August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

فیصلے کی گھڑی

 

اداریہ

اپریل2016ء سے شروع ہونے والا پاناما مقدمہ فیصلہ کن موڑ پر آگیا ہے اور آج جمعرات کو دن کے دو بجے عدالت عظمیٰ اس کا فیصلہ سنا دے گی۔ عدالت نے فیصلہ 57 دن سے محفوظ کر رکھا ہے۔ اس پورے عرصے میں سیاسی راہداریوں میں ایک ہلچل مچی رہی اور اس کی 35 سماعتوں میں سے ہر ایک سماعت ہر عدالت عظمیٰ کے باہر ایک میلہ لگا رہا۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے نمائندے بڑے خضوع و خشوع سے حاضری دیتے اور اپنے اپنے تبصرے کرتے رہے۔ وفاقی وزرا جس پابندی سے آتے رہے اتنی پابندی تو انھوں نے پارلیمان میں جانے کے لئے بھی نہیں کی بلکہ کبھی اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں بھی حاضری نہیں دی جہاں ان کے رائے دہندگان اپنے نمائندوں کی شکل دیکھنے کو بھی ترس گئے۔ سماعت کے دوران میں حاضری کا مقصد’’ شاہ سے زیادہ وفاداری‘‘ کا اظہار تھا چناچہ ہر ایک ہی فیصلے سے پہلے اپنے فیصلے دے رہاتھا۔ پیپلز پارٹی نے اپنی حکمت کے تحت اس تنازع سے دور رہنا ہی بہتر سمجھا تا ہم پاکستان تحریک انصاف نے بھر پور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور شیخ رشید بھی عمران خان کی حمایت میں دلچسپ تبصرے کرتے رہے کہ ’’ ن یا قانون میں کسی ایک کا جنازہعدالت عظمیٰ سے نکلے گا‘‘وہ خود بھی اس مقدمے میں فریق بنے اوراپنی وکالت خود کی اور ایک عرصے تک اپنی کارکردگی پر اپنی پیٹھ خود ہی ٹھوکتے رہے۔ گزشتہ منگل کو بھی شیخ رشید نے ’’ن اور قانون‘‘ کا اپنا جملہ دوہرایا۔ اس پورے معاملے میں ان کا کچھ بھی داؤ پر نہیں لگا ہوا اور فیصلہ خواہ کچھ بھی آئے وہ اپنی ایک رکن پارٹی چلاتے رہیں گے۔ سب سے زیادہ بے چینی عمران خان کو ہے کیونکہ ان کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔ان کو گمان ہے کہ ایوان میں اگلی باری ان ہی کی ہے۔ ایک عجیب بات ہے کہ ہے فریق یہ کہہ رہا ہے کہ فیصلہ جو بھی اائے گا اسے قبول کریں گے ۔ قبول نہ کرنے کے سوا اور کیا چارہ ہے؟ اور اگر قبول نہ کیا تو کیا کیا جائے گا ۔ جب سے یہ اطلاع اائی ہے کہ عدالت عظمیٰ پاناما مقدمے کا فیصلہ جمعرات 20 اپریل کو سنانے جا رہی ہے، ایک بار پھر تمام ذرائع ابلاغ متحرک ہو گئے ہیں اور ہر طرف سے قیاس کے گھوڑے دوڑائے جا رہے ہیں۔ اسی اثنا میں گزشتہ منگل کو یہ کبر عام ہوتے ہی پورے لاہور مین دیکھتے ہی دیکھتے بینرز لگ گئے کہ ’’قائد کا ہو ایک اشارہ، حاضر حاضر لہو ہمارا‘‘۔ وزیر اعظم سے وفاداری کا یہ اعلان شکوک پیدا کررہا ہے۔اس کا تاثر منفی ہے۔آخر ایسا کیا ہوگیا کہ نواز شریف کو لہو کی ضرورت پیش آگئی۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ کسی ممکنہ ردعمل کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی اور عدالت عظمیٰ کے اطراف میں خاردار تار بچھائے جارہے ہیں، ریڈزون کے راستوں پر بھاری نفرری تعینات کی جارہی ہے۔ عدالت کا فیصلہ آرہا ہے یا جنگ کا بگل بجنے والا ہے۔وزیر اعظم اور عمران خان نے اپنی اپنی پارٹیوں کا ہنگامی اجلاس بلالیا جس میں فیصلے کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔اس اثنا میں وفاقی وزیر اعظم ریلوے خواجہ سعید رفیق نے بڑا عجیب تبصرہ کیا ہے کہ ’’جمہوریت کی قبرکھودنے کی سازش کی جارہی ہے‘‘۔کیا کسی بھی معاملے میں عدالت سے رجوع کرنا جمہوریت کی قبر کھودنے کے مترادف ہے اور کیا جمہوریت میں یہ ممکن نہیں کہ حکمرانوں سے حساب لیا جائے اور اعلیٰ ترین عدالت سے احتساب کی کوشش کی جائے۔اگر ایسا ہے تو وزیراعظم نے بڑے کھلے دل سے اپنے آپ کو احتساب کے لیے کیوں پیش کیاتھا۔کیا اس طرح وہ جمہوریت کا گورکن بننے چلے تھے۔حزب اقتدار ہو ھزب اختلاف اتنا بھڑکنے کے بجائے کچھ انتظار کرلیں،سب کچھ سامنے آجائے گا۔ سیاست میں جوغیر ضروری ہلچل مچائی جارہی ہے وہ آج یا تو کسی کروٹ بیٹھ جائے گی یا پھر تصادم کی نئی راہیں کھلیں گی۔اور وہ اس صورت میں ہوگا جب کوئی عدالت عظمیٰ کا فیصلہ اس کی روح کے مطابق تسلیم نہیں کرے گا۔صرف چند گھنٹے بعد پانامہ کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا اور اس کے بعد ذرائع ابلاغ کو تبصروں کے لیے نیا موضوع ہاتھ لگ جائے گا۔دعا کی جانی چاہیے کہ جو بھی ہو وہ ملک اور عوام کی بہتری کے لیے ہو۔