January 19th, 2018 (1439جمادى الأولى2)

حقانی نیٹ ورک کا اصل محافظ؟

 

عارف بہار

 

حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید اگر حقیقت میں پاکستان سے امریکا کی ناراضی کی واحد اور آخری وجہ ہوتے تو پاکستان اپنے روایتی اور عالمی’’دوست‘‘ امریکا کی راہ کے یہ کانٹے چن کر اس کی جبیں کی شکنیں کب کا دور کر چکا ہوتا اور دونوں کسی دیومالائی کہانی کے انجام کی طرح ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے۔ اثاثے بوجھ بن جائیں اور خود اپنے لیے باعث آزار وآلام بن جائیں تو ریاستیں اثاثوں کو بوجھ سمجھ کر پٹخنے میں لمحوں کی دیر نہیں کرتیں۔ بھارت نے تامل ٹائیگرز کو بہت ناز ونعم سے پالا تھا۔ہندو اور بھارتی نسل کے یہ سفاک گوریلے بودھ اکثریت کو سبق سکھانے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ تامل گوریلوں کو اسلحہ، تربیت، محفوظ ٹھکانے دینے والا بھارت کے سوا کوئی اور نہ تھا۔ جب زمانہ بدل گیا بھارت دباؤ میں آیا تو خود بھارت ہی کو اپنے پھیلائے ہوئے کانٹے پلکوں سے چننا پڑے۔ بھارتی فوج تامل گوریلوں کے خلاف سرگرم ہوئی تو تامل گوریلے اسی فوج پر ٹوٹ پڑے۔ امریکا نے افغان مجاہدین کو سوویت یونین کی شکست کے لیے لیوریج کے طور پر استعمال کیا۔ سوویت یونین شکست کھا گیا تو مجاہدین کے بعض گروپ ’’حکومت اسلامی‘‘ کا خواب دیکھنے پر مُصر رہے تو امریکا نے انہی اثاثوں کو بوجھ سمجھ کر لڑانے کا کھیل کھیلنا شروع کیا۔
پاکستان بھی ایک قومی ریاست کے طور پر پہلی ترجیح اپنے مفاد کو دیتا ہے۔ فطری طور پر یہ بھی اپنے اثاثوں کے بوجھ بن جانے کے بعد انہیں لیے لیے نہیں پھرتا۔ خالصتان تحریک کا انجام اس کا ایک ثبوت ہے۔ ایسے میں امریکا نے یہ اعلان کیا ہے کہ حافظ سعید جیسے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پاکستان کی 1.1بلین ڈالر کی فوجی امداد معطل کر دی گئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان بیتھرو ناروت نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کے متعلق کئی بار پاکستان سے اپنے خدشات کا اظہار کیا مگر پاکستان نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ موجودہ حالات میں پاکستان سے تعلقات معمول پر نہیں رہ سکتے۔ آخر میں امریکی اہل کار نے کھل کر مافی الضمیر بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں پر بھی ہمارے تحفظات ہیں۔ امریکی اہل کار کی آخری بات ہی ساری گفتگو ہی نہیں پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی، تلخ بیانات کا خلاصہ ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید کو پاکستان کا بوجھ بننے نہیں دے رہا۔ پاکستان کو معلوم ہوجائے کہ حافظ سعید کو کڑی سے کڑی سزا دینے سے امریکا کے مطالبات کو قیام اور قرار آجائے گا تو اس وقت حافظ صاحب خدا جانے کس جزیرے میں اور کس حال میں ہوتے؟ پاکستان نے کتنی ہی بار امریکیوں سے پوچھا ہوگا کہ حافظ سعید اور حقانیوں کو سزا دینے کے بعد کیا پاکستان کی سزا ختم ہوجائے گی؟ لامحالہ اس کا جواب نفی میں آیا ہوگا کیوں کہ حافظ سعید اور سراج حقانی وغیرہ امریکی مطالبات کی ایک پرت ہیں اور پیاز کی طرح اس کی بے شمار پرتیں ہیں اور ان پرتوں کو اُلٹنے میں شاید پیاز ہی ختم کرنا مقصود ہے۔
ان مطالبات کی سب سے اہم پرت پاکستان کے ایٹمی اثاثے اور مضبوط فوج ہے۔ اسی حقیقت کا اظہار امریکی اہل کار نے کیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ریمنڈ ڈیوس کو چھڑانے کی غرض سے آنے والے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اسلام آباد میں میڈیا کے سامنے یہ کہنا ضروری سمجھا تھا کہ خون کے حروف سے لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کوئی خطرہ نہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ بات زد خاص وعام تھی کہ امریکا پاکستان سے لیبیا کی طرز پر ایٹمی اثاثے چھیننا چاہتا ہے۔ اسی لیے پاکستان میں ایک مخصوص طرح کی دہشت گردی کو ہوا دے کر ایٹمی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کا تاثر دیا جا رہا تھا۔ اس وقت ایٹمی اثاثے القاعدہ کے ہاتھ لگنے کا بہانہ بنایا جا رہا تھا اور پاکستان نے امریکا کا یہ بہانہ دور کرنے کے لیے القاعدہ کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے میں پوری تندہی کا مظاہرہ کیا تھا۔ آج بھی پاکستان کو اپنی خدمات کی یاد دلانے کے لیے القاعدہ کے چارسو سے زیادہ سرگرم کمانڈروں اور ہمدردوں کو حوالہ امریکا کرنے کے ذکربلند آہنگ لہجے میں کرتا ہے۔ ان میں کتنے ہی تھے جو انعام اکرام کی خواہش میں اور امریکا کے غیظ وغضب کم کرنے کی تدبیر میں جرم بے گناہی میں مار ے گئے۔ انہی لوگوں کے ذریعے رسوائے زمانہ گوانتا ناموبے جیل کی رونقیں بڑھانے میں ہم مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔ القاعدہ کے نام پر ہم نے القاعدہ اور ’’مبینہ‘‘ القاعدہ والوں کو پکڑ پکڑ کر اس تنظیم کی سچ مچ کمر توڑ دی یہاں تک کہ ایک رات اس منظم بین الاقوامی تنظیم کا سربراہ اسامہ بن لادن بے بسی اور لاچارگی کے عالم میں ایک خبر کا موضوع بن کر رہ گیا۔ امریکا کی ڈومور کی گردان ختم ہوئی نہ القاعدہ کے خاتمے کے باجود امریکا کی تشفی ہوئی۔ اب بات حافظ سعید تک پہنچ گئی ہے مگر بات یہاں رکنے والی ہوتی تو کچھ نہ تھا بات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اس کی تازہ گواہی پاکستان سے باہر مل رہی ہے۔
افغانستان کے شہرہ آفاق گوریلا لیڈر گل بدین حکمت یار اب ’’امریکا زدہ‘‘ افغانستان میں اپنی زیر زمین زندگی ختم کرکے بالائے زمین آچکے ہیں۔ وہ کابل انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں اور سرکاری رہائش میں سیکورٹی اور پروٹوکول کے ساتھ رہ کر سیاسی میدان میں اپنی طاقت آزمانا چاہتے ہیں۔ حکمت یار کا یہ بیان دو روز قبل پاکستانی اخبارات میں شائع ہوا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان سے ناراضی کی وجہ دہشت گردی نہیں بلکہ امریکا کا یہ خوف ہے کہ خطے میں نیا بلاک بن رہا ہے۔ اس سے بھی معتبر گواہی ترک صدر رجب طیب اردوان کی ہے۔ طیب اردوان نے استنبول ائر پورٹ پر اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے پاکستان اور ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے جسے بند ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن انقرہ کے خلاف سخت نوعیت کی سازشوں کے عمل کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ عراق، شام، لیبیا، تیونس، سوڈان اور چاڈ میں بھی مداخلت جاری ہے یہ تمام معدنی وسائل سے مالامال ملک ہیں۔ یہ ایک سربراہ حکومت کے تاثرات ہیں جس کے بعد کچھ کہنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔ یہ منظر بتا رہا ہے کہ حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک کا محافظ پاکستان نہیں کوئی اور ہے کیوں کہ یہ مطالبات کا نقطۂ آخر نہیں بلکہ ایک حصہ ہے وگرنہ اس فہرست کی طولانی اتنی ہے کہ اس کے پورا ہونے کوایک عمر خضر درکار ہے جو ظاہر ہے کسی انسان کے بس میں نہیں۔ سو اس فہرست پر سرخ لکیر کھینچنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔