July 21st, 2018 (1439ذو القعدة8)

تحفظ ناموس رسالتﷺ پر پریشانی 

 

گزشتہ منگل کو سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن نسرین جلیل کی زیر صدارت اجلاس میں ناموس رسالت قانون پر بحث کے دوران میں شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔ جب سے تحفظ ناموس رسالت کا قانون بنا ہے تب سے کچھ مخصوص عناصر اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت اس کے خلاف سرگرم ہیں اور منسوخ کروانا چاہتے ہیں۔ انسانی حقوق کی نام نہاد وکیل عاصمہ جہانگیر تو اس کوشش میں ایک بڑی عدالت میں پہنچ گئی ہیں لیکن ان کے حامی اور بہت سے ہیں۔ مذکورہ اجلاس میں پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے فرحت اللہ بابر نے دعویٰ کیا کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کا وقت آگیا ہے، ناموس رسالت قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی جائداد پر قبضے کیے گئے۔ اس پر بلوچستان سے جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر مفتی عبدالستار نے بہت شدید ردعمل کا اظہار کیا اور یہ تک کہہ گئے کہ یہ سفارشات پیش کی گئیں تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا، میرے پاس اختیارات ہوتے تو ایسے لوگ اب تک زندہ نہ ہوتے۔ مفتی عبدالستار کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئے لیکن ناموس رسالت کا معاملہ تمام سچے مسلمانوں کے لیے جذباتی معاملہ ہی ہے۔ جہاں تک اس قانون کے غلط استعمال کا تعلق ہے تو مفتی عبدالستار کا یہ کہنا بجا ہے کہ پاکستان میں کون سا قانون ہے جس کا غلط استعمال نہیں ہورہا، کیا ملک میں قتل سے متعلق قانون کا غلط استعمال نہیں ہورہا۔ یہ ماورائے عدالت قتل کیا کسی قانون کے تحت ہوتا ہے اور یہ جو سرکاری قاتل راؤ انوار لوگوں کو جعلی مقابلوں کی آڑ میں قتل کرتا پھررہا تھا، کیا وہ قانون کا صحیح استعمال تھا؟ وہ تو قانون کے نام ہی پر قتل عام کررہا تھا۔ اور وہ اکیلا تو نہیں۔ ایسے کئی پولیس اہلکار ہیں جن پر قانون کا غلط استعمال کرکے اغوا اور قتل کے الزامات ہیں۔ ایسے لوگ جنہوں نے زمینوں پر قبضے کیے، لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے ہو یا کراچی میں چائنا کٹنگ کے ماہرین، ان سب نے قانون کا غلط استعمال کیا۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لیے بڑے سخت قوانین بتا دیے لیکن سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں کیا یہ قوانین پامال نہیں ہوئے؟ دور کیوں جائیں، کسی بھی وقت کسی سڑک پر کھڑے ہوکر دیکھ لیں، ٹریفک قوانین کی پامالی نظر آجائے گی۔ ٹریفک پولیس اہلکار دھڑلے سے قانون کا غلط استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ لیکن سارا زور ناموس رسالت قانون پر ہے کہ اس کا استعمال غلط ہورہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کا صحیح استعمال کیا جائے نہ کہ قانون ختم کردیا جائے ورنہ ان تمام قوانین کو ختم کردیں جن کا غلط استعمال سب کے علم میں ہے۔ کہا گیا کہ اس قانون کی وجہ سے لوگوں کی جائداد پر قبضے کیے گئے۔ کیا اس قانون میں یہ لکھا گیا ہے؟ جائداد پر قبضے انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ یہ غالباً توہین رسالت کے مرتکب افراد کے گھروں یا جائداد پر قبضے کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ تو پھر کیوں نہ حکومت نے مداخلت کی؟ لیکن کیا دوسروں کے گھروں اور جائداد پر قبضے عام نہیں ہیں؟ اور مسلمانوں کی جائداد پر قبضے نہیں ہوتے؟ اس حوالے سے فرحت اللہ بابر اپنی ہی پارٹی کے ایسے افراد کا جائزہ ضرور لیں جن کے والدین کا تعلق متوسط طبقے سے تھا اور آج وہ خود ارب پتی، کھرب پتی ہیں۔ کیا یہ ترقی لوگوں کی جائداد پر قبضے کرکے حاصل نہیں کی گئی؟ بات صرف یہ ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے دعویداروں کو تحفظ ناموس رسالت کے قانون سے پریشانی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسیحی برادری ہو یا کوئی اور غیر مسلم انہیں ناموس رسالت پر حملوں کی جرأت کیوں ہوتی ہے۔

بشکریہ جسارت