November 24th, 2017 (1439ربيع الأول5)

کارڈز بہتر طور پر کھیلنے کی ضرورت ہے.

 

غزالہ عزیز

پاکستان کو ایک بار پھر قابل اعتماد پارٹنر کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ چھڑی کے بعد گاجر کی ضرورت اتنی جلدی کیوں آن پڑی؟؟ اور گاجر کی اصل ضرورت ہے کس کو؟؟ وزیر خارجہ نے اسلام آباد کے ساتھ امریکی شراکت داری پر اعتماد کا اظہار کیا ساتھ ہی پاکستان سے تعلقات کی بہتری کے لیے ہر سطح پر کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ خواہ وہ وزارت خارجہ ہو، وزارت دفاع ہو، انٹیلی جنس کے معاملات ہوں یا اقتصادی یا تجارتی تعاون۔ اتنی جلدی پلٹا کھانے کی وجوہ کیا ہیں؟؟ گاجر اسلام آباد کو دکھائی جارہی ہے یا خود کو گاجر کی ضرورت محسوس ہورہی ہے؟؟
کہاں صدر ٹرمپ افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد پر خوب گرجے برسے دہشت گردوں کی معاونت کا الزام لگایا لیکن اب امریکا کے وزیر دفاع بھی کہہ رہے ہیں کہ افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے تحت کوئی قدم اٹھانے سے قبل امریکا پاکستان کے ساتھ ایک بار پھر مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔
یہ پچھلے چند دنوں ہی کی بات تو ہے جب یہی امریکی وزیر دفاع ناٹو کا سیکرٹری جنرل کو لے کر ایک غیر اعلانیہ دورے پر افغان دارالحکومت پہنچے تو طالبان جنگجوؤں نے ان کا استقبال راکٹ حملوں سے کیا۔ درجنوں راکٹ داغے گئے۔ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد کسی بھی امریکی وزیر کا یہ پہلا دورہ تھا۔ گاجر کی ضرورت اور استعمال کی وجہ پاکستان کی روس اور چین سے تعلقات اور قربت بھی ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر امریکا کے اثرورسوخ میں کوئی شگاف سا محسوس ہورہا ہے تو پاکستان کو اپنے کارڈز بہتر طور پر کھیلنے کی ضرورت ہے۔لیکن افسوس ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ اور وزیراعظم دونوں نے اپنے گھر کے گندا ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے پہلے اپنے گھر کو صاف کرنے کی بات کی۔ یہ بیان امریکا، بھارت اور افغانستان تینوں کو خوش کرنے کی ایک کوشش محسوس ہوئی۔ دوسری طرف بھارت افغانستان میں بہتر کردار کی ادائیگی کے لیے آگے بڑھا اور افغانستان کے 31 صوبوں میں 116 منصوبے لینے کا اعلان کیا۔ جب کہ پہلے سے وہ سیکڑوں منصوبوں پر کام کررہا ہے۔
کتنی حیرت کی بات ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے پاکستان کو دوسروں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ حال ہی میں ہمارے وزیراعظم پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے چین کے کردار کو سراہا رہے تھے۔ دوسروں کے لیے اپنے ملک کے مفادات داؤ پر لگانا ہمارے ہاں عام ہے۔ دوسروں کے لیے تو ان کے اپنے مفادات اہم ہوتے ہیں۔ لہٰذا امریکا کی طرف سے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بات کی جارہی ہے تو اس میں ان کا مفاد ہے۔ افغانستان میں امن کی خواہش اتنے برسوں بعد بھی محض ایک خواہش ہے۔ طالبان کی طاقت کا اندازہ لگانا ہو تو ان سے مذاکرات کے خواہشمندوں کی گنتی کرلینی چاہیے۔ امریکا برطانیہ کے علاوہ ناٹو اتحاد کے چوالیس ممالک۔۔۔ پھر چند برسوں پہلے اس خواہش کی بے تابی کا یہ عالم تھا کہ وہ ہر کس و ناکس کو طالبان لیڈر مان کر مذاکرات کی میز سجانے میں دیر نہیں کرتے تھے۔ ایک عرصے تک ایک معمولی دکاندار کو ملا منصور سمجھ کر مذاکرات کرتے رہے۔ انہیں لاکھوں ڈالر کی ادائیگی بھی کرتے رہے۔ یہ صاحب طالبان لیڈر بن کر کئی مرتبہ برطانوی رائل ائر فورس کے طیارے پر کابل لے جائے گئے۔ دو ہزار نو کے وسط میں جب انہیں کرزئی سے ملانے لے جایا گیا تو ایک افغان اہل کار جس نے ملا منصور کو دیکھا ہوا تھا بھانڈا پھوڑا کہ یہ اصل آدمی نہیں۔ اُس وقت افغان آرمی چیف محمد عمر داؤد زئی نے امریکی اور برطانوی حکام کو جتا دیا کہ وہ تنہا تنہا اور بالا بالا ہی طالبان سے مذاکرات نہیں کرسکتے۔ 2013ء میں قطر میں امریکی حکام نے افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کا آغاز کیا۔ اور یوں امریکا کو اپنی تاریخ کی سب سے ہلاکت خیز اور مہنگی ترین جنگ کا خاتمہ ہونے کی اُمید بندھی۔ مذاکرات کی میز کئی دفعہ پاکستان میں بھی سجائی گئی لیکن امریکی میزائل انہیں الٹ دیتے کہ امریکا کو پاکستان پر اعتماد نہیں تھا۔ خیر خدا خدا کر کے امریکا کو افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے میں کامیابی ہوئی اب اس وقت افغانستان میں امریکا کی چند ہزار فوجیں موجود ہیں۔ لیکن افغانستان سے باعزت واپسی ابھی بھی امریکا کا ایک دردِ سر ہے۔ اور ایسا درد سر ہے جس کی دوا لینے میں بھی امریکا خوف زدہ ہے کہ روس اپنی سرزمین پر افغان، چین اور پاکستان کو کانفرنس کی میز پر بیٹھا چکا ہے۔ فروری 2017ء میں ماسکو میں کانفرنس ہوئی اور مزے کی بات یہ کہ اس کانفرنس میں امریکا، یورپی یونین اور ناٹو سمیت کوئی مغربی طاقت موجود نہیں تھی۔