January 19th, 2018 (1439جمادى الأولى2)

انتباہ نہیں ڈرون تباہ کریں

 

پاک فوج نے امریکا کو متنبہ کیا ہے کہ پاکستان میں کارروائی سے باز رہے، آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملکی سلامتی کو بہر صورت یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ امریکی ایما پر بہت کارروائی کرچکے۔ حقانی نیٹ ورک سے متعلق امریکی الزامات درست نہیں۔ ہماری مدد کے بغیر امریکا القاعدہ کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتا تھا۔ دوسری طرف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے گرفتار کارندے تک رسائی نہ دینے پر امریکا پاکستان کی 255 ملین ڈالر کی امداد روکنے پر غور کررہاہے اور اگلے ہی دن صدر ٹرمپ نے پاکستان کی امداد بند کرنے کا اعلان کردیا۔یہ ہے امریکا پاکستان دوستی اور شراکت داری۔ ایسے شراکت دار سے یہ کہنا کہ وہ پاکستان میں کارروائی سے باز رہے، اپنی بات ضایع کرنے کے مترادف ہے۔ امریکا نے تو افغان جنگ کے دوران جس وقت جنرل پرویز مشرف برسر اقتدار تھے پاکستان کی جانب سے ہر طرح کی قربانیاں اور اپنے دوستوں کے خلاف کارروائیوں کے باوجود پاکستانی علاقوں میں بمباریاں کیں اور ڈرون حملے روکنے کے پارلیمنٹ کے مطالبے کے بعد درجنوں ڈرون حملے بھی کیے۔ امریکی نمائندہ برائے اقوام متحدہ نے بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کے خلاف سلامتی کونسل کے 14 ارکان کے ووٹ کو ویٹو کرکے یہ کہاکہ دنیا کوئی بھی فیصلہ کرے امریکا وہی کرے گا جو اسے کرنا ہے اور یہی بات پاک فوج کے ترجمان کی خدمت میں عرض ہے کہ امریکا وہی کرے گا جو اسے کرنا ہے۔ وہ انتباہ سے نہیں ڈرون تباہ سے باز آئے گا ۔جس دن انتباہ کے بجائے اس کے ڈرون تباہ کیے جائیں گے اس روز امریکا باز آئے گا لیکن وہ دن کب آئے گا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ سرحدوں اور سرحدی حدود کی حفاظت کی ذمے دار فوج کے ترجمان چند ہفتے قبل کہہ چکے ہیں کہ حکومت کہے گی تو ڈرون گرادیں گے۔ حکومت تو آج کسی کی ہے کل کسی کی ہوگی دستور پاکستان، آئین اور قوانین کے مطابق فوج کو پاکستانی علاقوں میں داخل ہونے والے دشمن کو ٹھکانے لگانا چاہیے۔ امید ہے انتباہ سے آگے بھی قدم اٹھایا جائے گا۔ اب انتباہ نہیں ڈرون تباہ کرنے ہوں گے۔ امریکی دھمکی کو یاد کریں تو کئی وزرا اور افسران یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کارروائی کے لیے تیار رہے، امریکی صدر اوباما تو ایران کے خلاف حملے کی تاریخیں دے دے کر پاکستان کا شیخ رشید بن گئے تھے، لیکن امریکا نے ایران پر حملہ نہیں کیا۔ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو آگ اور بارود کی دھمکی دی اور خاموشی چھاگئی۔ ان کے پاس صرف چند ٹکے ہیں۔ وہ یہ پیسے روکنے کی دھمکی دیتے ہیں اور ہمارے حکمران ڈر جاتے ہیں۔ ایک دفعہ یہ کام بھی کر دکھائیں صرف ساڑھے 25 کروڑ ڈالر ہیں روک دینے دیں یہ رقم تقریباً 26 ارب روپے بنتی ہے۔ اگر پاکستانی حکومت ایک دفعہ امریکا کی جانب سے امداد کی بندش کے بجائے اس سے امداد لینے سے انکار کردے اور صاف کہہ دیا جائے کہ یہ 26 ارب روپے ہمیں نہیں چاہییں اور پاکستانی قوم سے اپیل کردیں کہ وہ یہ رقم ہمیں دے۔ پھر دیکھیں حکمرانوں پر اعتماد کی کمی کے باوجود چند روز میں یہ اربوں روپے قومی خزانے میں جمع ہوں گے۔ 22 کروڑ عوام روپے کے تھیلے لیے کھڑے ہوں گے، پاکستانی قوم میں جذبے کی کمی نہیں بلکہ حکمرانوں کی نیتوں میں خرابی ہے۔ پاکستانی فوج کو بھی اب تنبیہ کرنے کی ضرورت نہیں پاکستانی فضائی حدود میں جو چیز غیر قانونی طور پر آئے اسے مار گرانا چاہیے۔ ترکی نے روسی طیارے کو گرایا تو روس نے کیا بگاڑلیا۔ ایران نے امریکی ڈرون اتارلیا تو کیا ہوا۔ پاکستان بھی یہی کرے۔ جس دن ایک ڈرون گرادیا گیا اس روز پاکستان کا مقام بھی بلند ہوگا اور وقار بھی۔ کب تک امریکی احکامات بجا لاتے رہیں گے۔ ترجمان نے جو بیان دیا ہے اس میں ایک اعتراف بھی ہے کہ اب تک جتنی کارروائیاں کی گئیں امریکی ایما پر کی گئیں۔ اس کا جواب کون دے گا کہ اس کی ہدایت حکومت پاکستان نے دی تھی یا براہ راست امریکی اشاروں پر کارروائی ہوجاتی تھی۔ امریکا کو باز رکھنے کا نسخہ تو یہی ہے کہ ڈرون گرادیے جائیں ورنہ وہ انتباہ سے باز آنے والا نہیں۔

بشکریہ جسارت