April 23rd, 2018 (1439شعبان7)

توہین رسالتؐ کی مجرمہ اور یورپی یونین

 

یورپی یونین نے پاکستان سے کھل کر مطالبہ کیا ہے کہ توہین رسالتؐ کی مجرمہ آسیہ بی بی کی سزائے موت ختم کی جائے۔ اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔ یورپی یونین کے نمائندے مان فیجل نے جی ایس پی پلس کی تجدید کیلئے پاکستان کو ان شرائط کی تکمیل کا پابند بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ یورپی یونین کے نمائندے کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیں جان بوجھ کر آسیہ بی بی کے مقدمے کو زیر التوا رکھا ہوا ہے حالانکہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کیس جلد نمٹانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ یورپی یونین کے نمائندے نے جو الفاظ اقلیتوں کے ہقوق کے تحفظ کے حوالے سے استعمال کئے ہیں یہی ہیں کہ ملک میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کرانی ہوگی۔ یہ عجیب بات ہے پاکستانی حکمران تو اکثریت کے حقوق کا تحفظ اور اس ملک کے اکثریتی باشندوں کی مذہبی آزادیوں کو یقینی نہیں بنا پارہے۔ کبھی مسجدوں پر پابندیاں کبھی مدارس کے لیے نئی نئی شرائط تو وہ اقلیتوں کے ہقوق کی ضمانت کیسے دے گی۔لیکن یورپی یونین کے مطالبے کو یوں بھی ایک افسر کا مطالبہ نہیں سمجھا جائے۔ یہ سارا کھیل محض قانون کے خلاف ہے اور یہ قانون ناموس رسالتؐ ہے اس کے خلاف امریکا حکمران یورپی یونین دنیا بھر کے اسلام دشمن ادارے اور پاکستان میں اقتدار کے متوالے مسلسل متحرک ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی تو اس کی کوشش کرچکی۔ مسلم لیگ ن نے بزشتہ برس اس کی کوشش کی تھی اور راجا ظفر الحق رپورٹ کو سامنے آنے سے اس لیے روکا جارہا تھا کہ اس کے نتیجے میں یہ باتیں سامنے آرہی تھیں کہ قانون تحفظ ختم نبوت پر شب خون کون اور کیوں مار رہا تھا۔ حلفنامے کو تبدیل کیوں کیاگیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جی ایس پی پلس کا آسیہ بی بی کی سزا سے کیا تعلق۔ اب یورپی یونین میاں نواز شریف اور پی پی پی میں شامل گروہ کے بارے میں بہت یکسوئی ہے کہ یہ لوگ صرف اقتدار کی خاطر کچھ بھی کر گزریں گے۔ جو پاکستانی حکمرانوں کو یورپی یونین کو جو جواب دینا چاہئے تھا وہ پاکستانی وزیر داخلہ کا جواب نہیں ہے۔ وہ تو بچھے جارہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پاکستان کی کارکردگی دوسرے ممالک سے بہتر ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ناموس رسالت کے معاملے پر یورپی یونین امریکا ساری دنیا بھی اگر ایک ہوجائے تو انہیں کھل کر منع کردیا جائے کہ آپ جائیں اپنا کام کریں ہم اپنے رسولؐ کی شان میں ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ یہ پاکستان کا قانون ہے اور اسے قرآن و سنت کی روشنی میں بنایاگیا ہے۔ حیرت ہے ہمارے حکمران ناموس رسالتؐ کے بارے میں مغربی ممالک اور ان کی تنظیموں کے فضول قسم کی باتیں سن کیوں ہی لیتی ہیں اس سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے ایمان میں بھی کوئی خرابی ہے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمن اور ان کے وکلاء تو کھل کر اس قانون کی مخالفت کرچکے۔ انہیں تو اس سے نفرت کا اظہار کرنے میں کبھی کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ آسیہ بی بی کا کیس پاکستانی عدالتوں میں چلایاگیا وہ توہین عدالت کی مجرم ثابت ہوئی اور سزائے موت سنائی گئی، یہ مطالبہ تو پاکستانی عوام کو کرنا چاہیے کہ اس کی سزائے موت میں اتنی تاخیر جان بوجھ کر کیوں کی جارہی ہے۔ ناموس رسالت پر شہید ہونے والے ممتاز قادری کی پھانسی میں اتنی جلدی کیوں کی گئی۔نواز حکومت اس حوالے سے جلد بازی کرگئی انہیں تو ممتاز قادری کو رہا کرنا چاہیے تھا۔ اب آسیہ بی بی کے بارے میں جی ایس پی پلس کی شرائط بالکل غلط اور ناجائز ہیں۔ ان کا توہین رسالتؐ سے تعلق جوڑنا بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یورپی یونین کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس کی وجہ سے اربوں ڈالر کمائے ہیں۔ حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان نے اپنی مصنوعات کی فروخت کے نتیجے میں جو مجموعی آمدنی حاصل کی ہے اس کو ظاہر کرکے کیا جارہا ہے کہ جی ایس پی پلس کی وجہ سے یہ مجموعی آمدنی ہے حالانکہ کچھ بینکوں میں چھوٹ کی وجہ سے منافع میں اضافہ ہوا ہے لیکن اپنے نبیؐ کی شان میں گستاخی کرنے والی کو محص چند ڈالروں کے بدلے رہا کرنے کا مطلب یہی ہے کہ ایسا کرنے والے حکمران بھی شاتم رسولؐ ہیں۔ اب تک کسی پاکستانی حکمران کی ہمت نہیں ہوئی کہ ایسے کسی مطالبے کو تسلیم کرے۔ کم از کم علی الاعلان ایسا کرنے کی جرأت نہیں ہوئی لیکن اب کہنا ہے کہ پاکستان میں جاری جنگ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کی کوشش ارکان اسمبلی کے حلفنامے سے الفاظ حذف کرنا پھر ذمے داروں کا نام سامنے نہ لانا۔ یہ سارے معاملات بتارہے ہیں کہ ڈوریں یورپ سے ہل رہی ہیں۔ خوامخواہ میں پاناما اور اقامہ کے معاملات اچھالے جارہے ہیں۔ ناموس رسالتؐ کا معاملہ اٹھایا جائے پھر جو بھی ذمے دار ہو اسے وہی سزا ملنی چاہیے جو اسلامی ساتمین رسولؐ کے لیے ہے۔ ایک اہم بات یورپی یونین کے نمائندے نے یہ بھی کہی ہے کہ چیف جسٹس نے آسیہ بی بی کیس جلد نمٹانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس بات کی وضاحت تو خبر میں نہیں ہے کہ کس کو یہ یقین ہوئی تھی۔ لیکن چیف جسٹس کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ انہوں نے یورپی یونین کے کس نمائندے کو یقین دلایا تھا؟؟ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ بیان کیوں جاری کیا گیا۔ پاکستانی حکومت یورپی یونین کو کھل کر صاف صاف منع کردے کہ آسیہ بی بی کی سزا ہر گز ختم نہیں ہوسکتی۔ خواہ پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کردیا جائے۔

بشکریہ جسارت