ کوفوجی اڈے دیے۔امریکہ نے ہماری فوج کو کرائے کی فوج کی طرح استعمال کرنا چاہا،جنرل پرویز نے لبیک کہا۔امریکہ نے ہم سے ہمارے شہری مانگے ،ہم نے پکڑ کر انھیں امریکہ کے حوالے کیا۔ جن عرب مجاہدین نے ہماراکچھ نہیں بگاڑاتھا بلکہ جنہیں ہماراحکمران طبقہ اپنااتحادی کہتا تھا،ہم نے انھیں پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا اور جنرل پرویزکے مطابق انھوں نے کروڑوں ڈالرکمائے۔یہاں تک جن طالبان کو جنرل نصیر اللہ بابر’’ہمارے بچے‘‘کہا کرتے تھے ہم نے ان کو ہی نہیں ان کے پاکستان میں سفیر مّلاضعیف کو بھی پکڑکرامریکہ کے حوالے کردیا،۔ اس کے باوجود بھی ہم امریکہ کو خوش اور مطمئن نہ کرسکے،چنانچہ امریکہ اب تک ہمیںDo Moreکاسیاسی اور عسکری ’’نغمہ ‘‘سناکر ہمارے رونگٹے کھڑے کرتا رہتا ہے،لیکن اس کے باوجود ہم نے اپنے حکمران طبقے کوکبھی امریکہ کے چنگل سے نجات حاصل کرنے کی خواہش یا کوشش کرتے نہیں دیکھا،اس وقت بھی جب امریکہ نے بھارت کو اپنا تزویزاتی شریکِ کا رقراردے کر اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی اور ساراسرمایہ اس کے حوالے کردیا۔یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ امریکہ اور یورپ کی غلامی ہمارے حکران طبقے کا’’قال‘‘نہیں ،اس کا’’حال ‘‘ہے۔اس کی حکمت عملی نہیں ،اسکی ’’نفسیاتی ضروت‘‘بلکہ’’ نفسیاتی بھوک‘‘ ہے ۔چنانچہ ایسے طبقے سے یہ اندیشہ وابستہ کرنا غلطی نہیں کہ یہ طبقہ اگر کسی طرح امریکہ اور یورپ کی غلامی سے نکل بھی گیاتو پھر یہ قوم اور ملک کو کسی اور طاقت کی غلامی میں دے دے گا ۔اس حوالے سے چین کامعاملہ ہمارے سامنے موجود ہے۔تو کیااس کا مطلب یہ ہے کہ ہم امریکہ کے بعد چین کے غلام ہوں گے؟
یہ سوال خلا میں پیدا نہیں ہوا۔اس سلسلے میں ہم اپنے حکمران طبقے کی تاریخ اور اس کی نفسیات کا سرسری طورپر ذکرکرچکے ۔اس ضمن میں رہی سہی کسرسی پیک کے حوالے سے سامنے آنے والاحکمرانوں کا رویہ ہے۔
؂اس رویے کا لب لباب یہ ہے کہ سی پیک کو شروع ہوئے دوسال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیامگرحکمرانوں نے ابھی تک سی پیک کو ایک ’’راز‘‘ بنایا ہواہے ۔سی پیک کے حوالے سے ہم اردواور انگریزی اخبارات میں سیکڑوں مضامین پڑھ چکے ہیں لیکن سی پیک پر گفتگوکرنے والے کسی شخص کو معلوم نہیں کہ سی پیک اصل میں کیا ہے؟کوئی نہیں جانتا کہ چین سی پیک کے تحت ہمیں جورقم فراہم کررہاہے وہ سرمایہ کاری ہے یا قرض،یابیک وقت دونوں ؟کوئی نہیں جانتاکہ سی پیک سے پاکستان کوکیا کیا فائدحاصل ہوں گے؟اور اگر خدامخواستہ اس کا کوئی نقصان ہے تواسکی نوعیت کیا ہے؟
اس تناظر میں روزنامہ ڈان کراچی نے اپنی 15مئی 2017ء کی اشاعت میں سی پیک کا جو ماسٹرپلان شائع کیا ہے اسے نرم سے نرم الفاظ میں دھماکا خیز کہا جاسکتا ہے۔ بلکہ نواز لیگ کے رہنمااحسن اقبال نے تواس ماسڑپلان کی اشاعت کو’’ڈان لیکس ۔ ٹو‘‘ قرار دیا ہے۔ڈان کے دعوے کے مطابق یہ ماسٹر پلان عرصے سے حکومت کے پاس موجود تھامگر حکومت نے اس کو نہ قوم کے سامنے رکھا،نہ پارلیمنٹ کے روبروپیش کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ڈان نے سی پیک کا جو ماسٹر پلان شائع کیا ہے اس میں کیا ہے؟
روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے مسودے کے مطابق چین سی پیک کے راستے میں آنے والے اہم شہروں اور مقامات کی نگرانی کرے گا۔مسودے کے مطابق خنجرات سے اسلام آباداور سکھرسے کراچی تک فائبر آپٹک لنک بچھایاجائے گا۔اس کے علاوہ سیف سٹی پروجیکٹس ہوں گے۔ان شہروں کی الیکڑونک مانیڑنگ ہوگی۔لیکن یہ مانیٹرنگ کس کے ہاتھ میں ہوگی ،چین کے پاکستان
کے؟یہ بات کسی کو معلوم نہیں ۔مسودے میں ایک مقام پر یہ بھی تحریر ہے کہ شہروں میں Nith Lifeکا اہتمام ہوگا۔سوال یہ ہے کہ اصطلاح کا کیا مفہوم ہے؟یہ اصطلاح مغرب سے آئی ہوئی ہے اور مغرب میں Nith Lifeکا مطلب شراب خانے جوئے، کے اڈے ،ڈسکوکلب اور جسم فروشی کے مراکزکی زندگی ہے۔سی پیک کے حوالے اب تک زراعت کاکہیں بھی ذکر نہیں ہورہا،لیکن ڈان نے جومسودہ شائع کیا ہے اس کے مطابق چین پاکستان میں ہزاروں ایکڑزرعی اراضی حاصل کرے گا۔زرعی شعبے سے منسلک چینی کمپنیاں پھلوں ،سبزیوں اور گندم کو محفوظ بنانے کے لیے زرعی فارمزاور فیکٹریاں قائم کریں گی۔
منصوبہ بندی کے وفاقی وزیراور نوازلیگ کے رہمنااحسن اقبال نے ڈان میں شائع ہونے والے مسودے کی تردیدنہیں کی لیکن انھوں نے اس مسودے کی اشاعت پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے سی پیک کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا۔ڈان کے بارے میں عمومی تاثریہ ہے کہ امریکہ اور بھارت نواز ہے،اور یہ بات کون نہیں جانتا کہ امریکہ اور بھارت دونوں پاکستان کوترقی کرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ احسن اقبال نے ڈان میں شائع ہونے والے مسودے کو جھوٹ کا پلندہ قرار نہیں دیا،بلکہ انکے تبصرے سے یہ حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ اسطرح کا مسودے عرصے سے موجود تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ مسودہ موجود تھا تو حکومت نے اب تک قوم کو اس سے آگاہ کیوں نہیں کیا؟ حکومت یہ کام کردیتی تو اس مسودے کی ڈان میں اشاعت کی نوبت ہی نہ آتی اور کسی ڈان لیکس ٹوکاتاثر ہی پیدا نہ ہوتا ۔اس اعتبار سے دیکھا جائے توپاکستان کا حکمراں طبقہ جس طرح امریکہ کے ساتھ اپنے سمجھوتوں اور معاہدوں کو خفیہ رکھتا رہاہے اسی طرح وہ چین کے ساتھ سمجھوتوں اور معاہدوں کو خفیہ رکھ کر آگے بڑھ رہا ہے۔یہی غلامانہ ذہنیت ہے۔یہی اپنی قوم کو دھوکے میں رکھنے کی کوشش ہے۔ اسی روییّ کو ملک وقوم کے خلاف سازش کہاجاتا ہے۔پاک چین تعلقات کی تاریخ شاندارہے۔پاکستان کے عوام کی عظیم اکثریت چین کو اپنا دوست سمجھتی ہے۔لیکن سی پیک ہویا کچھ اور..............دوست کو دوست ہی رہنا چاہیے ۔اسے ہمارا ’’آقا‘‘نہیں بننا چاہیے۔ اور اگر بدقسمتی سے ہمارادوست بھی ہمارا آقا بننے والاہے تو یہ بات قوم کی معلوم ہونی چاہیے۔قوم کو بتایاجانا چاہیے کہ امریکہ کی غلامی کا دورپانچ دس سال میں ختم ہونے والاہے،لیکن یہاں سے ایک نئی غلامی کا طوق ہماری گردنوں میں پڑاہوگا۔شہباز شریف نے چین کی اب تک کی تاریخ کے حوالے سے اچھی بات کہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ چین ہم سے اپنے تعاون کی کوئی قیمت نہیں مانگ رہا۔خدا کرے چین ہمیشہ ایساہی رہے ۔لیکن چین ابھی تک عالمی طاقت نہیں بناہے۔چین ابھی تک استعماری طاقت بھی نہیں ہے۔ لیکن جب وہ واقعتا عالمی طاقت بن جائے گا اور اپنی طاقت پراصرار کرے گا تو پھردنیااور خودہمارے ساتھ چین کا معاملہ کیا ہوگا اس بارے میں کچھ بھی کہنا دشوار ہے۔ دنیا کی تاریخ یہ ہے جو قوم بڑی طاقت بنتی ہے وہ دیکھتے ہی دیکھتے استعماری طاقت ضرور بنتی ہے۔برطانیہ ،فرانس ،جرمنی ،سوویت یونین،امریکہ اور بھارت اس کی بڑی بڑی مثالیں ہیں ۔چین انسانی تاریخ کی استثنائی مثال ہوگا اس بارے میں ہمیں مستقبل کے جواب کا انتظار کرنا چاہیے اور اس وقت تک چین سے معاملات کرتے ہوئے حکمرانوں کو ہر بات قوم کے سامنے رکھنی چاہیے ۔اصول ہے دودھ کا جلاچھاچھ کو بھی پھونک کر پیتا ہے، اور ہم دودھ کیا چھاچھ سے بھی جلے ہوئے ہیں ۔