December 17th, 2017 (1439ربيع الأول28)

اہلِ علم کی ذمہ داری

 

سراج الحق
 آپ معاشرے کے وہ منتخب، سنجیدہ اور فہمیدہ لوگ ہیں ، جو اپنے اپنے شعبۂ علم میں سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے دلی مبارک باد اور بھرپور تحسین کے مستحق ہیں کہ اسلام کے غلبے اور ملک و ملّت کی فلاح کے لیے کوشاں ہیں۔ پھر یہ حقیقت بھی اپنے ذہن میں تازہ رکھتے ہیں کہ  علّامہ محمد اقبال جیسے عاشقِ قرآن اور عاشقِ رسولؐ نے اس مملکت کا تصور پیش کیا۔ قائداعظمؒ ایک اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست کا قیام عمل میں لائے، اور مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی نے قیامِ پاکستان کے بعد اسے ایک واضح نظریاتی اور آئینی سمت دی۔
ہم آج جس ماحول میں سانس لے رہے ہیں، اس میں دنیا کی فکری سمت بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔ دنیا کا نقشہ بھی بدل رہا ہے، ٹکنالوجی کی تیزرفتار ترقی اور میڈیا کی یلغار نے معاشرے کی قدروں کو بدل کے رکھ دیا ہے۔ طریقۂ تعلیم اور معیارِ تعلیم کے زاویے بدل گئے ہیں۔ سرمایے کی گردش نے سوچ، فکر اور نظریات کو تبدیل کر دیا ہے۔ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم نے  خاص طور پر ہمارے معاشرے کو تتربتر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اچھی حکمرانی ایک خواب لگتا ہے۔ معاشرتی نظم و ضبط زوال پذیر ہے۔ دورِحاضر کے ان چیلنجوں سے آج کا پاکستان اور اسلامی تحریک بھی اسی شدت سے دوچار ہیں۔ ان سے نکلنے کے لیے ایک نقشۂ کار کی ضرورت ہے۔
اس حوالے سے کرنے کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اہلِ علم آپس میں ملیں اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کے بارے میں آگاہ ہوں۔ پھر درپیش مسائل و مشکلات سے نمٹنے کے لیے باہم مشورہ کریں۔
علم، اللہ تعالیٰ کا ایک نہایت بیش قیمت تحفہ ہے۔ اس لیے جو صاحب ِ علم ہیں، ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ علم کی اس روشنی کو اللہ کی اطاعت اور بندوں کی فلاح کے لیے استعمال کریں۔
اسی طرح علم کا تعلق دعوت سے بھی ہے۔ دعوت نام ہے اسلام کی طرف بلانے اور دلائل کے ساتھ اسے اللہ کے بندوں کے سامنے پیش کرنے کا، اور زندگی کے مسائل کو اسلام کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرنے کا۔ اسی طرح دعوت نام ہے شکوک و شبہات کو دُور کرنے کا۔ اسلام کا علم جتنا زیادہ پھیلے گا، شہادتِ حق کا کام اسی قدر آسان ہوگا اور عوام الناس اسی رفتار سے اسلام کے دامنِ رحمت میں پناہ لینے آئیں گے۔
سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تہذیب و تمدن کی سطح پرکوئی پیش رفت، علمی جدوجہد کے بغیر نہیں کی جاسکتی، اور سیاسی کامیابی بھی دراصل علمی محاذ پر کامیابی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اسلام کا غلبہ   علمی خدمت کے بغیر ممکن نہیں۔ اصحابِ علم و دانش کی قیادت، فکری رہنمائی اور علمی لحاظ سے برتری کامیابی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اِسی فرض اور ذمہ داری کا شعور اُجاگر کرنا موجودہ زمانے کا سب سے اہم چیلنج ہے۔
مستقبل میں تحریک اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تحریک ِ اسلامی ایک علمی تحریک کے طور پر اپنی نظریاتی ساکھ کو ٹھوس بنیادوں پر مضبوط کرے، اپنے کارکنان اور اپنی قیادت کو    علمی لحاظ سے مضبوط بنائے اور حق کی دعوت کو علم و دلیل کی قوت سے پیش کرے۔
پاکستان کی تعمیر و ترقی اور تحریک اسلامی کی جدوجہد سے وابستگی رکھنے والے تحقیق کاروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حق کی اشاعت کریں، باطل کے جھاڑ جھنکار کی صفائی کریں اور ایمان و یقین کی فضا کو چاروں طرف پھیلائیں۔ ان شاء اللہ، اس سے اسلام غالب ہوگا، معاشرے کی اصلاح ہوگی، سیاست، معیشت، معاشرت، ثقافت اور مملکت کے تمام شعبوں میں بہتری آئے گی۔
آج کی دُنیا پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر بے پناہ مادی ترقی اور روز مرہ سہولتوں کی دست یابی کے باوجود انسانیت سسک رہی ہے، پریشان ہے، خوف زدہ ہے اور مایوس بھی۔ ان تکلیف دہ مسائل کی بڑی وجہ یہی ہے کہ دنیا کا نظامِ کار اور تبدیلی کا عمل توحید کے بنیادی تصورات پر مبنی نہیں ہے۔توحید سے انکار درحقیقت آخرت کی جواب دہی سے انکار ہے۔ یہ کمزوری یا بیماری ہی دراصل انسانی دُکھوں کا مرکز ہے۔ ہمیں توحید ، توحید کے پیغام اور توحید کے تقاضوں کو اپنے ایمان، اپنے علم اور اپنے طرزِ زندگی کا محور بنانا ہے۔
مولانا مودودی  نے تحریکِ اسلامی کی کامیابی کی شرائط  میں ایک جگہ فرمایا ہے: ’’دنیا میں جو نظامِ زندگی بھی قائم ہے اُن کو اعلیٰ درجے کے ذہین اور ہوشیار لوگ چلا رہے ہیں اور ان کی پشت پر مادی وسائل کے ساتھ عقلی اور فکری طاقتیں اور علمی و فنی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرے نظام کو قائم کردینا اور کامیابی کے ساتھ چلا لینا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ سادہ لوح خواہ کتنے ہی نیک اور نیک نیت ہوں اس سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتے۔ اس کے لیے گہری بصیرت اور تدبر کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے دانش مندی اور معاملہ فہمی درکار ہے‘‘۔
اس پس منظر میں تحقیق،تحریر، مکالمے اور دانش کی دنیا سے تعلق رکھنے والے قابلِ قدر افراد سے تحریک اور اُمت کی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ انھیں رجحان ساز طبقے کی حیثیت سے رہنمائی کرنی ہے اور یہ کام کم از کم حسب ذیل نکات کی صورت میں ضرور کیا جانا چاہیے:
     ٭    علم، تحقیق اور فکر کی دنیا میں اسلامی رجحانات کا فروغ اور غیر اسلامی فکری تصورات کا دلیل سے مقابلہ۔
     ٭    تحریک اسلامی کو اپنے اپنے دائرۂ کار میں علمی کام کے ذریعے قوت فراہم کرنا۔
     ٭    سیکولرزم ایک جارح نظریے کے طور پر ایمان، اخلاق، تہذیب بلکہ قومی سلامتی پر حملہ آور ہے۔ اس یلغار کا احساس اور شافی جواب ۔
     ٭    مختلف پالیسیوں پر اسلام کی منشا کے مطابق موقف پیش کرنا۔
     ٭    تعلیم، نصاب، تعلیمی انتظامیات اور تدریس کے ماحول میں اسلام کے عادلانہ ، فکری اور رفاہی رجحانات کا فروغ۔
     ٭    ملک میں عمومی سطح پر تحقیق کے ذوق کی آبیاری اور اپنے تحقیقی یا دل چسپی کے میدانوں میں اسلامی فکر کی بنیاد پر تحقیق و تجزیے کی ترویج۔
     ٭    اسلام کا دفاع اور شکوک و شبہات کے خاتمے کے لیے جدوجہد ۔
     ٭    عربی، انگریزی میں کام کرنے کے ساتھ خود مقامی زبانوں میں بھی کام کی ضرورت ہے۔ یہ کام اسلام کے عطا کردہ فہم کا تقاضا بھی ہے اور دعوت کا ذریعہ بھی۔
     ٭    اسلامی افکار و علوم کے تحت اعلیٰ درجے کا فکری اور اطلاقی کام ۔
     ٭    پاکستان کا نظامِ حکومت اور نظامِ ریاست آپ کی توجہ اور مطالعے کا موضوع رہنا چاہیے۔ آج ہماری معاشی پالیسی ہو یا ماحولیاتی پالیسی، یہ سب غیروں کے ہاتھوں میں ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے، اُن کا حل ڈھوندنے کے لیے بھی ہمیں مغرب، عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی بنک کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ پالیسی سازی کے مباحث ملک کے پالیسی سازاداروں، حکومتی ایوانوں اور قومی تحقیقی اداروں میں موضوعِ بحث نہیں بنتے۔ یہاں تک کہ قانون سازی جیساحساس کام بھی پارلیمنٹ میں اپنی اصل روح کے ساتھ نہیں ہوپاتا۔
اس صورتِ حال میں ملک و ملّت کی آیندہ نسلوں کی ذمہ داری آپ کے سوا کون اُٹھا سکتا ہے کہ نوخیز نسل کے فکروعمل کو اسلام کی روح کے مطابق ڈھالا جائے۔ اس ضرورت کو اپنی تعلیم وتربیت کی بنا پر آپ ہی پورا کرسکتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی علمی کاوشیں تحریک اسلامی کی جدوجہد کا جزولاینفک بنیں۔ جماعت کے مرکزی شعبۂ تحقیق و تجزیہ اور ادارہ معارفِ اسلامی کراچی اور لاہور سے آپ کا براہِ راست تعلق بنے، تاکہ آپ کا تحقیقی کام تحریک اسلامی اور اسلامی و خوش حال پاکستان کے لیے ممدومعاون ثابت ہو۔