October 24th, 2017 (1439صفر3)

اقدار و روایات کا تحفظ، مستحکم پاکستان کی ضمانت

 

عالیہ شمیم
مسلمانوں کی طاقت کا اصل منبع ایمان و اخلاص ہے، کیوں کہ جب منافقت اور ضعف اعتقاد عام ہو جا ئے۔ جب سمع و ضابطے کی پابندی باقی نہ رہے قانون کا احترام باقی نہ رہے۔ جب بے حیائی و بے حسی اور فحاشی عام ہو جائے۔ جب فرا ئض پس پشت ڈال دیے جائیں۔ جب قوانین علی الاعلان توڑ ڈالے جائیں۔ جب انسانیت درندگی کا روپ دھار لے۔ اپنے پرائے کی تمیز ختم ہو جائے تو جہالت، مفلسی، اخلاقی گراوٹ، خیانت، جھوٹ، دغا بازی، بد معاملگی، و خستہ حالی ضرب المثل بن جاتی ہے۔
موجودہ دور امت مسلمہ کی زبوں حالی کا دور ہے، چوری، رشوت، خیانت، تعصب، لاقانونیت، جان مال، عزت و آبرو ہر چیز داؤ پر ہے اور اس کی وجہ مذہب سے دوری و لا تعلقی ہے آج مسلمان تمام دنیا میں محکوم و مغلوب ہیں، حتیٰ کہ اپنے دور حکومت میں بھی غیروں کے اخلاقی، ذہنی، و مادی تسلط سے آزاد نہیں، وہ وقت جب مسلمان اپنے وعدوں اور امانت سے پہچانا جاتا تھا، کردار کی بلندی ایک مسلم کا خاصہ تھی، امانت، صداقت، ایفائے عہد کی صفات سے ممتاز تھے آج خیانت، جھوٹ اور بد معاملگی اور اخلاقی گراوٹ میں مبتلا ہو کر اسلام کی بدنامی کا باعث بن چکے ہیں اور اس کی اہم وجہ اغیار کی نقالی اور اسلامی روایات و ثقافت سے رو گردانی ہے، ہمسایہ قوموں کی نگاہ میں اپنی عزت و وقار کھو چکے ہیں۔ کسی زمانے میں دینی حمیت سے سرشار مسلمان آج بے دینی میں مبتلا ہو کر ہمسایہ قوموں پر اپنی پہلے والی ساکھ کھو چکے ہیں۔ سیرت، اخلاق و کردار کی خرابی کی وجہ سے تعلیم دولت، ثروت، عہدہ، اور مغربیت میں رنگے مسلمان، شیطان کا آل ۂ کار بن کر اجتماعی قوت و طاقت سے محروم ہو کر دشمنوں کے لیے تر نوالہ بن چکے ہیں۔
عالمی طاقتوں نے اپنے مفادات کی خاطر وطن عزیز کو جنگ کا ایندھن بنا ڈالا ہے، بم دھماکے، ڈرون حملے، اور امداد کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں مصروف مغربی سازشیں مسلمان کو مسلمان سے لڑوانے اور دہشت گردی کو روکنے کی آڑ میں خود دہشت گردی کرنے میں ملوث ہیں، دہشت گردی کا سلسلہ وطن عزیز میں تھمنے کے بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے بس صورتیں مختلف ہو گئی ہیں۔ کبھی لینڈ مافیا کی سورت میں، تو کبھی ٹار گٹ کلنگ کی صورت میں، اور کبھی لسانی و عصبی فسادات کی صورت میں، دشمن قوتیں منظم منصوبے کے تحت سودی معیشت مسلط کر کے ملکی بگاڑ، غربت و افلاس پیدا کر رہے ہیں، ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ربّ سے تعلق جوڑا جائے، اپنی کھوئی ہوئی اقدار و روایات کا تحفظ کرتے ہوئے خیر و صلاح کا راستہ اپنا کر غیرت ایمانی بیدار کی جائے۔ قوموں کی دینی، و اخلاقی صحت برقرار رکھنے کا واحد ذریعہ ہر فرد میں غیرت ایمانی اور اخلاقیات کی حس کا موجود ہونا ضروری ہے اور اس کو رسول اکرم ؐ نے جامع لفظ حیاء سے تعبیر کیا ہے۔ بدی اور معصیت سے دل میں نفرت، ظلم اور استیصال پر غیرت ایمانی کی وجہ سے دل میں بے چینی و اضطراب، گناہ کے ارتکاب پر ضمیر کی چبھن، یہ سب حیاء کے زمرے میں آتیں ہیں ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے جو بدکاری و بد نظری سے بچاتا ہے۔
ریاست کی تعمیر میں خاندان ریڑھ کی ہڈی ہے مضبوط و مستحکم خاندان قوی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے، موجودہ دور میں آزادی نسواں کی آڑ میں بے حجابی کے فروغ نے موجودہ ملحدانہ اور لا دینی نظام پر مبنی معاشرہ قائم کر کے عورت کی تحقیر و تذلیل کی ہے۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک زوال پزیر نہیں ہوتی جب تک اس کی عورتیں زیور حیاء سے مزین اور مرد شمشیر غیرت سے مسلح ہوں۔ حیا وحجاب کا اصل مقصد عورت اور مرد کے آزادانہ اختلاط میں رکاوٹ قائم کر کے فحاشی و بے حیائی کا سدباب کر کے پاکیزہ معاشرہ وجود میں لانا ہے۔ اسلام آرا ئش کا حکم دیتا ہے نمائش کا نہیں جب کہ موجودہ معاشرے میں اظہار حسن و جمال کی خواہش نے آج کی عورت کے ذہنوں پر تسلط جما کر بے حیائی میں مبتلا کر دیا ہے کہیں فن کے نام پر، کہیں ترقی کے نام پر، کہیں آرٹ کے نام پر اور عورت کی نہ صرف شرف نسوانیت پامال کی ہے بلکہ مغرب کی اندھی تقلید نے عورت کو بے حیائی کی دلدل میں گھسیٹ کر مسلم خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا ہے۔ حقیقی حسن بے حیائی و بے حجابی میں نہیں بلکہ حقیقی حسن وہ ہے جو آنکھوں کو حیاء اور دل کو ایمان و تقویٰ سے معمور کرتا ہے۔ مغربی تہذیب کے ایام بیمار و مغلوب ذہن کی عکاسی ہیں، اپنی اقدار و روایات یہ میں تحفظ مضمر ہے۔ نسل نو کی بقا کے لیے، مستحکم معاشرے کے لیے، پاکیزہ ابلاغ کے ذریعے اپنی شناخت قائم کرنا اور معاشرے سے بے حسی، جہالت، بے حیائی و اخلاقی گراوٹ، بے ایمانی و لاقانونیت کے خاتمے کے لیے خیر و بھلائی کے پیغام کو عام کرنا مسلم معاشرے کے ہر فرد کی ذمے داری ہے اس ذمے داری کو احسن طریقے سے ادا کرنے ہی میں پرسکون، و خوشحال معاشرے کا حصول ممکن ہے۔