November 24th, 2017 (1439ربيع الأول5)

امریکی خوف میں کمی

 

حکومت پاکستان نے تھوڑی سی جرأت کا مظاہرہ تو کیا ہے اور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کا سرد مہری سے استقبال کرکے آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ٹلرسن کے استقبال کے لیے وزارت خارجہ کے ایک جونیر افسر کو بھیجا گیا ورنہ اب تک تو امریکا سے آنے والے کسی بھی وزیر کے استقبال کے لیے پاکستان کے حکمران دوڑ پڑتے تھے اور دیدہ و دل فرش راہ کردیتے تھے۔ ایک اچھا کام یہ بھی ہوا ہے کہ ٹلرسن سے انفرادی ملاقاتوں سے گریز کیا گیا ہے اور وفد کی صورت میں ملاقات کی گئی ہے جس میں وزیراعظم اور دیگر وزرا کے ساتھ فوج کے سربراہ بھی شریک تھے۔ اس سے ایک پیغام یہ دیاگیا ہے کہ سول اور فوجی حکام ایک ہی صفحہ پر ہیں اور سب کی سوچ ایک ہی ہے۔ ٹلرسن افغانستان سے ہوکر آرہے تھے جہاں ان کو کابل جانے کی ہمت نہیں پڑی بلکہ افغان صدر اشرف غنی کو امریکی فوج کے محفوظ اڈے بگرام ائر بیس طلب کرلیاگیا اور وہاں ملاقات ہوئی گو کہ کابل انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملاقات قصر صدر کابل میں ہوئی ہے اور ایک جعلی تصویربھی جاری کردی لیکن خود امریکی ذرائع ابلاغ نے اس جعل سازی کا بھانڈا پھوڑدیا اور بگرام بیس پر ملاقات کی اصل تصویر جاری کردی۔ افغانستان پر 16 برس سے قابض امریکا کے وزیر خارجہ کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ امریکی اڈے سے باہر قدم رکھتے اور اپنے مقبوضہ کابل جاسکتے۔ یہ بزدلی کی انتہا ہے اور اس پر دعوے کہ افغانستان میں امن قائم کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ عام امریکی فوجیوں ہی پرنہیں، امریکی حکام پر بھی افغان مجاہدین کا خوف طاری ہے۔ افغانستان پر قبضے کے دعویدار امریکی فوجی بھی اپنی بکتر بند گاڑیوں سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں رکھتے اور پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ امریکا کی مدد کرے، حقانی گروپ کا خاتمہ کرے، طالبان کو کنٹرول کرے اور افغانستان پر امریکی قبضے کو دوام بخشنے میں امریکی احکامات پر عمل کرے۔ ٹلرسن افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کودھمکیاں دیتے رہے اور پاکستان آکر فرماتے ہیں کہ ’’دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہیں‘‘۔ ساتھ ہی اس عنایت کا اظہار بھی کیا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے اسلام آباد امریکا کے ساتھ کام کرسکتا ہے۔ پاکستان کو جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ پیش کش مسترد کردینی چاہیے کہ امریکا اپنی جنگ آپ ہی لڑے، بہت ہوچکا۔ اب یہ ڈھول پیٹنا بند کیا جائے کہ ہم امریکا کے صف اول کے اتحادی ہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کرکے امریکا نے اب بھارت کو صف اول کا اتحادی بنالیا ہے اور اب اس کو افغانستان میں داخل کرکے پاکستان کے خلاف اس سے کام لے رہا ہے۔ گزشتہ منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں مذاکرات کے دوران میں ٹلرسن نے پھر مطالبہ کیا کہ پاکستان آئندہ امریکی پالیسی کے لیے اہم ہے لیکن دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے اور اپنی کوششیں تیز کرے۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو سامنے آئی ہیں لیکن ٹلرسن نے اور بھی کئی مطالبات کیے اور دھمکیاں دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکا نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ امریکا خود پاکستان کے اندر کارروائی کرے گا اور اس کا دائرہ بہت وسیع ہوگا۔ ٹلرسن نے دھمکی دی کہ پاکستان طالبان کے خلاف کارروائی کرے یا نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوجائے۔ جن نتائج کی دھمکی دی جارہی ہے اس میں پاکستان کی حدود میں حملوں کے علاوہ پاکستان کی امداد میں رکاوٹ ڈالنا، پاکستانیوں کے اثاثے منجمد کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے۔ ایران کئی برس سے ان پابندیوں کے باوجود امریکا کے سامنے جم کر کھڑا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ امریکا پاکستان کو سزا دینے کے لیے بھارت سے کام لے گا جس نے پہلے ہی کنٹرول لائن پر جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس موقع پر اگر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے امریکا کے قدموں میں جھکنے سے انکار کردیا اور قومی حمیت کا مظاہرہ کیا تو پوری قوم بھی متحد ہوکر ساتھ دے گی۔ امریکا تو شمالی کوریا کے سامنے ہی بے بس ہے۔ حکمران اور عوام امریکا سے ڈرنے کے بجائے خالق کائنات سے ڈریں تو پوری دنیا مل کر بھی کچھ نہیں بگاڑسکے گی اور اﷲ ناراض ہوگیا تو پوری دنیا فائدہ نہیں پہنچاسکے گی۔ امریکا کے بغیر بھوکے مرجانے کا خوف دل سے نکال دیں۔ ایک تماشا یہ ہوا کہ اس سے پہلے وزارت خارجہ اس ملاقات کے بارے میں کوئی اعلامیہ جاری کرتی، امریکی سفارت خانے نے پہل کردی۔ ٹلرسن اسلام آباد سے بھارت چلے گئے جہاں افغان صدر اشرف غنی کو بھی طلب کرلیاگیا۔ یہ تثلیث کیا رنگ لائے گی اور پاکستان کے خلاف کیا نئے منصوبے بنیں گے، یہ جلد ہی واضح ہوجائے گا۔