November 24th, 2017 (1439ربيع الأول5)

کب تاج اچھالے جائیں گے

 

میاں محمد نواز شریف، آصف علی زرداری ہوں یا پرویز مشرف ہوں یا ان جیسے اور طاقتور اشرافیہ، جن کو عدالتوں سے خود عدالتوں کی زبان میں ’’قرار واقعی‘‘ سزا کب ملے گی؟ایک غریب کو چند ہزار روپے کی چوری یا کسی کو زخمی کرنے کا معاملہ، یا ۸۰ گز کے کسی پلاٹ پر قبضے کا معاملہ ہو اس کو یا تو فوری طور پر ’’قرار واقعی‘‘ سزا مل جاتی ہے یا سزا سے تین گنا زیادہ عرصہ جیل میں فیصلے کے انتظار میں گزار دیتا ہے لیکن افسوس کہ اس ملک میں اشرافیہ کے لیے ’’قرار واقعی‘‘ سزا کا کبھی اطلاق ہی نہیں ہوا کبھی کمیشن بھی بنا تو اس کی رپورٹ آنے میں تیس تیس سال لگ گئے۔ آصف علی زرداری کے خلاف لندن میں جن شواہد کے کنٹینر اور وہاں موجود ایک قدیمی جیالے واجد شمس الحسن کے کارنامے تو پوری قوم نے میڈیا پر ایک نہیں سو سو بار دیکھے ہماری اشرافیہ کے خلاف ان میں سے ایک بھی ثبوت برآمد نہیں ہو سکا، اسی طرح سیاسی بدمعاشیہ کے خلاف قائم کیے گئے ہزاروں نہیں تو سیکڑوں مقدمات کس طرح ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے جاتے ہیں جب کہ ایک بیوہ اپنا جائز حق مانگتے مانگتے اس جہاں فانی سے کوچ کر جاتی ہے۔ اب نواز شریف کے پاناما کیس کو ہی لے لیجیے کہ عدالت اس بات کا ثبوت مانگتے مانگتے ہانپ گئی کہ خدا کے لیے کچھ کر لو اور کوئی ایک صرف ایک ثبوت ہی عدالت میں پیش کردو کہ تمہارے پاس یہ کھربوں روپے اور اربوں ڈالر کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اثاثوں کی خرید کے لیے کہاں سے آئے مگر کیا مجال کہ نواز شریف ٹس سے مس ہو جاتے انہوں نے نہ کوئی ثبوت دینا تھا اور نہ دیا پھر قوم کے اٹھارہ مہینے بشمول چھ ماہ کی جے آئی ٹی کے ضائع کر دیے گئے۔ چوں کہ عدالت کے ہاتھ بھی قانون نے باندھ رکھے تھے کہ اگر نواز شریف کوئی ثبوت پیش نہ کر سکیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق ’’قرار واقعی‘‘ سزا تفویض کر دی جائے مگر نادیدہ قوتوں نے اپنا کام دکھا دیا۔ یہاں ایک بات اور سوچنے کی یہ ہے کہ نواز شریف کے پاس بیرون ملک کھربوں کی جائدادیں بنانے کے ذرائع تو لازماً موجود ہوں گے شاید وہ دولت پاکستان پہنچی ہی نہ ہو تو ظاہر ہے کہ جو دولت پاکستان ہی نہ پہنچی ہو تو اس کی ترسیل کا ریکارڈ کہاں موجود ہوگا اور اگر دولت باہر سے باہر ہی ان کے اکاؤنٹس میں پہنچ گئی تو وہ کون سی دولت ہو سکتی ہے؟

وہ صرف وہی دولت ہو سکتی ہے جو ملک و قوم کے نام پر لیے قرضوں کا کمیشن ہوگا یا بیرونی فرموں کو ملک میں کام کرنے کے ٹھیکوں کا کمیشن ہوگا جو بالا ہی بالا ان کے اکاؤنٹس میں جمع کیا جاتا رہا اس کے علاوہ بھارت سے لیکر وینز ویلا تک درجنوں ممالک میں جمے کاروبار کی آمدنی ہو سکتی ہے جو ظاہر ہے کہ وہ پاکستانی بینک اکاؤنٹس میں تو نہیں جا سکتا لا محالہ بیرون ملک کے بینکوں میں ہی جاتا ہوگا مگر عدالت عظمیٰ نے کسی بھی بیرون ملک کے بینکوں سے نواز شریف اور ان کے خاندان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرنے کی زحمت ہی نہیں کی یہاں تک کہ برطانوی حکومت سے بھی نہیں پوچھا گیا کہ ان کی سرزمین پر موجود فلیٹس کی رجسٹری کس کس کے نام ہے اگرچہ کہ جے آئی ٹی نے کچھ کوشش کی جس کے جواب میں کچھ ہاں اور کچھ ناں کی شکل میں مبہم رجحان پایا گیا پاناما کی آف شور کمپنیوں کی سرمایہ کاری کا سراغ نہیں لگایا جا سکا کہ کتنی دولت قوم کے نام پر لوٹ کر یہ لوڈو کھیلا جاتا رہا۔ اب نواز شریف پوچھتے پھر رہے ہیں بھائی جب پاناما میں کچھ ثابت ہی نہیں ہوا تو ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ بات تو ایک طرح درست ہی معلوم ہوتی ہے اب ان کو سیاست کے لیے اور مواد ہاتھ آگیا کہ کیس تو پاناما کا تھا لیکن نکالا اقامہ کے بہانے سے، اگر یہ درست مان لیا جائے کہ انہوں نے ۲۰۱۳ کے انتخابات کے وقت بیٹے سے تنخواہ لینے کا ذکر نہیں کیا تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ بھائی یہ تو ہمارے گھر کا معاملہ ہے آپ کو اس سے کیا غرض! حقیقت یہ ہے کہ قوم کو پاناما کا فیصلہ براستہ اقامہ قبول نہیں ہوا اب پیپلز پارٹی کو بھی ایک نکتہ ہاتھ آگیا کہ یہ ایسا ہے جیسے قوم نے بھٹو کی پھانسی کو قبول نہیں۔ دانشوروں کا دانش مندانہ تجزیہ یہ بتا رہا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ اشرافیہ اپنی قوت بڑھانے میں کوشاں ہے اور وہ ہر طرح کا فیصلہ عدالتوں سے حاصل کرنے کی بھرپور طاقت رکھتا ہے مگر یہ وقت کا دھارا ہے جو کبھی رکتا نہیں اور اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جائے تو گمان غالب ہے کے نواز شریف کی موجودہ مہم جوئی رفتہ رفتہ عوام میں نہ صرف سرایت کر جائے گی بلکہ آئندہ انتخابات میں اپنا کلیدی کردار بھی ادا کرے گی لیکن نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کردینے سزا دلوا کر جو سرے سے کوئی سزا ہی نہیں، کی آڑ میں کھربوں روپے کب اور کیسے بازیاب کرائے جا سکیں گے اور اس سے بھی بڑا سوال کہ آئندہ ایسا نہ ہونے کی کون گارنٹی دے گا اور کون قانون سازی کرے گا کہ قوم کے نام پر کوئی اور طالع آزما بیرونی آقاؤں کو ٹھیکوں اور قرضوں کا کمیشن حاصل نہ کرسکے۔ آخر کب تک یہ قوم کمیشن، بھتا خوری اور قرضوں کی چکی میں پستی رہے گی۔ کب عدالتیں آزادانہ فیصلے کرسکیں گی اور کب تاج اچھالے جائیں گے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔