October 20th, 2017 (1439محرم29)

گھٹتے ہوئے آبی وسائل کا تذکرہ

 

ڈاکٹر مسعود احمد شاکر

اگست 2017ء کے شروع ہی میں یہ خبر پاکستان بھر میں تشویش کے ساتھ سنی گئی کہ: ’’عالمی بنک جس نے ۱۹۶۰ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دریائوں کے پانی کی تقسیم کا مشہور سندھ طاس معاہدہ کروایا تھا، اس نے بھارت کو دریاے جہلم کے معاون دریا کشن گنگا، جسے پاکستان کے اندر دریاے نیلم کہا جاتاہے، پر ۸۶۴ ملین ڈالر کی لاگت سے ’کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ‘ اور دریاے چناب پر ریٹل پاور پلانٹ کی تعمیر کی اجازت دے دی ہے‘‘۔
کشن گنگا ڈیم مقبوضہ کشمیر میں ۱۳۳میٹربلند اور ۸ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے والے رینٹل پاور پلانٹ، کشمیر ہی کے موضوع ریٹل، ضلع ڈوڈا میں تعمیر کیا جائے گا۔ بھارت اس سے ۸۵۰میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ اس پر پاکستانی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے عالمی بنک نے کہا ہے کہ: ’’۱۹۶۰ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے حصے میں آنے والے دریائوں پر بجلی کی پیداوارکے لیے منصوبے تعمیر کرسکتا ہے‘‘۔ بھارت نے یہ منصوبہ ۲۰۰۷ء میں شروع کیا تھا اور اُسے توقع تھی کہ ۲۰۱۶ء تک اس کی تعمیر مکمل ہوجائے گی، لیکن ابتدائی کام کے دوران ہی ۲۰۱۱ء میں ہالینڈ میں قائم Permanent Arbitration Court نے پاکستان کے اعتراضات پر اس کی تعمیر رکوا دی تھی۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ کشن گنگا اور ریٹل ڈیموں کی تعمیر کے بعد پاکستان کے حصے میں آنے والا وہ پانی یقینا  شدید متاثر ہوگا۔ اسی طرح زیریں حصے میں پاکستان کے اندر تعمیر ہونے والے نیلم جہلم پراجیکٹ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
آیئے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کس طرح پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہا ہے اور مستقبل مزید گمبھیر ہوتا جا رہا ہے:
سترھویں صدی کے مشہور برطانوی مصنّف تھامس فِلر نے پانی کی اہمیت کے بارے میں کہا تھا: We never know the worth of water, till the well is dry (ہم اُس وقت تک پانی کی قدروقیمت سے آگاہ نہیں ہوتے جب تک کہ کنواں خشک نہ ہوجائے)۔
جنوبی ایشیا، دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کا مسکن ہے، جہاں زرعی معیشت ہی گزراوقات کا بڑا ذریعہ ہے۔ فصلات، مویشی و ماہی پروری، جنگلات اور باغات سب کچھ پانی ہی سے ممکن ہے۔ خطّے کا ایک بڑا حصہ انتہائی گرم اور خشک ہے، جہاں بارش کی سالانہ اوسط بمشکل ۲۵۰ملی میٹر ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر فی کس سالانہ پانی کی فراہمی بمشکل ایک ہزار سے ۱۲۰۰ کیوبک میٹر ہے، جب کہ دنیا کے بیش تر ممالک میں ۱۵۰۰ سے ۲۵۰۰ کیوبک میٹر پانی فی کس دستیاب ہے، بلکہ ناروے اور کینیڈا میں تو سالانہ فی کس ۷۰ہزار کیوبک میٹر پانی دستیاب ہے۔
پاکستان کی آبادی اور معیشت کا انحصار مکمل طور پر دریاے سندھ اور اس کے معاون دریائوں میں بہتے پانی پر ہے، جن کا منبع کوہ ہمالیہ اور دیگر پہاڑی چوٹیوں پر موجود گلیشیرز ہیں۔ تاہم، ان دریائوں کا راستہ بھارت سے ہوکر آتا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے تناظر میں دیکھیں تو ہزاروں سال سے لوگ یا تو بارش کے پانی پر انحصار کرتے آئے ہیں، یا پھر دریائوں کے کنارے ہی بستیاں بسائی گئی ہیں۔ وادیِ سندھ کی قدیم تہذیب (ہڑپہ، موہنجوڈارو وغیرہ) دریاے سندھ کے کنارے ہی پھل پھول سکی تھی۔ پھر انیسویں صدی میں آب پاشی کے جدید نظام کی تشکیل (ذخائر کی تعمیر، نہروں، کھالوں کی کھدائی وغیرہ) کے ساتھ بڑے پیمانے پر ریگستانوں کو قابلِ کاشت بنایا گیا۔ اس طرح بڑے پیمانے پر صحرا سرسبز و شاداب کھیتوں میں تبدیل ہوگئے۔
سندھ طاس کا آب پاشی نظام، ۳۲۰۰ کلومیٹر لمبے دریاے سندھ اور اس کے معاون پانچ مشرقی دریائوں (جہلم، چناب، راوی، بیاس اور ستلج) پر مشتمل ہے۔ مجموعی طور پر ان دریائوں کی لمبائی ۴۵۰۰ کلومیٹر ہے، جب کہ پانی کی مقدار یا بہائو ۱۸۰ بلین کیوبک میٹر سالانہ ہے۔   یہ دریا صدیوں سے برصغیر میں آب پاشی کے لیے استعمال ہوتے آئے ہیں۔ تقسیم ہند سے قبل ہندستان کی مختلف ریاستوں یا صوبوں (پنجاب، بہاول پور، سندھ اور بیکانیر) کے درمیان بھی پانی کی تقسیم اور انتظام پر اختلافات اور تنازعات اُٹھتے رہے ہیں۔ تقسیم ہند اور پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ان چار ریاستوں کے درمیان اُبھرنے والے تنازعات دو ملکوں کے تنازعات میں بدل گئے ہیں۔ مغربی پنجاب، پاکستان کے حصے میں آیا، چوںکہ اس کی زمینیں زرخیز تھیں، اس لیے برطانوی حکومت نے آب پاشی کا وسیع نظام مغربی پنجاب میں تعمیر کیا۔ تقسیم کے وقت ریڈکلف جنھیں تقسیم کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، نے نہ صرف زمین پر تقسیم کی لکیر کھینچی، بلکہ دریائوں کے پانی اور اس کے منبعے کو بھی تقسیم کردیا۔ لہٰذا، دونوں نئی مملکتوں پر ایک ناخوش گوار ذمہ داری پہلے دن سے ہی عائد ہوگئی کہ وہ پانی کی تقسیم بارے ایک منصفانہ اور قابلِ عمل معاہدہ اور طریق کار طے کریں۔
گزرتے وقت کے ساتھ بھارت نے مشرقی پنجاب میں ہماچل پردیش، ہریانہ اور راجستھان میں آب پاشی کا ایک نظام تعمیر کرنا شروع کیا۔ دوسری طرف پاکستان کے چونکہ تمام ہی دریائوں کا منبع بھارت کے قبضے میں تھا، لہٰذا پاکستان کو پانی کی مستقل بندش، خشک سالی یا قحط کا خدشہ لگا رہا۔ مئی ۱۹۴۸ء میں اثاثہ جات کی تقسیم پر ہونے والے معاہدات میں بھارت نے پاکستان کو یہ یقین دہانی کروائی کہ وہ پاکستان کا پانی بند یا کم نہیں کرے گا۔ جون ۱۹۴۹ء میں پاکستان نے بھارت سے تحریری طور پر مطالبہ کیا کہ پانی کے معاملات میں عالمی عدالت ِ انصاف کو مداخلت اور تصفیہ کا حق دیا جائے، لیکن بھارت نے کسی بھی تیسری قوت کی مداخلت سے پہلے باہمی مذاکرات یا منصفین کے تقرر سے اختلافات کم کرنے کی تجویز دی۔ ۱۹۵۱ء میں عالمی بنک کے صدر نے پاک بھارت وزراے اعظم کو واشنگٹن مدعو کیا، جہاں اصولی طور پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کوئی بھی ملک پانی کی فراہمی کے موجود نظام میں خلل نہیں ڈالے گا۔ لیکن تحریری یقین دہانیوں اور معاہدات کے باوجود پاک بھارت پانی کا تنازعہ دونوں ملکوں کے درمیان شدید سیاسی اختلافات، علاقائی کش مکش اور جنگ کے خطرات کا باعث بنتا جارہا ہے، خاص طور پر، جب کہ دونوں ملک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔
جدول نمبر۱ میں پاکستان میں بہہ کر آنے والے دریا، اُن کے منبع اور روٹ، یعنی جن علاقوںسے گزرکر وہ پاکستان میں داخل ہوتے دکھائے گئے ہیں۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ تمام ہی دریائوں کے منبع ہمالیہ، کوہِ سلیمان اور ہندوکش کی بلند پہاڑی چوٹیوں پر واقع ہیں، جہاں سے مقبوضہ کشمیر، بھارت کے راستے بہتے ہوئے وہ پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ اِسی لیے کہا تھا کہ ہماری Life Line اسی کشمیر سے ہوکر آتی ہے۔
قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان کو اپنی آبی ضروریات کے حوالے سے تین بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا:
۱- ملک کی تقسیم کے لیے زمین پر کھینچی گئی لکیر نے زمین اور آبادی کے ساتھ پاکستان کی شہ رگ، یعنی تمام دریائوں کو بھی کاٹ کر رکھ دیا۔ اس طرح اُن کے منبعے پاکستان کے کنٹرول میں نہ رہے۔ ایک طویل مذاکراتی عمل کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کی حکومتیں عالمی بنک کی شراکت سے ۱۹۶۰ءمیں سندھ طاس معاہدے کی صورت میں اس سنگین تنازعے سے  عہدہ برآ ہوئیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں تین مغربی دریا: سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے، جب کہ تین مشرقی دریا: راوی، ستلج اور بیاس کا پانی بھارت کے لیے مختص ہوکر رہ گیا۔ سندھ طاس کے پانی کا ۷۵ فی صد پاکستان، جب کہ ۲۵ فی صد بھارت کے حصے میں آیا۔
۲- پاکستان کے لیے دوسرا بڑا چیلنج یہ تھا کہ اُس کے حصے میں مغربی دریا آئے، لیکن اس کی بیش تر زرعی زمینیں مشرق اور جنوب میں واقع تھیں۔ پاکستانی انجینیروں نے عالمی بنک اور دیگر ڈونر اداروں کی مدد سے یہ حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا کہ منگلا ڈیم، تربیلا ڈیم کی صورت میں پانی ذخیرہ کرنے والے بڑے ڈیم تعمیر کیے اور سیکڑوں کلومیٹر لمبی رابطہ نہریں جو بالترتیب دریاے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی مشر ق اور جنوبی علاقوں تک لے گئیں، تعمیر کی گئیں۔ وسیع علاقے آب پاشی کے ذریعے گل و گلزار بن گئے۔
۳- رابطہ نہروں اور دریائوں کے رُخ تبدیل کرنے کی وجہ سے پنجاب اور سندھ کے وسیع علاقے سیم تھور کا شکار ہوگئے۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مکعب میٹر پانی رسائو (Seepage) کی وجہ سے زیرزمین چلا گیا۔ یوں زیرزمین پانی کی سطح بلند ہوئی، حتیٰ کہ بعض مقامات پر تو زیرزمین پانی بالکل سطح زمین تک آگیا اور کسی بھی طرح کی کاشت ممکن نہ رہی۔ سیم تھور اور کلّر کاعلاج لاکھوں ٹیوب ویل لگا کر کیا گیا، جس سے نہ صرف زیرزمین پانی اطمینان بخش حد تک نیچے چلا گیا، بلکہ زائد نمکیات بھی پانی میں گھل کر زیرزمین چلے گئے۔ ایک عذاب سے عہدہ برآ ہونے کے لیے یہ پاکستان کے زرعی اور آبی ماہرین کی بڑی کامیابی تھی۔
درپیش آبی مسائل
لہٰذا درج بالا شاندار کارکردگی کو دیکھ کر ہم پاکستان کے آبی وسائل کے گلاس کو یقینا   نصف سے زائد بھرا ہوا کہہ سکتے ہیں۔ اَمرِواقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے آبی وسائل و مسائل کی    یہ صورت حال اتنی سادہ نہیں ہے۔ ایک دوسرے زاویے سے دیکھیں تو آبی وسائل کا یہ گلاس نصف سے زیادہ خالی نظر آتا ہے۔ ۲۲کروڑ انسانوں اور ترقی کی طرف گامزن پاکستان کا مستقبل شدید خطرات سے گھِرا ہوا ہے۔ اسی مناسبت سے درج ذیل نکات خصوصی توجہ کے مستحق ہیں:
٭ پاکستان دنیا کے انتہائی خشک اور کم پانی والے خطّوں میں شمار ہوتا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہم خطرے کی اُس حد سے بھی نیچے چلے گئے ہیں، جو قحط اور خشک سالی کے لیے دنیا میں متعین کی گئی ہے۔
٭ ہمارے پاس اضافی پانی کے کوئی بھی ذرائع یا ذخائر نہیں ہیں، جن سے ہم اپنے آبی وسائل میں اضافہ کرسکیں۔ گذشتہ ۴۰ برسوں میں ہمارے دریائوں اور نہروں میں سالانہ بہائو ۱۱۴ملین ایکڑ فٹ سے کم ہوکر ۹۵ملین ایکڑ فٹ رہ گیا ہے ، جب کہ ہماری ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
٭ پانی کی ضروریات کے لیے پاکستان کا انحصار صرف ایک ہی دریا (سندھ اور معاون) پر ہے ، جب کہ دنیا کے بیش تر ممالک میں متبادل یا ایک سے زیادہ دریائی نظام موجود ہیں۔ ایک ہی دریا پر انحصار پاکستان کے لیے خطرات اور خدشات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
٭ پاکستان کی کمزور معاشی صورتِ حال اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے لاپروائی ہمارے مسائل میں مسلسل اضافے کا باعث ہے، مثلاً نہری اور زیرزمین پانی کے استعمال سے ہم سالانہ ۱ء۵ کروڑ ٹن نمکیات آب پاشی کے دوران اپنے کھیتوں میں ڈال رہے ہیں، جو یقینا زمین کو کلراٹھا اور شورزدہ کر رہا ہے۔ اسی طرح ہرسال کروڑوں ٹن ریت اور مٹی ہمارے آبی ذخائر کی تہہ میں بیٹھ کر ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مسلسل کم کر رہی ہے۔ مختلف جائزوں کے مطابق تربیلا اور منگلا ڈیم کی صلاحیتِ ذخیرہ تقریباً ۳۰ فی صد کم ہوچکی ہے۔
٭ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں فصلوں کی آبی ضروریات کے بڑھنے اور زیادہ سے زیادہ رقبے کو زیرکاشت لانے کے لیے ہم غیر دانش مندانہ طور پر زیادہ ٹیوب ویل لگا رہے ہیں، جس سے زیرزمین پانی کی بڑی مقدار پمپ ہورہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زیرزمین پانی کے پمپنگ کو کسی ضابطے کا پابند بنایا جائے۔ اُتنا ہی پانی پمپ کیا جائے جتناکہ وہ زمین میں سالانہ چارج (اضافہ) ہوتا ہے۔ ایک بنک اکائونٹ کی مثال سے بخوبی اس پیش آمدہ خطرے کا احساس دلایا جاسکتا ہے۔ اگر ہم اکائونٹ سے ماہانہ یا سالانہ جمع کروائی جانے والی رقم سے زیادہ نکال رہے ہوں تو جلد ہی ہمارا چیک خالی لوٹا دیا جائے گا۔
٭ گلوبل وارمنگ اور دیگر ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پنجاب اور سندھ میں ہرسال  آنے والے سیلاب کی تباہ کاریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ ہمارے تمام ہی دریا ہمالیہ کی مغربی  چوٹیوں پر موجود بڑے بڑے گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے رواں رہتے ہیں۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے یہ گلیشیرز زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ماہرین شدید خطرات سے متنبہ کر رہے ہیں کہ شاید آیندہ پچاس برس تک ہمیں یہ نعمت میسر نہ رہے گی اور یوں ہمارے دریائوں میں سالانہ بہائو خطرناک حد تک کم ہوجائے گا۔
٭ آبی وسائل کے لحاظ سے ایک اور بڑا خطرہ آبی وسائل کی تعمیروترقی اور ممکنہ خطرات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے مطلوبہ علم اور مہارت کی کمی کا ہے۔ ملک کے اندر آبی وسائل،  آبی ذخائر کی تعمیر، ماحولیات پر ان کے اثرات، مستقبل بینی جیسے موضوعات پر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور فنی ماہرین کی اشد ضرورت ہے۔
٭ کمزور معیشت اور غلط ترجیحات کے پیش نظر ہمارے آبی ذخائر، بیراج، دریائوں اور نہروں وغیرہ کی تعمیرو مرمت کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔
٭ پاکستان کو نئے آبی ذخائر کی فوری تعمیر (Invest & Invest soon) کے لیے جرأت مندانہ اقدام کی ضرورت ہے۔ جب دریائوں میں پانی کا بہائو سال کے مختلف حصوں میں کم و بیش ہوتا رہے تو آبی ذخائر کی تعمیر ضروری ہوجاتی ہے تاکہ طلب اور رسد میں توازن رکھا جاسکے۔ دنیا کے دیگر خشک خطّوں (Arid Regions) کے مقابلے میں پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہے۔
جدول نمبر۲: دنیا کے مختلف ممالک میں آبادی کے لحاظ سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت
فی کس پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کیوبک میٹر
امریکا    ۶۰۰۰    مراکش    ۳۵۰
آسٹریلیا    ۵۰۰۰    بھارت    ۲۵۰
چین    ۲۲۰۰    پاکستان    ۱۵۰
اسپین    ۱۳۰۰    ایتھوپیا    ۱۰۰
ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے فی کس پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت افریقا کے قحط زدہ ممالک ایتھوپیا وغیرہ سے کچھ ہی بہتر ہے۔
اسی طرح جدول نمبر۳ میں دنیا کے خشک خطوں میں بہنے والے دریائوں پر تعمیرشدہ ذخائر (Dams) کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا ایک جائزہ پیش کیا جارہا ہے:
تعمیرشدہ ڈیم پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت (بہائو کے دن)
کلوراڈو، امریکا    ۹۰۰    بھارت مختلف دریا    ۲۲۰
مُرے دارلنگ، آسٹریلیا    ۹۰۰    تربیلا منگلا ،پاکستان    ۳۰
اورنج ، جنوبی افریقا    ۵۰۰        
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سالانہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں ایک ملین ایکڑ فٹ کی کمی ہرسال ۱۰لاکھ ایکڑ رقبے کو ایک فٹ کم پانی کی فراہمی ہے، جو یقینا پیداوار میں لاکھوں ٹن کی کمی کا باعث بنتی ہے۔
٭ حکومتوں کی بُری انتظامی کارکردگی اور باہمی اعتماد کی کمی، ملک کے اندر پانی کی منصفانہ اور ضرورت کے مطابق تقسیم، ایک مستحکم اور پُراعتماد حکومت کا تقاضا کرتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی حکومتیں اس لحاظ سے قابلِ اطمینان کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی ہیں۔
٭ پانی کی کمی کے باعث فصلوں کو آب پاشی کے باکفایت اور مؤثر طریقے متعارف اور اختیار کیے جائیں، مثلاً ڈرپ، اسپرنکلر وغیرہ۔ لیکن ہمارے ہاں ابھی تک پرانے اور فرسودہ طریقہ ہاے آب پاشی ہی مروج ہیں، جن سے پانی کا ضیاع بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں الحمدللہ، زرخیز زمین، محنتی کسان اور وافر سورج کی روشنی موجود ہے۔ لیکن فرسودہ اور پرانے طریقہ ہاے آب پاشی کے باعث دنیا بھر کی فی کیوبک میٹر پانی غلّہ پیدا کرنے کی اوسط سے ہم بہت نیچے ہیں۔ مثلاً: ترقی یافتہ ممالک امریکا وغیرہ میں ایک کیوبک میٹر پانی سے ۱ء۱ کلوگرام غلّہ پیدا کیا جاتا ہے۔ بھارت میں یہ شرح ۰ء۸۵کلوگرام فی کیوبک میٹر ہے، جب کہ پاکستان میں ہم بمشکل ۰ء۵ کلوگرام غلّہ فی کیوبک میٹر پیدا کرتے ہیں۔
آبی وسائل اور مسائل کے لحاظ سے یقینا ہمارا گلاس آدھا خالی ہے، لیکن نصف سے کم جو بھرا ہوا ہے، وہ اُمید اور مستقبل کی روشن تصویر بن سکتا ہے۔
آبی وسائل کی ترقی سے وابستہ ، اُمید کی روشن کرنیں
پاکستان کے آبی وسائل کی ۷۰سالہ تاریخ بیان کرتے ہوئے جہاں تشویش اور غفلت کے بے شمار در وَا ہوئے ہیں ، وہیں اُمید کی چند روشن کرنیں بھی نظر آتی ہیں، جو یقینا ہمیں عمل پر اُبھاریں گی:
٭ ۱۹۶۰ء کے سندھ طاس معاہدے کے تحت بین الاقوامی طور پر پاکستان کا سندھ طاس کے ۷۵ فی صد پانی پر حق تسلیم کیا گیاہے۔ دنیا بھر میں بہت سے ملکوں کے اندر دریائوں کی شراکت کو آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہے۔ پھر ۱۹۹۱ء کے Water Accord کے تحت ملک کے چاروں صوبوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم بھی طے پاچکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ پاکستان سمندر میں بہہ جانے والے پانی اور زیرزمین پانی کے استعمال بارے رہنما اُصول طے کرے اور دُور رس ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلے کرے۔
٭ بھارت میں کاشت کاروں کو ٹیوب ویل کے ذریعے مفت یا سستی بجلی ضرورت سے زیادہ زیرزمین پانی کے اخراج (Pumping) کا باعث بنی ہے۔ پاکستان نے کاشت کاروں کے شدید دبائو کے باجود اس معاملے میں لچک نہیں دکھائی۔ نتیجتاً ہمارے ہاں زیرزمین پانی کی کمی ابھی خطرے کی حدوں کو نہیں پہنچی ہے۔
٭ زرعی شعبہ جو پانی کا سب سے بڑا استعمال کنندہ ہے کے اندر فی مکعب میٹر پانی سے زیادہ غلّہ پیدا کرنے کی کافی گنجایش موجود ہے، مثلاً جب ۱۹۹۹-۲۰۰۲ء کے تین برسوں میں ہمارا سالانہ دریائی بہائو ۱۱۰ ملین ایکڑ فٹ سے کم ہوکر ۸۰ملین ایکڑ فٹ رہ گیا تھا، تو سارے کاشت کاروں نے تمام ہی بڑی فصلات کی قومی پیداوار میں نمایاں کمی نہیں آنے دی۔
٭ آبی ذخائر اور پن بجلی کے منصوبوں پر خرچ کی گئی رقوم توقع سے بڑھ کر منافع بخش ثابت ہوئی ہیں، مثلاً تربیلا ڈیم سے ۹۸-۱۹۷۵ء کے ۲۳برسوں میں ملک کو ۲۴۰۰ ملین ڈالر کا منافع متوقع تھا، لیکن پن بجلی اور آب پاشی کی مَد میں ہمیں ۳۰۰۰ ملین ڈالر سے زائد منافع حاصل ہوا ۔ پھر معاشرے کے تمام ہی طبقات، مثلاً کاشت کار، صنعت کار، تاجر، زرعی، صنعتی و دیہی مزدور اس سے خوب مستفید ہوئے ہیں۔ مختلف طبقات کی آمدن میں ۳۰ سے لے کر ۸۰ فی صد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
٭ پاکستان جو گذشتہ ۳۰ سال سے توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے اور یہ بحران ہماری معیشت، معاشرت، صنعت ، غرض یہ کہ تمام ہی شعبہ جات پر منفی اثرات ڈال رہا ہے،  کے لیے یہ اَمر خوش آیند ہے کہ پاکستان میں معاشی طور پر منافع بخش (Economically Feasible) ۵۰ہزارمیگاواٹ ہائیڈرو پاور جنریشن (آبی توانائی) کے امکانات موجود ہیں۔ ہم نے ابھی تک صرف ۱۴ فی صد امکانات کو عمل کے سانچے میں ڈھالا ہے۔ جاپان، امریکا اور یورپ اپنے ہاں موجود ۷۰ سے ۸۰ فی صد آبی توانائی کے امکانات کو رُوبہ عمل لاچکے ہیں، جب کہ ہمارے ہمسایہ ممالک چین اور بھارت تقریباً ۲۵ فی صد امکانات کو بروے کار لا کر سستی توانائی سے مستفید ہورہے ہیں۔
٭ آبی وسائل کے حوالے سے ۱۹۶۰ء کا سندھ طاس معاہدہ ، آبی ذخائر و رابطہ نہروں اور بیراجوں کی تعمیر، سیم تھور کے تدارک کے لیے ٹیوب ویلوں کی تنصیب اور نکاسی نالوں کی تعمیر، شاہراہِ ترقی کے کامیاب سنگ میل ہیں۔ کامیابی کی یہ داستانیں ہماری کسی بڑے سے بڑے چیلنج سے عہدہ برآ ہونے کی استعداد کو ظاہر کرتی ہیں۔
پس چہ باید کرد!
٭ پانی جیسے ایک بہت ہی پیچیدہ قدرتی اثاثے (زراعت، صنعت، توانائی، ماحولیات، زمین، زیرزمین، مویشی و ماہی پروری، جنگلات، سیلاب، خشک سالی، حال، مستقبل، بین الاقوامی و بین الصوبائی ، سیم تھور غرضیکہ لامتناہی جہتوں کو ملحوظ رکھنا) کا دیرپا انتظام و اِنصرام جس میں مستقبل کی ۵۰ یا ۱۰۰ سالہ ضروریات کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔
٭ سب سے پہلے ہمیں نیچرل سائنسز، انجینیرنگ سائنسز اور سوشل سائنسز میں اعلیٰ تعلیمی اور فنی صلاحیتوں کا حصول درکار ہے، مثلاً ذخائر کی تعمیر، ماحول پر اُس کے اثرات، گلیشیرز کے غیرمعمولی رفتار سے پگھلنے، آب پاشی کے وسیع ترین ڈھانچے کی نگہداشت اور تعمیروتوسیع، کروڑوں ٹن نمکیات کا زرخیز زمینوں میں جمع ہونا، زیرزمین پانی کی مسلسل گھٹتی بڑھتی مقدار اور معیار کا مطالعہ وغیرہ ، تاکہ ہم ایک جامع اور دیرپا نظام اُستوار کرسکیں۔
٭ بلاشبہہ دنیا کے سب سے بڑے آب پاشی نظام، تربیلا اور منگلا جیسے ذخائر اور رابطہ نہروں وغیرہ کی کامیاب تعمیر سے ہمارے انجینیرز نے دنیا بھر میں اپنی فنی مہارت کا لوہا منوایا۔ اُنھیں دنیا بھر میں ایک قائدانہ مقام بھی حاصل تھا۔ لیکن وہ ایک نسل تھی جو اپنا کردار ادا کر کے رخصت ہوگئی۔ اگلی نسل کے ایری گیشن انجینیرز میں یہ فنی مہارت منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
٭ زراعت جو پانی کا سب سے بڑا استعمال کنندہ ہے، میں باکفایت اور مؤثر طریقہ ہاے آب پاشی کو متعارف اور فروغ دیا جائے۔
٭ زیرزمین پانی جو دریائی پانی کے بعد ہمارے آبی وسائل کا سب سے بڑا ماخذ ہے، اس کی ریگولیشن ، یعنی کسی بھی علاقے سے سالانہ زیادہ سے زیادہ کتنا پانی پمپ کیا جائے کیوں کہ الل ٹپ اور حد سے بڑھی ہوئی مقدار میں پمپنگ اس قیمتی متاع کو Deplate کررہی ہے۔
٭ آبی ذخائر کی فوری تعمیر کے لیے قومی اتفاق راے اور وسائل کی فراہمی ترقیاتی منصوبوں کی اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔