July 21st, 2018 (1439ذو القعدة8)

کیپ ٹاؤن شہر نہیں . . . آخری وارننگ ہے!

 

وسعت اللہ خان

کیپ ٹاؤن کا نام تو آپ نے سنا ہوگا۔اس کا شمار براعظم افریقہ کے متمول ترین شہروں میں ہوتا ہے۔جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ اسی شہر میں قائم ہے۔دنیا کے کئی ارب پتیوں نے یہاں املاک خریدی ہوئی ہیں۔نیلا بحر اوقیانوس مٹیالے بحرِ ہند سے کیپ ٹاؤن کے کناروں پر ہی گلے ملتا ہے۔
پینتالیس لاکھ آبادی ہر جدید اور خوشحال شہر کی طرح دو طبقات میں بٹی ہوئی ہے۔ خادم اور مخدوم۔ جو مخدوم ہیں وہ بہت ہی مخدوم ہیں۔سب کے رنگ صاف اور تمتماتے ہوئے۔ زندگی کا محور بڑے بڑے سوئمنگ پولز والے ولاز ، سایہ دار گلیاں، تازہ ماڈل کی گاڑیاں، فارم ہاؤسز ، کارپوریٹ بزنس اور پارٹیاں۔ شہر کے اسی فیصد آبی وسائل بیس فیصد مخدوموں کے زیرِ استعمال ہیں اور باقی اسی فیصد خدام کو بیس فیصد پانی میسر ہے۔
دس برس پہلے کچھ پاگل ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ بڑھتی آبادی ، اوور ڈویلپمنٹ ( اس کا اردو ترجمہ میں نہیں کر سکتا ) اور ماحولیاتی تبدیلی جلد ہی کیپ ٹاؤن کو ناقابلِ رہائش بنا دے گی۔ظاہر ہے یہ وارننگ سن کر سب ہنس پڑے ہوں گے۔
اب سے تین برس پہلے تک کیپ ٹاؤن کشل منگل تھا۔شہر کی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے گرد و نواح میں چھ ڈیموں کے ذخائر میں ہر وقت پچیس ارب گیلن پانی جمع رہتا تھا۔امرا کو ہر ہفتے سوئمنگ پول میں پانی بدل دینے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔کتوں کو بھی روزانہ دو بار پھواری غسل دینا معمول تھا۔کار تو ظاہر ہے روزانہ دھلتی ہی ہے ، باغ کو مالی پانی نہیں دے گا تو مالی کی ضرورت کیا۔
پھر کرنا خدا کا یوں ہوا کہ خشک سالی آ گئی ، آبی ذخائر بھرنے والے پہاڑی، نیم پہاڑی اور میدانی نالوں کی زبانیں نکل آئیں۔دھیرے دھیرے پچھلے برس اگست سے آبی قلت کیپ ٹاؤن کے ہر طبقے کو چبھنے لگی۔دسمبر تک یہ آبی ایمرجنسی میں بدل گئی اور آج حالت یوں ہے کہ کیپ ٹاؤن کا حلق تر رکھنے والے چھ بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح چوبیس فیصد رہ گئی۔جب یہ دس فیصد پر پہنچ جائے گی تو پانی عملاً کیچڑ کی شکل میں ہی دستیاب ہوگا۔
چنانچہ آبی مارشل لا نافذ کرنا پڑ گیا ہے۔جن آبی ذخائر اور نالوں میں فی الحال رمق بھر پانی موجود ہے وہاں آبی لوٹ مار، ڈکیتی ، پانی کی چھینا جھپٹی اور چوری روکنے کے لیے مقامی پولیس کا اینٹی واٹر کرائم پٹرول متحرک ہے۔غربا کو پانی کی فراہمی کے لیے دو سو ہنگامی آبی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں سے پچاس لیٹر روزانہ فی کنبہ راشن حاصل کیا جا سکتا ہے ( یہ پانی آٹھ منٹ تک باتھ شاور سے گرنے والے پانی کے برابر ہے )۔
سوئمنگ پول ، باغبانی اور گاڑیوں کی دھلائی قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے۔فائیو اسٹار ریسٹورنٹس پیپر کراکری استعمال کر رہے ہیں۔اچھے ہوٹلوں میں دو منٹ بعد شاور خود بخود بند ہو جاتا ہے۔یہ بحران مزید سنگین جولائی تک ہوگا جب پہلے ہفتے میں ڈے زیرو آ جائے گا۔ڈے زیرو کا مطلب ہے استعمالی پانی کی نایابی۔حکومت ابھی سے ڈے زیرو سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔
کیپ ٹاؤن دنیا کا پہلا ڈے زیرو شہر بننے والا ہے۔ اس کے پیچھے ایک سو انیس اور شہر کھڑے ہیں۔ان میں بھارت کا آئی ٹی کیپٹل بنگلور اور پاکستان کا کراچی ، لاہور اور کوئٹہ بھی شامل ہے۔آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں۔ سنبھلنے کی مہلت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
مگر جس ریاست میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل منچھر زہر کا پیالہ بن گئی ، جہاں کراچی کو پانی فراہم کرنے والی کلری جھیل کو ہالیجی سے میٹھا پانی فراہم کرنے والی نال کو آلودہ پانی لے جانے والی نہر ( ایل بی او ڈی ) نے کاٹ ڈالا ، جہاں کوئٹہ کی ہنا جھیل سوکھے پاپڑ میں بدل گئی ، جہاں دریاؤں اور سمندر کے ساحل کو خام کچرے اور صنعتی فضلے کا کوڑا گھر بنا کر اجتماعی ریپ ہو رہا ہے ، زہریلے پانی سے سبزیاں اگا کے انھیں فارم فریش سمجھ کے ہم اپنے بچوں کے پیٹ میں اتار رہے ہوں ، میرے اپنے شہر رحیم یار خان میں زیرِ زمین پانی میں سنکھیا کی مقدار اتنی بڑھ گئی ہو کہ اب غریب لوگ نہروں سے پینے کے لیے پانی چرا رہے ہیں وہاں کیپ ٹاؤن کیا بیچتا ہے۔
حالات جس طرف جا رہے ہوں اور ان کی سنگینی کا جس قدر احساس ہے اور اس احساس کو مٹانے کے لیے جس طرح ہر فورم پر بس بتایا جا رہا ہے۔اس کے بعد وہ وقت دور نہیں جب کسی عدالت کا ازخود نوٹس تیرانے کے لیے بھی صاف چھوڑ گدلا پانی میسر ہو۔
وضو کو مانگ کر پانی خجل نہ کر اے میر
وہ مفلسی ہے تیمم کو گھر میں خاک نہیں