August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

دہشت گرد درندوں سے بدتر ہیں!

 

حافظ محمد ادریس
پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اپنی منحوس جڑیں پھیلا چکی ہے۔ دہشت گردی کا ایک اور افسوسناک واقعہ گزشتہ روز مال روڈ پر پیش آیا۔ اس انتہائی بہیمانہ کارروائی کے نتیجے میں اعلیٰ پولیس افسران، جوانان اور بے گناہ شہری موت کے گھاٹ اتر گئے۔ بہت سے شدید زخمی ہیں۔ اس واقعے پر پوری قوم غمزدہ ہے۔ یہ زخم محض چند خاندانوں کا درد نہیں بلکہ پوری قوم کے دل زخمی ہیں۔ پاکستان کے حکمران معلوم نہیں کس حکمت و مصلحت کے تحت ایسے مواقعے پر محض روایتی بیانات جاری کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا فرض ادا ہوگیا ہے۔ حکمرانوں کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی رعایا کی جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کریں۔ دہشت گرد کسی رو رعایت کے مستحق نہیں۔ اُن کو قانون کے مطابق سزا دینا بے گناہ لوگوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے جو شاطر بنیا کُھل کھیل رہا ہے، اسے پوری دنیا کے سامنے کون بے نقاب کرے گا۔ کیا یہ حکمرانوں کی ذمے داری نہیں ہے؟
بھارت کی بدمعاشی تمام حدود سے تجاوز کرچکی ہے۔ بھارتی حکمران دہشت گردی کرنے کے بعد مطمئن ہوتے ہیں کہ ان کا کوئی ایجنٹ طے شدہ پروگرام کے مطابق جھوٹ، سچ ذمے داری قبول کرکے ان کو ہر الزام سے بری الذمہ قرار دے دے گا۔ پاکستان کے حکمرانوں کو اپنے نیٹ ورک کو اس طرح منظم کرنا چاہیے کہ یہ واقعات کنٹرول کیے جاسکیں اور اگر خدانخواستہ کسی جگہ ایسا واقعہ رونما ہوجائے تو اس کے اصل کرداروں نہ صرف پکڑا جائے بلکہ انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا بھی اہتمام ہو۔ بھارت میں اگر کسی موٹر سائیکل کی زد میں آکر کوئی کتا زخمی ہوجائے یا بلی ماری جائے تو بھارتی حکومت فوراً اس کا الزام پاکستان پر لگاتی اور پھر عالمی سطح پر اس قدر پروپیگنڈہ کرتی ہے کہ جھوٹ کو سچ منوا کر چھوڑتی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ یہاں کھلم کھلا بھارتی مداخلت اور پاکستان کے طول و عرض میں بھارتی ایجنٹ شب و روز خبیثانہ کھیل کھیلتے ہیں، مگر ہم دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکے کہ ہمارا ازلی دشمن ہماری سا لمیت کو پارا پارا کرنے کے درپے ہے۔ الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور چور چوری اور سینہ زوری کامسلسل ارتکاب کررہا ہے۔
عالمی سطح پر امریکا پہلے بھی بھارت کی پیٹھ ٹھونکتا تھا مگر ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد تو دو شیطان، ٹرمپ اور مودی ایک دوسرے کے حلیف اور شریک کار بن گئے ہیں۔ ان کے پیش نظر اُمت مسلمہ کی تباہی ہے۔ لاہور کے اس واقعہ کے پیچھے بھارتی سازش صاف نظر آتی ہے۔ لاہور میں پی ایس ایل (پاکستان سپرلیگ) کا فائنل میچ طے ہوجانے پر بھارت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بھارت یہ فیصلہ ہونے کے ساتھ ہی اسے سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم عمل ہوگیا۔ بھارت کے کھلے کھلے ایجنٹ تخریبی کارروائیوں کے نتیجے میں بارہا پکڑے گئے، عدالتوں سے انہیں قانون کے مطابق سزائیں ملیں لیکن بے حس پاکستانی حکمرانوں نے وقتاً فوقتاً ان وطن دشمنوں کو رہا کرکے بھارت کو خیرسگالی کے تحفے پیش کیے۔ کلبھوشن یادیو کا کیس اتنا واضح ہے کہ اس کے بعد بھارت کے پاس کوئی عذرِ لنگ بھی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کرسکے۔ لیکن وہ اس لیے جری ہے کہ مدّمقابل اپنے کیس کو سلیقے کے ساتھ پیش کرنے میں ناکام ہے۔
اس دھماکے کے پس منظر میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ خود حکومتی ایجنسیوں نے تخریب کاری کے خدشات کا اظہار چند ہفتے قبل کردیا تھا۔ پھر ایسے موقعے پر ہمارا اتنا بڑا حفاظتی سیٹ اپ کیوں ناکام ہوگیا۔ بھارتی دہشت گردی کی کئی سمتیں ہیں۔ وہ ہمارے دریاؤں کا پانی انتہائی ڈھٹائی اور غنڈہ گردی کے ساتھ بند کررہا ہے۔ کشمیر میں تمام بنیادی انسانی حقوق کو بری طرح پامال کرچکا ہے۔ انسانی تاریخ کی اس بدترین درندگی کے باوجود الٹا بھارت پاکستان پر الزامات پورے دھڑلے کے ساتھ لگاتا ہے۔ جماعۃ الدعوۃ، کالعدم لشکر طیبہ کا تسلسل ہے، لیکن لشکر طیبہ کب کا ختم ہوچکا ہے۔ اب جماعۃ الدعوۃ ایک غیر سیاسی، دینی اور فلاحی تنظیم ہے۔ اس کی جدوجہد کا میدان فلاحی خدمات اور مظلوم کشمیری عوام کی حمایت ہے۔ کشمیر کی حمایت کرنا اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں پاکستانی حکومت اور عوام کا فرض ہے۔ یہ بھارت کی کامیاب ڈپلومیسی ہے کہ اس نے عالمی اداروں کو اس تنظیم پر دباؤ ڈالنے اور اس کے قائد حافظ محمد سعید کو نظر بند کرانے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ پاکستانی حکومت نے ذرا برابر بھی اس دباؤ کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کی جرأت نہیں کی۔ یہ الٹی گنگا کب تک بہتی رہے گی؟
بھارت میں تو عوام مودی کو کافی حد تک پہچان چکے ہیں۔ اگلے انتخابات کے متعلق تجزیہ نگاروں کے اندازے یہی ہیں کہ مودی اور بی جے پی کے بڑھتے ہوئے قدم رک جائیں گے اور ممکن ہے کہ وہ مرکز میں حکومت سے محروم کردیے جائیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو اب بھی یہ شبہ ہے کہ مودی اس خطے کا ٹھیکیدار ہے۔ آخر کیوں؟ کیا ہم بھارت کے مساوی حیثیت نہیں رکھتے۔ بھارت اگر ایٹمی قوت ہے تو پاکستان بھی اس منصب پر فائز ہے۔ ہماری مسلح افواج بھارت کی افواج کے مقابلے میں کسی لحاظ سے کم تر نہیں ہیں۔ ہم جنگ کے حق میں نہیں مگر جو قوت ہمارے وجود کو مٹانے اور ہماری سا لمیت کے خاتمے پر تلی ہو ئی ہو، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرنا کہاں کی مردانگی ہے۔ بنیا لاتوں کا بھوت ہے، باتوں سے کب مانتا ہے۔ جو اسے سبق سکھائے اس کے چرنو ں میں گر جاتا ہے اور جو اس کے سامنے دب جائے اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے کمر بستہ ہوجاتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پوری قوم یک سو ہے۔ حکومت کو ملکی مفاد میں تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ملک میں موجود دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے ساتھ بیرونی ہاتھ کو بھی کاٹ پھینکنا ہوگا ورنہ ہم سب کا خون بہتا رہے گا۔ مال روڈ پر بہنے والا خون، میرا اور آپ کا ہے۔ ہمیں اسے لاوارث نہیں چھوڑنا چاہیے۔
چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی!