January 19th, 2018 (1439جمادى الأولى2)

پھر ایک سال گزرگیا

 


وعدوں، دعوؤں، الزامات، دھرنوں، عدالتی کارروائیوں اور معزولی کے ساتھ سال 2017ء بھی رخصت ہوا۔ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت نے بہت سے وعدے پورے کردیے۔ اپوزیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس نے حکومت کی کرپشن بے نقاب کردی ہے بہر حال سال 2017ء کی سب سے بڑی خبر میاں نواز شریف کی نا اہلی تھی اس سال کے دوران سی پیک، پاک امریکا تعلقات میں تلخیاں اور لفظی جنگ وغیرہ بھی شامل تھے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوؤں کا وقت نکل گیا۔ 2017ء ختم ہوگیا لوڈ شیڈنگ بھی جاری ہے اور بریک ڈاؤن بھی۔ لیکن بہت سے ایسے کام ہیں جو کئی عشروں سے معلق چلے آرہے ہیں۔ ان میں سر فہرست پاکستان کی خاطر ہجرت کرنے والے لاکھوں محصور پاکستانی ہیں جن کے بارے میں اپوزیشن میں رہتے ہوئے سیاسی رہنما کہتے ہیں کہ ہم انہیں وطن واپس لائیں گے لیکن حکومت میں آنے کے بعد بھول جاتے ہیں یا کوئی ان کے کان میں کچھ پھونک دیتا ہے۔ نتیجہ وہی ہوتا ہے جو ہورہاہے کہ محصور پاکستانی 46 برس سے بنگلا دیشی شہریت مسترد کرتے آرہے ہیں ٹاٹ کے ٹکڑوں سے گھر کا دروازہ بناتے ہیں، درختوں کے پتوں اور جھاڑیوں سے چھت بناتے ہیں کیچڑ پانی میں رہتے ہیں لیکن پاکستان ان کے دلوں سے نہیں نکل رہا۔ اسی طرح پاکستان کی خاطر دوہری ہجرت کرنے والے جو لوگ اورنگی ٹاؤن کراچی یا کسی بھی علاقے میں رہتے ہیں ان کو شناختی کارڈ سے محروم کیا جارہاہے۔ نادرا کے عملے کی جانب سے نہایت فضول اور بے ہودہ مطالبات کیے جارہے ہیں کہ اپنے باپ دادا کی ہجرت کی اسناد اور دیگر کاغذات لاؤ جن لوگوں کے شناختی کارڈ پانچ مرتبہ بن چکے تمام تصدیقات ہوچکیں انہیں غیر ملکی قرار دیا جارہاہے جب کہ یہی نادرا ملا اختر منصور اور نہ جانے کس کس کے شناختی کارڈ بناچکا ہے۔ ملک دشمن عناصر نادرا میں بھرے ہوئے ہیں اور محب وطن لوگوں پر عرصۂ حیات تنگ کررہے ہیں۔ یہ بے ایمان لوگ چند ہزار روپے لے کر تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر شناختی کارڈ بنا بھی دیتے ہیں۔ پاکستانی قوم کی عفت مآب بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی 14 سال مکمل ہونے کے باوجود نہیں آسکی۔ دنیا بھر کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کے حوالے سے غیرت کے اعلیٰ ترین معیارات قائم کیے اور ان پر جمے رہے جب کہ پاکستانی حکمرانوں نے غیرت کے تمام درجوں کو اور سطحوں کو پامال کیا۔ اگر عافیہ کی والدہ،بہن اور بچوں کے حوالے سے دیکھیں تو بے حسی اور بے غیرتی کا ایک اور سال بیت گیا۔ اگر محصور پاکستانیوں کے حوالے سے دیکھیں تو بھی یہی نتیجہ ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے ورثا انصاف کے منتظر ہیں۔ آرمی پبلک اسکول کے بچوں کا قرض اس سال بھی نہیں اتارا جاسکا۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری 12 مئی،17 پریل کے متاثرین کے قرض بھی 2018ء پر جا پڑے۔ یہ بات درست ہے کہ بجلی گھروں، سڑکوں، پلوں، ٹرینوں وغیرہ کے منصوبوں کے افتتاح ضرور ہوئے ہیں کسی منصوبے کی تکمیل 2018ء میں، کسی کی دو تین سال بعد ہے لیکن یہ سب انتخابی وعدے اور دعوے ہیں یہ افتتاح بھی انتخابی نوعیت کے ہیں۔ قوم کے قرضے 2017ء سے 2018ء میں منتقل ہورہے ہیں۔ بلوچستان کو حقوق ملے نہ بگٹی کے قاتل ہاتھ آئے۔ فاٹا کو ایف سی آر سے نجات ملی نہ ووٹرز لسٹیں شفاف ہوسکیں۔ وہی متنازعہ الیکشن کمیشن، وہی متنازعہ حلقہ بندیاں اسی قسم کی گول مول باتیں جو گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہیں۔ بس کچھ بدلے گا تو چند ہند سے بندلیں گے۔ مہنگائی کا طوفان ان ہندسوں سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھے گا۔ سال ختم ہونے پر ایک ہندسہ بڑھتا ہے لیکن مہنگائی کے حوالے سے تین تین ہندسے بڑھتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں 6.79روپے اضافے کی نوید سنادی گئی ہے۔ نوید کیا ایسے احکامات پر تو رات سے ہی عمل شروع ہوجاتا ہے لیکن ہم زندہ قوم ہیں پھر بھی جشن مناتے ہیں، فائرنگ کرتے ہیں، کروڑوں روپے کا اسلحہ بھارت، اسرائیل اور امریکا جیسے دشمنوں کی موجودگی میں ہوا میں اڑادیتے ہیں۔ جھوٹے اور مکار سیاست دانوں کی ساری مکاریوں کے باوجود انہیں بار بار حکمرانی کا موقع دیتے ہیں، سروں پر بٹھاتے پھرتے ہیں۔ سب زندہ باد۔نیا سال مبارک۔بشکریہ جسارت