October 24th, 2017 (1439صفر3)

جدید ہتھیاروں کی تجربہ گاہ

 

عارف بہار

امریکا نے شام میں ایک فضائی مرکوز کو خطرناک ٹام ہاک کروز میزائلوں کی بارش کر کے تباہ کر دیا تھا۔ اس کے چند دن بعد ہی افغانستان میں داعش کے ٹھکانے کا الزام عائد کر کے ایک خطرناک ہتھیار یعنی اکیس ہزار چھ سو پاؤنڈ وزنی سب سے بڑے نان نیوکلیئر بم سے حملہ کیا ہے گویا کہ اس بم کے بعد ایٹم بم کا نمبر آتا ہے۔ اس بم کو پہلی بار کسی میدان جنگ میں استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بم عراق کی جنگ کے لئے تیار کیا گیا تھا مگر استعمال کی نوبت نہیں آئی تھی۔ خود امریکیوں کے مطابق اسے مدر آف بمبز یعنی ’’بموں کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے۔ شام میں حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا گیا تھا کہ بشار الاسد کی حکومت عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔ اب افغانستان میں نان نیوکلیئر میزائل برساتے ہوئے کہا گیا کہ اس مقام پر داعش اپنا مرکز قائم کر رہی تھی۔ امریکا کی ان فوجی کاروائیوں کا اصل تعلق نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کو امریکا میں آبادی کے ایک بڑے حصے اور میڈیا کے بااثر حلقے نے دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ ایک طبقہ ٹرمپ کے اسٹائل اور پالیسیوں سے بھی خوف زدہ تھا کچھ حلقے روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ٹرمپ کے خوشگوار تعلقات اور امریکی انتخابات میں روسی مداخلت سے بھی خائف تھے۔ اسی لئے کہا جا رہا تھا کہ امریکا کے یہ مضبوط حلقے کسی بھی وقت ان تمام معملات کو ٹرمپ کی چارج شیٹ بنا کر ان کا مواخزہ کرانے کی کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کی داخلی مشکلات اگر بڑھتے بڑھتے ان کے اقتدار کے خاتمے کا سبب نہ بھی بنیں تب بھی یہ مشکلات ان کا پیچھا چھوڑتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ حد تو یہ افغانستان اور شام میں قوت آزمائی کے مظاہرے اور شمالی کوریا میں کشیدگی کو ہوا دینا بھی ان کے کام نہیں آیا اور امریکا میں ان کے خلاف مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ چل نکلا ہے۔ جس طرح امریکی صدر اوباما کے منتخب ہونے سے پہلے ان کے مسلمان ہونے کا اس قدر ڈھنڈورا پیٹا گیا تھا کہ اوباما کو اس کی بار بار تردید کرنا پڑی تھی بلکہ اس الزام کو دھونے کے لئے انہیں مسلمانوں اور نام نہاد عالمی دہشت گردی کے حوالے سے زیادہ سخت گیر پالیسیاں اپنانے پر مجبور پر مجبور کر دیا گیا تھا بالکل اسی طرح ٹرمپ کے روس نواز ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹ کر انہیں بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا گیا اور اب ٹرمپ بھی اوباما کی طرح اپنا داغ دھونے کے لئے زیادہ تندہی کے ساتھ کام کرنے لگے ہیں۔

روس صدر ولادی میر پوٹن نے ٹرمپ کی کامیابی پر ان کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا تھا اب پیوٹن بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ کی آمد کے بعد امریکا اور روس کے تعلقات زیادہ کشیدہ ہو گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے اب ’’ٹارزن‘‘ بننے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ شام میں کروز میزائلوں کے بعد افغانستان میں سب سے بڑے غیر نیو کلیائی میزائل کا استعمال امریکی عوام میں اپنی پوزشن مضبوط کرنے کی کوشش ہی ہے۔ حد تو یہ کہ افغانستان میں ہونے والی اس کاروائی پر افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی بھی چیخ پڑے ہیں جن کا رواں رواں امریکی احسانات میں ڈوبا ہوا ہے۔ حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کو خطرناک ہتھیاروں کی تجربہ گاہ بنا دیا گیا۔ امریکا داعش کا بنانے والا ہے اگر وہ چاہے تو آسانی سے کچل سکتا ہے۔ حامد کرزئی کی اس بات کو ’’خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ‘‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔

افغانستان میں ننگر ہار میں ہونے والا حملہ پاکستان سے ملحق صوبے میں ہوا۔ عین ممکن ہے کہ امریکا اپنے ہاتھ سے مچھلی کی طرح تیزی سے پھسلتے ہوئے ایٹمی اتحادی پاکستان کو بھی کچھ پیغام دینا چاہتا ہو۔ المیہ یہ ہے کہ فساد دو عالمی طاقتوں کے درمیان ہو یا کسی عالمی طاقت کے گھر میں مگر اس کا خراج اور قیمت مسلمانوں سے وصول کی جا سکتی ہے۔ ایک دوسرے پر دھاک بٹھانے کے لئے خطر ناک اور مہلک ہتھیاروں کا استعمال مسلمانوں کے علاقوں پر کیا جاتا ہے۔میزائل اور بم مسلمانوں کا ہی مقدر ٹھہرتے ہیں۔’’ کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا‘‘ کے مصداق مسلمانوں کو اس صورتحال کا احساس اور ادراک نہیں ہو رہا اور وہ مخالفین کی پچ پر کھڑے ہو کر چوکے اور چھکے لگا کر اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ عراق، افغانستان، پاکستان، یمن سمیت دنیا میں خطر ناک اسلحہ کے استعمال سے عالمی طاقتوں کا جی بھرا نہیں کہ اب دنیا کے سب سے بڑے نان نیوکلیئر ہتھیار کے استعمال کے لئے بھی مسلمان ملک ہی کا انتخاب کیا گیا۔ اب اس بات کی تصدیق کون کرے گا کہ ہتھیار واقعی داعش کے ٹھکانوں پر استعمال ہوا یا کسی آبادی کو چاٹ گیا۔ گزشتہ دہائیوں میں لڑی جانے والی جنگ میں اس قدر جھوٹ بولے گئے ہیں کہ اب سچ پر بھی جھوٹ کا گمان ہوتا ہے۔ عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام لگا تو صدام حسین چیخ چیخ کر ان ہتھیاروں کی موجودگی سے انکار کرتا رہا مگر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایک نہ سنی یہا ں تک عراق موجودہ خانہ جنگی کی دلدل میں دھنس کر رہ گیا۔ پاکستان میں ڈمہ ڈولہ کے مدرسے پر حملہ دہشت گردوں کی موجودگی کے نام پر کیا گیا۔کتنے ہی سروقد اور سفید عمارتوں والے قبائل اسامہ بن لادن کے نام پر ڈرون حملوں کا نشانہ بنتے رہے ۔ اس لئے موجودہ کہانیوں اور جواز کی حقیقت بھی ایک راز ہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ مسلمان دنیا حالات کی رسی پر یونہی ڈولتی چلی جائے گی؟۔