September 19th, 2018 (1440محرم8)

امریکی مفادات پر سمجھوتا؟

 

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے لیے ملکی مفادات پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔ بہت اچھی بات ہے گو کہ اب تک تو امریکا کے لیے ملکی مفادات قربان کیے جاتے رہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ایک خبر ہے کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے تمام اثاثے منجمد کردیے گئے۔ یہ کام بھی امریکا کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ۔ جماعت الدعوۃ پر پابندی کا مطالبہ امریکا ہی کاتھا۔ پاکستان کو پیرس کانفرنس میں ہونے والے بین الاقوامی اقتصادی اجتماع ’’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘‘ میں گرے لسٹ میں شامل کرہی دیا گیا ہے اور بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ الزام یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی میں مالی تعاون کرتا ہے۔ امریکا جماعت الدعوۃ اور اس کی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے گو کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ۔ پاکستان نے ان کے خلاف جو کارروائی کی ہے وہ بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے کی ہے۔ گو کہ پیرس اجلاس میں شرکت کرنے والے پاکستانی مشیر خزانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا اور کر بھی دیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ بیان قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھا اور وزارت خارجہ یا اسٹیبلشمنٹ نے نتیجے کا اندازہ ہونے کے باوجود کچھ نہیں کیا۔ اب جماعت الدعوۃ کے خلاف مذکورہ اقدامات امریکا کو خوش کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ دونوں تنظیموں کی 170جائدادیں سرکاری تحویل میں لے لی گئی ہیں اور اسکول و مدارس پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔ تمام ایمبولینسیں ہلال احمر کے حوالے کردی گئی ہیں، 40ویب سائٹس بند اور 70افراد پر مقدمات قائم کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ ان اقدامات پر جماعت الدعوۃ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکا اور بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کی گئی ہیں ۔ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف سب سے زیادہ پروپیگنڈا بھارت ہی کررہا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ حافظ سعید مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف آزادی کی تحریک میں تعاون کررہے ہیں ۔ بھارت کے مطابق لشکرطیبہ جہاد میں شریک ہے۔ لیکن یہ کوئی جرم اس لیے نہیں کہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق متنازع ہے اور اگر بھارت اس پر قبضہ کر کے 8لاکھ فوجی متعین کرسکتا ہے جنہوں نے قتل عام برپا کررکھا ہے تو پاکستان کو بھی حق ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج اتار دے۔ مگر اس کی ہمت نہیں ہے۔ چنانچہ اگر کوئی تنظیم یا ادارہ اپنے طور پر مظلوموں کی مدد کررہا ہے تو یہ غلط کیسے ہوسکتا ہے۔ کیا مقبوضہ کشمیر کے مسلمان اپنے رب سے یہ التجا نہیں کررہے ہوں گے کہ ان کے لیے کوئی نجات دہندہ بھیج دے۔ لیکن ’’ نجات دہندوں‘‘ پر تو بھارت کا خوف طاری ہے اور کمانڈو جنرل نے تو یہ دعویٰ کیا تھا کہ سرحدوں پر تو اتنی سخت نگرانی کا بندوست کردیا ہے کہ کوئی چڑیا بھی اڑ کر مقبوضہ علاقے میں داخل نہیں ہوسکتی۔ یہ وہی کمانڈو جنرل ہیں جنہوں نے کشمیر میں ایک ناکام آپریشن کیا تھا اور پھر امریکا سے معافی مانگی۔ بھارت آئے دن کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے پاکستانی شہریوں اور جوانوں کو شہید کررہا ہے تاہم پاکستان بڑی باقاعدگی سے احتجاجی مراسلہ پیش کردیتا ہے۔ بھارت کو خوش کرنے کے لیے امریکا نے بھی جماعت الدعوۃ پر پابندی لگوا دی اور حکومت پاکستان نے کئی ماہ تک حافظ سعید کو نظر بند کیے رکھا۔ اب بھی بغیر کسی ثبوت کے جماعت الدعوۃ کے اثاثے منجمد کرلیے گئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جماعت اور اس کی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پاکستان میں بڑے فلاحی منصوبے چلا رہی تھی۔ اس کے مدرسے اور اسکولوں پر قبضہ کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں تھا۔ اب سرکاری تحویل میں دے کر ان کا ناس کردیا جائے گا۔ حکومت سے اپنے تعلیمی ادارے تو سنبھل نہیں رہے۔ سرکاری اقدامات سے ہزاروں غریب، یتیم اور بیوائیں متاثر ہوں گی۔ لیکن امریکا تو خوش ہو جائے گا۔ وزیر خارجہ سے درخواست ہے وہ یہ دعویٰ واپس لے لیں کہ امریکا کے لیے ملکی مفادات پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔

بشکریہ جسارت