October 24th, 2017 (1439صفر3)

سی آئی اے اور را پاکستان میں منظم خونیں تماشا(میاں منیر احمد)

 

 ملک کے مختلف حصوں میں گزشتہ ہفتے دہشت گردی کے متعدد واقعات میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ دہشت گردی کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے، نائن الیون کے بعد اس خطے میں حالات اور بڑی طاقتوں کے اہداف بدل گئے ہیں۔ یہ بات یقین کے ساتھ اپنے پلے باندھ لینی چاہیے کہ امریکہ، بھارت اور نیٹو مل کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیے ہوئے ہیں اور پاکستان اس وقت دو ڈاکٹرائن کا براہِ راست ہدف بنا ہوا ہے۔

(1) بھارتی ڈاکٹرائن۔۔۔ مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پیدا کرکے پاکستان کو دباؤ میں رکھنا۔

(2) امریکی ڈاکٹرائن۔۔۔ پاک افغان سرحد پر امن قائم نہیں رہنے دینا۔ یہ ڈاکٹرائن را، سی آئی اے اور موساد نے مل کر تیار کی ہوئی ہے، لہٰذا باری باری کبھی لائن آف کنٹرول پر اور کبھی قلیل وقفے کے بعد پاک افغان سرحد پر ایسے غیر معمولی حالات پیدا کیے جاتے ہیں جن سے پاکستان کو اندرونی استحکام کا چیلنج مسلسل درپیش رہتا ہے۔ چند ماہ قبل بھارت نے لائن آف کنٹرول پر حالات کشیدہ بنائے ہوئے تھے، مقصد یہ تھا کہ جواب میں پاکستان بھی اشتعال میں آئے اور بھارت کو عالمی برادری سے مداخلت کرنے کی درخواست کا موقع مل جائے جس کے بعد وہ مقبوضہ کشمیر میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر حالات بہتر بنالے۔ یہ گیم پلان ناکام ہوا تو سی آئی اے نے پاکستان میں اچانک دہشت گردی کی مسلسل ایک سیریز شروع کرا دی۔ اس کا مقصد اور ہدف یہ ہے کہ پاکستان میں مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی جو کوشش ہورہی ہے اسے روک دیا جائے اور اس میں بڑی رکاوٹ ڈال دی جائے۔ یہ کام اُس وقت شروع کرایا گیا جب فاٹا کو صوبہ خیبر پختون خوا کا حصہ بنانے کے لیے ملک کی تمام پارلیمانی جماعتیں متفق ہوچکی ہیں۔ ملک کے پالیسی سازوں نے یہ فیصلہ کررکھا ہے کہ وہ ملک کو نائن الیون کے اثرات سے باہر نکال کر اسے معاشی استحکام کی جانب لے جائیں گے، اور سی پیک منصوبہ ملکی معیشت کے لیے آکسیجن سے کسی صورت کم نہیں ہے۔ لہٰذا کھلے دشمن امریکہ، بھارت اور اسرائیل نہیں چاہتے کہ اس خطے میں پاکستان کی اہمیت بڑھ جائے اور اسے معاشی استحکام مل جائے۔ ان تینوں کا اتحاد پاکستان، چین اور سی پیک کے ساتھ منسلک ہونے والے ممالک کے مفادات کے خلاف بن چکا ہے اور انہیں دہشت گردی کے لیے مقامی، غیر مقامی دونوں عناصر میسر ہیں۔ دشمن کی سب سے بڑی چال یہ ہے کہ وہ ہر ایسی دہشت گردی کے پیچھے خفیہ ہاتھ تلاش کرنے کی راہ دکھانے کی ترغیب دیتا ہے، افواہیں پھیلائی جاتی ہیں کہ حکومت اور فوج یکسو نہیں، دونوں ایک صفحے پر نہیں۔ لبرل قوتیں دینی جماعتوں کو رگیدتی ہیں کہ انتہا پسندی کا باعث یہی قوتیں ہیں، جب کہ اصل حقائق یہ ہیں کہ پاکستان را، سی آئی اے اور موساد کی مشترکہ ڈاکٹرائن کا ہدف بنا ہوا ہے اور ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے یہ اور ان تینوں کے مقامی سہولت کاروں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ لہٰذا دہشت گردی کی حالیہ سیریز کے بعد پہلی بار ایسا ہوا کہ پاکستانی فورسز نے افغان حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف پاک افغان سرحد پر بھرپور کارروائی کی اور گرم تعاقب کرکے دہشت گردوں کو کڑا اور سخت پیغام دیا۔ پاک افغان سرحد سے ملحق خیبر اور مہمند ایجنسی کے علاقے میں فضائی آپریشن کرنے کے علاوہ ملک میں کومبنگ آپریشن کیا گیا ہے جو ابھی جاری ہے۔ اس آپریشن میں فیصل آباد، سرگودھا، لاہور، بہاول پور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں، اور اب پنجاب میں رینجرز آپریشن کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے پنجاب میں رینجرز کے لیے سندھ سے زیادہ اختیارات تجویز کیے ہیں۔

حالیہ دہشت گردی کے خلاف سخت آپریشن یقیناًایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ بلاشبہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات جنرل قمر جاوید باجوہ کے لیے کئی لحاظ سے چیلنج تھے۔ آپریشن ضربِ عضب نے جنرل راحیل شریف کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا تھا اور ان کی ریٹائرمنٹ کی راہ بھی اسی لیے روکی جارہی تھی، لیکن وہ اپنی خواہش کے باوجود توسیع نہیں لے سکے، یا یوں کہہ لیں کہ ان کے لیے توسیع کے ریڈ کارپٹ کی زمین ہموار کرنے والے اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ان کے بعد اب فوج کی کمان چونکہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہاتھ میں ہے لہٰذا اب ان سے توقعات باندھی جائیں گی۔ لیکن ان کے لیے بہت سے سوالات بھی ہیں جن کا جواب خود حکومت کو بھی دینا ہے۔ سب سے پہلا سوال نیشنل ایکشن پلان سے متعلق ہے کہ دسمبر2014ء میں اٹھائے جانے والے اس قدم کے نتائج اب تک کیا رہے؟ حکومت کو یہ بیلنس شیٹ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنا ہوگی، اور یہ بھی بتانا ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف سول اور ملٹری انٹیلی جنس اداروں میں کس قدر باہمی اشتراک رہا، اور ان کی معاونت کے لیے وزارتِ داخلہ کس حد تک متحرک رہی؟ ان تمام سوالات کے جواب دینا وزیراعظم کی ذمہ داری ہے۔ وہ سربراہ حکومت کے طور پر اپنی اس آئینی، سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری سے کسی بھی طرح بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔

اس بات سے کسی کو کوئی غرض نہیں کہ پاکستان کو گھیرنے والی قوتوں کی ڈاکٹرائن کیا ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ اس کے توڑ کے لیے پاکستان کی پالیسی، حکمت عملی اور جوابی وار کی قوت کتنی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بیرونی جارحیت سے بچائے اور ملک کے اندر ان کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرے، اور غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار بننے والے مسلح گروہوں، جتھوں اور ملیشیا کو نکیل ڈالے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ حالیہ دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان میں قائم کیمپوں سے ملتے ہوں یا دہلی سے، یہ بات اطمینان بخش ہے کہ سخت جواب دینے کے لیے پاک افغان سرحد پر فضائی آپریشن کیا گیا۔ لیکن یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے، مستقل حل یہ ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں، فوج ، حکومت اور پالیسی ساز ادارے سب مل کر ایک فیصلہ کریں۔ جب تک یہ نہیں ہوگا ملک کے جسم پر دہشت گردی کا پھوڑا بنتا رہے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کہتے ہیں کہ فضائی حملوں سے پہلے اسلام آباد میں متعین افغان سفیر کو فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغان مشیر قومی سلامتی حنیف ایتمار کو آگاہ کیا، انہیں دہشت گردوں کی فہرست دی گئی۔ تین روز کی مسلسل ملاقاتوں اور رابطوں کے بعد افغان حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی دہشت گردوں کی فہرست پر کام کرنے پر رضامند ہوگئی ہے۔ پاکستان نے جو فہرست فراہم کی اس بارے میں افغان جنرل قدم شاہ شاہیم نے اعتراف کیا کہ دہشت گردوں کی فہرست پاکستان کے علاوہ دوسرے ذرائع سے بھی انہیں ملی ہے۔ فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ افغان حکام کو ایسے 76 دہشت گردوں کی فہرست دی گئی ہے جنھوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے۔ پہلے تو افغان حکام نے تسلیم کرنے سے انکار کیا، بعد میں امریکیوں نے بھی زور دیا تو افغان حکومت نے اسلام آباد کا مؤقف تسلیم کیا اور ساتھ ہی حقانی نیٹ ورک کا پرانا راگ الاپا اورجوابی طور پر اسلام آباد کو بھی مطلوب افراد کی فہرست مہیا کی جس میں ڈھائی سو افراد کے نام بتائے جاتے ہیں۔ یہ فہرست نیٹو اور امریکیوں نے تیار کی اور افغان حکومت نے اسلام آباد کو پہنچائی، جس کے لیے نیٹو فورسز کے کمانڈر متحرک ہوئے کہ ’’دونوں ملک باہم مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں‘‘۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیٹو فورسز افغان معاملات میں کس حد تک بااختیار ہیں؟ اور اس کے مقابلے میں صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی کیا حیثیت ہے؟ اسلام آباد میں افغان سفیر اور افغان مشیر قومی سلامتی حنیف ایتمار تو خاموش رہے لیکن نیٹو فورسز کے کمانڈر پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے کیمپ تباہ ہونے پر سامنے آئے۔ کیوں؟ امکان ہے کہ نیٹو فورسز کوئی نیا کھیل کھیلنا چاہتی ہیں کہ وہ خود بھی ایسا ہی اختیار لینا چاہیں گی جو پاکستان نے لیا ہے اور افغان حکومت اس معاملے میں ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ پاک افغان سرحد پر فضائی حملے پر نیٹو فورسز نے چیخ پکار تو کی لیکن یہ نہیں بتارہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ کا خاد اور سی آئی اے کے ساتھ پاک افغان سرحد پر گٹھ جوڑ پاکستان کے خلاف کیا گل کھلا رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد کابل میں را، خاد ، سی آئی اے کا نیا گٹھ جوڑ بنا ہے۔ افغان حکومت اسی گٹھ جوڑ کے شکنجے میں ہے، اور نیٹو اس گٹھ جوڑ کا چہرہ ہے۔

اگر دہشت گردی کی حالیہ لہر کا تجزیہ کیا جائے تو بنیادی باتیں ذہن میں رکھنا ہوں گی۔ پہلی یہ کہ فاٹا کا علاقہ اگلے عام انتخابات تک صوبہ خیبر پختون خوا کا باقاعدہ حصہ بننے جارہا ہے جس کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اتفاق کرچکی ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ کہ مسلح جتھوں کو غیر مسلح کرکے قومی سیاسی دھارے میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان دونوں نکات پر اتفاق کے باوجود سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے سیاسی مفادات بھی ہیں۔ پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی خیبر پختون خوا اور بلوچستان کی پشتون بیلٹ ملا کر ایک صوبہ بنانے کی بات کررہے ہیں، اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان کے اپنے سیاسی اہداف ہیں، اور فاٹا کے اندر کام کرنے والے مسلح جتھوں کے بھی اپنے مفادات ہیں۔ لہٰذا دہشت گردی کی حالیہ لہر کو ان دو نکات کے دائرے میں رہ کر دیکھنا ہوگا۔ یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ متعدد مسلح جتھے خود کو آئینِ پاکستان کے تابع کرنے پر آمادہ ہیں لیکن غیرملکی قوتوں کے لیے کام کرنے والے جو گروہ آمادہ نہیں ہیں وہی ہتھیار اٹھائے دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ انہیں افغانستان کی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور بھارت، سی آئی اے کے علاوہ خاد کی ہر طرح سے سرپرستی میسر ہے۔ بھارت کسی قیمت پر نہیں چاہتا کہ پاک افغان سرحد پُرامن رہے، لہٰذا وہ پاک افغان سرحد پر بے حساب مالی وسائل خرچ کررہا ہے۔ تیسری اہم ترین بات یہ ہے کہ اس وقت روس میں طالبان گروہوں کے باہمی اور خطے کے اہم ممالک کے نمائندوں سے مذاکرات ہورہے ہیں۔ اور چوتھا یہ کہ اس خطے میں ایک گریٹ گیم ہورہا ہے، ہر بڑا ملک یہاں اپنے معاشی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔ اس گریٹ گیم کو یوں کہنا چاہیے کہ ہاتھیوں کی لڑائی ہورہی ہے، ان میں سے ایک ہاتھی کی دُم کے ساتھ بھارت لپٹا ہوا ہے اور وہ سی آئی اے اور خاد کا دستِ راست بنا ہوا ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے تجزیے کے لیے یہ چاروں نکات کسی بھی لحاظ سے نظرانداز نہیں کیے جاسکتے۔

اسی موضوع سے جڑا ہوا دوسرا نکتہ ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کے لیے سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے متعلق ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر حکومتی آئینی ترمیم اور قومی سلامتی کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوگیا ہے۔ فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے قانونی مسودے کی کانٹ چھانٹ کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ یہ کمیٹی پارلیمانی رہنماؤں کے لیے حتمی مسودہ تیار کرے گی اور 27 فروری تک فیصلہ کرلیا جائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان اور آئینی ترامیم کے انفرااسٹرکچر کی نگرانی کے لیے الگ سے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز ہے۔ یہ کمیٹی حکومتی ذمہ داریوں پر جواب طلبی کرسکے گی۔ فوجی عدالتوں کے حوالے سے پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ فوجی عدالتوں کے دائرۂ اختیارِ سماعت کے لیے اتنا اسکوپ نہیں بڑھانا چاہیے کہ ہر مقدمہ فوجی عدالت میں بھیج دیا جائے۔ وہ چاہتی ہے کہ قانون بناتے وقت جیٹ بلیک ٹیررسٹ کی تشریح ہونی چاہیے۔

تحریک انصاف بھی اسی خیال کی حامی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا خیال ہے کہ حکومت دو سال میں سول کورٹس میں اصلاحات لانے میں ناکام ہوچکی ہے۔ مستقبل کے لیے کسی گارنٹی کی بناء پر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی حمایت نہ کی جائے۔ یہی مؤقف آفتاب شیر پاؤ اور غلام احمد بلور نے بھی اپنایا ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں غیر مشروط توسیع نہیں ہونی چاہیے۔ پارلیمانی رہنماؤں کو مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے بھی بریفنگ دی ہے۔ ان رابطوں کے نتیجے میں 10 نئے قوانین بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ حتمی فیصلہ فروری کے آخر تک ہوجائے گا۔ حکومت چاہتی ہے کہ آئینی ترمیم ہوجائے، تاہم اپوزیشن جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی۔