July 21st, 2018 (1439ذو القعدة8)

پاکستان میں چینی زبان کو کیوں لازمی قراردیا گیا؟

 

 غلام نبی مدنی

19 فروری 2018ء کو سنیٹرخالدہ پروین نے سینٹ میں چینی زبان کو پاکستان کے سرکاری سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لازمی پڑھانے کی قرارداد پیش کی۔پیپلز پارٹی کی سنیٹرخالدہ پروین کا کہنا تھا کہ لسانی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیےچینی زبان کو لازمی پڑھانا ضروری ہے۔چیئرمین سینٹ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ چینی زبان کو لازمی قراردینے سے پہلےآرٹیکل 251 پر بھی صوبائی حکومتوں سے عملی جامہ پہنوائیں۔چینی زبان کوہم اپنے اوپر مسلط کرلیں گے اور جو سندھی،پنجابی،بلوچی،پشتو انہیں ہم نہ پڑھائیں یہ بھی تو فیئر(Fair)نہیں ہے۔وفاقی وزیر تعلیم بلیغ الرحمن نے کہا کہ اگر قرارداد میں ترمیم کرکے یوں کہا جائے کہ چینی زبان پڑھانے کی حوصلہ افزائی کی جائے تو یہ ٹھیک ہے، اگر اسے لازمی طورپر تعلیمی اداروں میں پڑھانے کا کہاجائے تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔بعدازاں سینیٹ میں پیش کی گئی اِس قرارداد پر ووٹنگ ہوئی،جس میں 14سنیٹرز نے قرارداد کی حمایت کی اور 9 نے مخالفت کی۔اس طرح چینی زبان کو لازمی قراردینے کی قرارداد عددی اکثریت کے ساتھ پاس ہوگئی۔میڈیا پر خبر آنے کے بعد چیئرمین سینٹ نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چینی زبان کو لازمی قراردینے کی کوئی قرارداد سینٹ سے پاس نہیں ہوئی۔حالاں کہ سینٹ کی 19فروری کی ڈیبیٹ کی پوری کاروائی سینٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے،جس میں سینٹ کے273ویں سیشن کی کاروائی کی PDF کاپی میں صفحہ نمبر 17 تا 19چینی زبان کو لازمی قراردینے کی کارروائی کو ہرکوئی پڑھ سکتاہے کہ کیسے 14سنیٹرز نے چینی زبان کولازمی قراردینے کی حمایت کرکے قرارداد کو پاس کروایا۔

واضح رہے کہ زبانیں،کلچر، ثقافت اور تہذیب کو پروموٹ کرنے کا سبب بنتی ہیں۔قوموں کے عروج وزوال میں زبانوں نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔دنیا میں اُس قوم کو آج بھی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے جو اپنی مادری اور قومی زبانوں پر خارجی زبانوں کو حاوی نہ ہونے دیں۔دنیا میں ترقی یافتہ ممالک آج بھی خارجی زبانوں کو اپنے ملک کی ترقی کے لیے زہر قاتل سمجھتے ہیں۔چنانچہ خود چین میں آج بھی انگریزی زبان کو معیوب سمجھتاہے۔چین شاید دنیا کا ایساملک ہے،جہاں انگریزی بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور حکومتی وبیورکریسی کے لوگوں تک کو آتی ہے ،نہ انہوں نے کبھی اسے سیکھنے کی کوشش کی۔موجودہ چین کے بانی اور مشہور رہنما ماؤزے تنگ جنہوں نے 1949ء میں جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی۔ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انگریزی زبان پر انگریزوں سے زیادہ عبور رکھتے تھے۔لیکن کبھی بھی انہوں نے عالمی کانفرنسوں اور عالمی لیڈروں سے ملاقات میں چینی زبان کے علاوہ انگریزی سمیت کسی اور زبان میں بات نہیں کی۔ان سے جب انگریزی نہ بولنے کی وجہ پوچھی گئی تو کہا کہ چینی لوگ گونگے نہیں ہیں،ان کی اپنی زبان ہے ۔آج اگر ہم چین کی ترقی کا راز جانیں تو اس کی بڑی وجہ چینی زبان ہے۔چین میں آج بھی مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنا اسلامی نامی چاہے شوق سے رکھیں مگر سرکاری نام ان کا چینیوں جیسا ہونا چاہیے۔اس کے لیے عموما چینی مسلمان اپنے اسلامی نام کا ترجمہ کرکے چینی نام رکھتے ہیں۔شاید ہی دنیا کی کوئی ایسی علمی یا ضروی کتاب ہو جس کا چینی زبان میں ترجمہ نہ کیا گیا ہو۔سائنسی علوم سے لے کر انٹرنیٹ کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیاایپس تک ہر چیز کو چینی زبان میں مہیا کیا جاچکاہے۔چین کےتعلیمی اداروں سے لے کر حکومتی اداروں تک ہرجگہ صرف چینی زبان بولی اور لکھی جاتی ہے۔چینی وزیراعظم ہو یا چینی صدر ہر کوئی دنیا کے بڑے سے بڑے فورم میں چینی زبان ہی میں بات کرتےہیں۔یہی حال دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ملکوں کا ہے،جن میں فرانس،اٹلی،جرمنی،روس،ناروے ،ترکی،ملائشیاانڈونیشیا وغیرہ شامل ہیں۔حتی کہ پاکستان کے روایتی حریف بھارت کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ تک بڑی بڑی عالمی کانفرنسوں میں ہندی میں بات کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ چین دنیا کی تیز رفتار بڑھتی ہوئی طاقت ہے اور چین سی پیک سمیت دیگر کئی منصوبوں پر پاکستان میں سرمایہ کاری بھی کررہاہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان اپنی قومی ،ثقافتی اورتہذیبی اقدارپر کوئی سمجھوتہ کرلے۔سی پیک میڈیا کوآڈنیٹر کے بقول پاکستان کی 28یونیورسٹیوں میں چینی زبان سکھائی جارہی ہے۔جب کہ پرائیوٹ اداروں کی تعداد ان گنت ہے ۔سی پیک میں 10 ہزار سے زائد چینی ماہرین اور60ہزارسے زائد پاکستانی کام کررہے ہیں،لیکن سوال یہ ہے کہ آخر چینی ماہرین پاکستان آنے کے لیے اردو کیوں نہیں سیکھتے ؟کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی 28یونیورسٹیاں اور سینکٹروں پرائیوٹ ادارے تو چینی زبان سکھاتے ہیں،مگر چین کی یونیورسٹیاں اور چینی کے پرائیوٹ ادارے اپنے انجینیروں اور مزدوروں کو کیوں اردو نہیں سکھاتے؟۔اصولاً دنیا میں یہی ہوتا ہے کہ جو آدمی کسی دوسرے ملک میں جاتاہے تو اس کا حق بنتا ہے کہ وہ اس ملک کی زبان سیکھے یا کم ازکم اس سے آشنائی حاصل کرے۔تو اب جب چینی پاکستان میں آرہے ہیں،اور پاکستان کی سرزمین پر سی پیک منصوبے پر کام کررہے ہیں،جس میں چین کے فوائد شاید پاکستان سے زیادہ ہیں تو پھر وہ کیوں نہیں اردو سیکھتے اور کیوں ہماری سینٹ میں چینی زبان کو لازمی قراردینے کی قرارداد پاس ہوتی ہے؟کیا کبھی چین بھی اپنے ہاں اردو زبان کو لازمی قراردے کر اسےتعلیمی اداروں میں پڑھانے کی قرارداد پاس کرے گا؟ہرگز نہیں !کیوں کہ چین یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ ترقی ہمیشہ قومی زبان کر پروان چڑھا کر کی جاسکتی ہے۔سائنسی ایجادات کے لیے قومی اور مادری زبان میں انسان جو کچھ سوچ سکتاہے وہ کبھی بھی دوسروں کی زبان باوجود سیکھنے کے کبھی نہیں سوچ سکتا۔یہی فلسفہ چین کی ترقی کا راز ہے۔

چین، بھارت اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کو سامنے رکھ کر ہمیں غور وفکر کرنا چاہیے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قراردیا تھا،مگر پھر کیوں آج تک ہماری قومی زبان ہمارے تعلیمی اور سرکاری اداروں کی زبان نہیں بن سکی۔کیا ہماری قومی زبان اس قدر اپاہج ہے کہ ہمارے صدر اور وزیراعظم اس کے ذریعے قوم اور ملک کا مدعا بیان نہیں کرسکتے او ر بڑی بڑی کانفرنسوں اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں انگریزی میں لکھی پرچیوں کا سہارالیا جاتاہے؟۔کیا ہماری زبان اس قدر نامکمل ہے کہ 70سال گزرنے کے باوجود ہم اپنے سرکاری اداروں میں اسے مکمل طور پر نافذ نہیں کرسکے؟آئین کا آرٹیکل 251 کا کہتا ہے کہ "پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور یوم آغاز سے پندرہ برس کے اندر اندر اس کو سرکاری و دیگر اغراض کے لیے استعمال کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لیے استعمال کی جا سکے گی ، جب تک کہ اس کے اردو سےتبدیل کرنے کے انتظامات نہ ہو جائیں"۔آج انگریزی زبان اردو میں تبدیل ہوچکی ہے،مگر افسوس ہم نے آئین کے آرٹیکل 251 کو کوئی اہمیت دی اور نہ اپنی قومی زبان اردو کو ترویج دینے کی خاطر اسے اپنے ملک میں صحیح طرح نافذ کرنے کی سعی کی۔جس کی وجہ سے ہمارے ملک کا ٹیلنٹ ضائع ہورہاہے اور سائنسی ایجادات میں ہم دنیا سے پیچھے ہیں۔اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو اپنی قومی زبان کو تعلیمی اداروں سے لے کر سرکاری اداروں تک ہرجگہ مکمل طور پر نافذالعمل بنانا ہوگا۔کیوں کہ یہی وہ قومی زبان ہے جس کے ذریعے مسلمانوں نے برصغیر میں کامیاب حکومت کرکے دکھائی۔