June 20th, 2018 (1439شوال6)

قومی اداروں کی نج کاری، گیس کمپنیوں کی تقسیم قومی نقصان

 

لیاقت بلوچ سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان

سوئی نادرن گیس پائپ لائن ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے جس میں حکومتِ پاکستان براہِ راست اور بالواسطہ طور پر اکثریتی حصہ دار (ساجھے دار) ہے۔ یہ پاکستان کی گیس فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ کمپنی خود گیس فراہم کرتی ہے، یہی اس کی بنیادی ذمے داری ہے۔ جب کہ گیس کی تقسیم اور فروخت فطری طور پر ایک نقصان دہ سرگرمی ہے۔ سوئی نادرن ایک منافع بخش کمپنی ہے۔ کیوں کہ اس کی ترسیل کی آمدن گیس کی تقسیم کے دوران ہونے والے نقصانات کو پورا کر لیتی ہے۔ اب حکومتِ پاکستان نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ گیس کمپنی کو مختلف شاخوں میں تقسیم کر دیا جائے جس کے تحت گیس کی ترسیل بالکل ایک علیحدہ ادارے کے طور پر ہو جبکہ گیس کی تقسیم اور فروخت کی دو علیحدہ شاخیں بنا دی جائیں۔ جب تقسیمِ کا کاروبار بالکل علیحدہ کردیا جائے گا تو یہ شعبہ تباہ ہو جائے گا۔ جس میں چھوٹے پیمانے پر استعمال کنندگان جن میں گھریلو سارفین اور چھوٹے صنعتی اداروں کو کم پریشر کے ساتھ گیس کی فراہمی شامل ہے۔ ایس این جی پی ایل کے لیے ’’کے پی ایم جی‘‘ (Klynveld Peat Marwick Goerdeler/KPMG) نامی دْنیا کی سب سے بڑی اکاونٹس کمپنی نے اس تقسیم کاری کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اس سے ہر دو شاخوں کو اس قدر نقصان ہوگا کہ چند برس ہی میں ان کے پاس موجود تمام سرمایہ ختم ہو جائے گا۔ اس کاروبار کے دیوالیہ ہوجانے کا نتیجہ یہ بر آمد ہو گا کہ: اس کمپنی کے نصف سے زاید ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے۔ گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کو گیس سپلائی نہیں کی جائے گی۔ گیس صرف ترسیل انحصاری صارفین جن میں فرٹیلائزر، پاور پلانٹ اور سیمنٹ پلانٹ وغیرہ کو سپلائی کی جائے گی جن کے لیے زیادہ پریشر کے ساتھ ترسیل کی ضرورت ہوتی ہے؛ یہی حال سوئی سدرن کا ہوگا جس کے نتیجے میں سندھ اور بلوچستان کے گھریلو صارفین گیس کی فراہمی سے محروم رہ جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں 70 لاکھ صارفین تک گیس کی رسائی منقطع ہو جائے گی۔ ریاست کے لیے بھی اس کے نتائج تباہ کْن ہوں گے۔ کیوں کہ بلوچستان جو گزشتہ 60 برس سے اب تک پورے پاکستان کو گیس مہیا کر رہا تھا اور اب اس کے گیس کے ذخائر بہت کم رہ گئے ہیں، اسے کہا جائے گا کہ وہ اپنی انہی ذخائر سے اپنے صوبے میں گیس فراہم کرے۔ جس کا واضح مطلب یہی نکلتا ہے کہ وفاقی حکومت یہ کہے کہ اب سے تم لوگوں کے لیے ہمارے پاس کوئی گیس نہیں ہے۔ تم لوگ جہنم میں جاؤ۔ گیس کے محکمے کو مزید شاخوں میں تقسیم کرنے سے حکومت کا مقصد یہ ہے کہ وہ گیس کی ترسیل کا کاروبار اپنے منظورِ نظر افراد کو بیچ سکے جو چند صارفین کو من مانی قیمتوں پر گیس بیچ کر زیادہ سے زیادہ منافع کمائیں۔ لیسکو اور فیسکووغیرہ جیسے ادارے بنا کر یہ تقسیمِ کار واپڈا کے ساتھ بھی کی گئی تھی جس کے نتائج بد ترین رہے۔ 6 ماہ کے اندر اندر ٹرانزیکشن ایڈوائزروں کی ہائرنگ کے لیے کمپنیوں کو اشتہارات دے دیے گئے ہیں۔ حکومت اپنی ٹرم کے اختتام سے پہلے ہی ٹرانزیکشن ایڈوائزر ہائر کر لینا چاہتی ہے۔ ایک بار اگر ایسا ہوگیا تو واپسی کا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ کی وسعت اور کارکردگی کی رپورٹ کے بمطابق8637 کلومیٹر ہائی پریشر پائپ لائن، جو 6 انچ سے 42 انچ کے قطر (Diameter)پر محیط ہے۔ سال 2017ء کے دوران میں 176 نئے ٹاون اور دیہاتوں کو 6741 کلومیٹر کی سروس لائن پہنچائی گئی۔ جس کے نتیجے میں 40 لاکھ 20 ہزار 704 نئے گیس کنکشن دیے گئے ہیں۔ اس کمپنی کے موجودہ نیٹ ورک سے استفادہ ہونے والے ضلعی ہیڈ کواٹر، تحصیل ہیڈکواٹر، دیہاتوں اور ٹاؤن کی مجموعی تعداد 3543 ہے۔ سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ میں کرپشن کے چند اہم واقعات کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے سیکرٹری انڈسٹری، کامرس اور انویسٹمنٹ کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ٹاسک فورس کی جون 2013 کی کارروائی کے دوران میں پنجاب کے 8 بڑے اضلاع کے 121 افسران گیس چوری جیسی کرپشن میں ملوث پائے گئے کرپشن میں ملوث 121 افراد کی مجموعی کرپشن کی رقم 5 ارب روپے سے زاید تھی۔ تشویش ناک بات تو یہ تھی کہ جون 2013 میں پکڑے گئے عوام کے چور جنوری 2014 میں بھی اپنی ملازمت پر معمول کے مطابق تعینات تھے۔ یعنی ان کے خلاف ایسی کوئی کارروائی اس وقت تک نہیں کی گئی تھی کہ مستقبل میں قومی دولت کو بچایا جا سکے۔ فروری 2017 کی ڈان نیوز کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے 2016 کے وسط میں دیے گئے سوئی گیس کنکشن صرف اپنی پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کے ووٹ بینک بڑھانے کے لیے دیے، ایسے ارکان کی تعداد 55 ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اپنے ملک کے وسائل سے عوام کو مستفید کرنے کے بجائے اپنے چہیتوں کو نوازانے پر لگی ہوئی ہے۔ جنوری 2018 کی ڈان نیوز کے مطابق گوجرانوالہ میں کمپنی کے دفتر کے دورے کے دوران میں 2001 سے 2004 کا اہم ریکارڈ غائب تھا۔ جس میں سینئر اکاونٹ آفیسر کو 20 کروڑ روپے کی کرپشن کے الزام میں معطل کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ یہی نہیں 1988ء میں وزیر پٹرولیم و گیس رہنے والے پیپلز پارٹی کے جہانگیر بدر مرحوم نے اُس وقت ایل پی جی کا 50 فی صد کوٹا اپنی پارٹی کے سینیٹر گلزار احمد خان مرحوم، وقار احمد خان اور عمار احمد خان کی فرم کو دے کر اپنی عوام دشمنی کا ثبوت دیا تھا۔ پاکستان کے گیس کے شعبے کو بحال رکھنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے عالمی بینک کے ساتھ مل کے جو تجزیہ کیا ہے اس کے نتیجے میں درج ذیل چیلنجز سامنے آئے ہیں:۔

طلب و رسد میں اضافہ ہوا ہے۔ صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے صارفین سے وصول کی گئی قیمت کا نئے دریافت کیے گئے گیس فراہمی کے ذرائع اور ایل این جی کی لاگت سے کم ہونا؛ بڑے پیمانے پر گیس میں ہونے والے خسارے کا حساب نہ ہونا ہے۔ گیس کے انفراسٹرکچر میں ترقی کا کمتر معیار واقع ہوا ہے۔ حکومت کرپشن کے خلاف عدالت عظمیٰ کا ساتھ دینے کے بجائے محاذ آرائی اور کرپشن کے نئے پھاٹک کھول رہی ہے جب کہ حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہے اس کی آئینی مدت کے ڈھائی ماہ رہ گئے ہیں جب کہ وہ سوئی نادرن، سوئی گیس کمپنیوں، پی آئی اے، اسٹیل ملز کی نج کاری کرنے کا خوفناک اور ہولناک عمل مکمل کرنے کا ہے جو قومی اثاثوں اور خزانے پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ قومی اداروں کی نج کاری کا عمل ترک کیا جائے اور موجودہ نظام ہی بحال رکھا جائے (یعنی شاخوں میں تقسیم نہ کیا جائے) پنجاب خیبر پختون خوا اور فاٹا آزاد جموں کشمیر اور شمالی علاقہ جات جب کہ سندھ اور بلوچستان پر مشتمل جنوبی علاقوں کے صارفین کو قدرتی گیس کی ترسیل اور تقسیم کرنے کی ذمے داری سوئی سادرن گیس پائپ لائن کو دی جائے۔