November 24th, 2017 (1439ربيع الأول5)

مہنگائی کا شدید دھماکا

 

ڈاکٹر احسان باری

 731 در آمدی اشیا پر80فی صد تک ریگولیٹری ڈیوٹی کے اعلان کی ہر فرد شدید مذمت کر رہا ہے غریب دشمن حکومت کا منی بجٹ سال میں کئی بار آتا ہے یہ بجٹ اب کی بار تو سرکاری ملازمین، کسانوں، مزدوروں اور عام غرباء پسے ہوئے طبقات پر بم دھماکے سے کم نہیں ہے غریب عوام تو پہلے ہی اشیائے ضروریہ کی مہنگائی کے قبرستان میں زندہ دفن ہونے پر مجبور تھے اور بیوی بچوں سمیت خود کشیاں اور خود سوزیاں کی جارہی تھیں کہ اب یہ قیامت آن پڑی ہے نااہل شریفوں اور ناکام اور کرپٹ وزیر خزانہ کی سزا غریب عوام کو دینا قرین انصاف نہیں ہے۔ 25ارب کے نئے ٹیکس لگا نا انتہائی ظلم اور عوام پر مہنگائی کا ڈرون حملہ کرنے کی طرح ہے۔ ریگولیٹری ڈیوٹی کے ذریعے لوگوں کے کندھوں پر مزید بہت بڑا بوجھ ڈالنا حکومتی معاشی ناکامیوں کا تسلسل ہے اگر اس کو واپس نہیں لیا جاتا تو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں اسمگلنگ بھی مزید بڑھے گی اور لا محالہ اس کا سارا بوجھ بھی بے سہاراغریب پاکستانیوں پر ہی پڑے گا کہ یہاں تو اسی ریٹ پر چیزیں بکیں گی مگر سرمایہ دار اور نودولتیے سودخور تو خوب کمائیاں کریں گے اس طرح ہماری قرضوں میں جکڑی معیشت کا مزید بھٹہ بیٹھ جائے گا۔ اب جب کہ انتخابات میں چھ ہی ماہ باقی ہیں تو ایسے ٹیکسوں کا فائدہ حکومتی جماعت، اس کے ہم جولیوں اور ہم نوالہ، ہم پیالہ سرمایہ داروں کو تو مالی طور پر بہت ہوگا مگر سیاسی طور پر حکمرانوں کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کی طرز پر ہو گا۔
گو کہ اشیائے تعیش کی در آمد کو روکنا اور ان پر پابندی لگانا ضروری ہے مگر اس کی آڑ میں ضروری خام مال تو متاثر نہیں ہو نا چاہیے کیوں کہ ہمارا صنعتی شعبہ ان ہی اشیا سے مال تیار کرکے بیرون ملک بھجواتا ہے خام مال پر پابندی یا اس پر ڈھیروں ریگولیٹری ڈیوٹی سے لامحالہ صنعتی پیداوار کی کمی ہو گی اور ہماری مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی اور برآمد میں بھی شدید کمی ہو گی بیرون ممالک ہمارا مہنگا مال بک ہی نہیں سکے گاا س لیے صنعتی خام مال پرریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنا سخت کم فہمی اور بے عقلی ہے۔غیر ضروری اشیا کی در آمد پر تومکمل پابندی عائد کرڈالی جاتی تو بہتر ہوتا مگر 731 درآمدی اشیا پر ڈیوٹی بڑھانا کسی صورت بھی ایسے مسائل کا حل نہیں ہے ۔چاہیے تو یہ تھا کہ جس ملک سے بھی کاروبار کریں اس سے یہ معاہدہ بھی کیا جائے کہ در آمدات کے برابر ہماری اشیا بھی وہ خریدیں تاکہ ہمارا ٹرید بیلنس بہتر اور متوازن ہوتا رہے۔ درآمدات میں تو اضافہ کا رجحان ہے مگر بر آمدات میں مسلسل کمی ہوتی جارہی ہے اس طرح ہمارے زرِ مبادلہ پر انتہائی برا اثر پڑ رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق 2سال میں روپے کی گردش میں اوسطاً 25فی صد اضافہ ریکارڈ ہو اہے جب کہ قبل ازیں11سال میں روپے کی گردش 14فی صد تھی ٹیکسوں کے نفاذ سے بینکوں میں لین دین میں بہر حال کمی ہورہی ہے اور لو گ کھاتوں میں رقوم رکھنا ہی نہیں چاہتے، بینکوں میں ڈیپازٹ کی کمی کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کو بھی بینکنگ سیکٹر کو رقوم فراہم کرکے سہارا دینا پڑتا ہے۔اسٹیٹ بینک کی سفارش پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا مکمل خاتمہ کیا جانا چاہیے وگرنہ بینکنگ سسٹم بھی دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ جائے گا۔ ویسے تو دنیا کے پلید ترین اور غیر اسلامی سودی سسٹم کا مکمل خاتمہ ہماری معیشت کو سنبھالنے کا بہترین ذریعہ ہے مگر چوں کہ مرکز اور صوبوں میں حکمرانی بنچوں پر ظالم جاگیردار کرپٹ وڈیرے ڈھیروں منافع کمانے والے صنعتکار اور نودولتیے سود خور افراد ہی نوے فی صد سے زائد براجمان ہیں اس لیے سابقہ شریفوں کی حکمرانی کے دور میں لیا گیاعدالت عظمیٰ سے سودی نظام کو برقرار رکھنے کا حکم امتناع واپس لیے جانے کا امکان نظر نہیں آتا۔
اب چوں کہ نئے انتخابات سے قبل سرمایہ کی چھینا جھپٹی کا غلیظ عمل شروع ہو چکا ہے سبھی قسم کے ارکان اسمبلی آئندہ منتخب ہونے کے لیے ڈھیروں سرمایہ اور مال و دولت جمع کرنے پر تلے ہوئے ہیں تا کہ آئندہ پھر ووٹوں کی خریداری کرکے منتخب ہوسکیں اس لیے بجٹ کے چار ماہ بعدہی منی بجٹ کے ذریعے کھانے پینے سمیت سیکڑوں اشیا پر ٹیکس عائد کرنے سے مہنگائی کا جو طوفان آئے گا وہ غربت میں پستے نچلے طبقات کو سانس لینا تو درکنار موت کے قریب کر ڈالے گا۔
سرکاری اعلانات کے مطابق پولٹری مصنوعات، دودھ، مکھن، کریم، مچھلی، گندم، مکئی، دھی، پنیر، شہد، سبزیاں، پھل، خشک میوہ جات، منرل واٹر، آئس کریم، پالتو جانوروں کی خوراک ان سب پر ٹیکس لگا کر ان کی قیمتیں بڑھانا ظلم ہی نہیں بیہودہ حرکت بھی ہے بجلی کی گھریلو مصنوعات اور اسٹیل کی قیمتوں کو بڑھانا بھی احمقانہ حرکت ہے حکمران طبقات ہی کے تمام چینی کے کارخانے ہیں برآمدات پر وہ سبسڈی کے ذریعے اربوں کماتے ہیں پھر بھی عوام کی پہنچ سے چینی دور ہے اور دیہاتی لوگ بدستور گڑ شکر استعمال کرتے ہیں نئی گاڑیوں پر تو ٹیکس بڑھا دیا مگر پرانی گاڑیاں تو سستی ہونی چاہیے تھیں ایسا بھی نہ ہوسکا۔ گوداموں اور کھلے آسمان تلے بنائے گئے گندم سینٹرز پر تو گندم کی حالت انتہائی خراب ہے اس کی سابقہ کھپت دو کروڑ تیس لاکھ ٹن تھی مگر پیداوراڑھائی کروڑ ٹن سے زائد رہی اس کو بھی بروقت برآمد نہ کرنا حکمرانوں کی کوتاہی ہے قرضوں میں ڈوبتی معیشت تباہ و بربادہورہی ہے صدر مملکت تک چیخ اُٹھے ہیں اتنے کھربوں روپوں کا قرضہ کسی ہسپتال تعلیم صاف پانی کی فراہمی اور غربت بیروزگاری کے خاتمے کے لیے نہ لگ سکاچار سال سے اللے تللے کاموں ہیمیں رقوم لگا کر ملک سخت قرضوں میں جکڑا جا چکا ہے۔ قسطوں کی واپسی ایک بڑا مشکل مرحلہ ہوگی۔