October 24th, 2017 (1439صفر3)

قدم بڑھاؤ…….کراچی

 

غزالہ عزیز

آخر کیا قصور تھا؟؟ ان لوگوں کا جو کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کررہے تھے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ وہ صرف وزیراعلیٰ سندھ کی توجہ کے الیکٹرک کی زیادتیوں کی طرف دلانا چاہتے تھے۔ چاہتے تھے کہ آٹھ آٹھ اور بارہ بارہ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ پر حکومت سندھ کے الیکٹرک سے باز پرس کرے، شہریوں کو اس ظالمانہ لوڈشیڈنگ اور پھر اوور بلنگ سے نجات دلائے۔ یہ مطالبہ لے کر وہ مظاہرہ کررہے تھے، اور سچ پوچھیں تو یہ مطالبہ صرف ان کا نہیں تھا بلکہ کراچی کے ہر شہری کا تھا اور ہے۔ بلکہ پورے پاکستان کے ہر شہری کا ہے۔ جماعت اسلامی کے مطالبات اور شکایتوں سے ہر ایک اتفاق کرتا ہے بلکہ اتفاق نہ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ پھر یہ کوئی پُرتشدد احتجاج بھی نہیں تھا۔ ہفتہ پندرہ دن سے اس کا اعلان کیا جاچکا تھا، اخبارات میں اشتہار شائع ہورہے تھے، جماعت اسلامی کے رہنما لوگوں سے بروقت مظاہرے میں شرکت کے لیے درخواست کررہے تھے۔ ساتھ اُن کا یہ کہنا تھا کہ ٹریفک میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ وہ رواں دواں رہے گا ہمارے کارکن اس کے لیے باقاعدہ خدمات انجام دیں گے اُن کا یہ مطالبہ اور ساتھ یہ یقین دہانی بے وجہ تھی نہ ہوائی تھی۔
سارے ملک میں سب سے زیادہ پُرامن اور منظم مظاہرے اور ریلیوں کے لیے جماعت اسلامی کا نام سرفہرست قرار دیا جاتا ہے۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا اس کا معترف ہے۔ ہزاروں اور لاکھوں کے جلسے، جلوس بغیر کسی ہڑ بونگ اور نقصان کے منعقد ہوتے ہیں اور ایک گملا اور ایک سائن بورڈ توڑے بغیر پُرامن طور پر اختتام پزیر ہو جاتے ہیں۔
لیکن یہ اب سندھ حکومت اور سندھ پولیس کو کیا ہوا کہ آنسو گیس کے شیلوں کی بارش کردی گئی۔ فائرنگ کا سلسلہ کم از کم دو گھنٹے جاری رہا، کسی کے سر سے چھوتی ہوئی گولی گزر گئی اور کسی کے پیٹ پر لگی آنسو گیس کے شیلوں نے تو کتنوں کو خونم خون کردیا۔ نوجوانوں کے ساتھ بزرگوں کو بھی پولیس وین میں مار پیٹ کر دھرلیا گیا۔ آخر حکومت سندھ کو کے الیکٹرک کی محبت میں اس حد تک جانے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی۔ یہ سوال اس ساری کارروائی کے بعد حکومت سندھ، وزیراعلیٰ اور پیپلز پارٹی کے ہر چھوٹے بڑے رہنما سے پوچھنا عوام کا حق ہے۔ خود پیپلز پارٹی کے لوگوں کی زبانیں اگر خاموش ہیں تو نگاہیں ضرور سوالیہ ہیں۔ دل ضرور شکوؤں سے لبریز ہیں کہ؂
کچھ اور بھی کیا حق کے سوا اُس نے کہا تھا
منصور سرِ دار ہے‘ معلوم نہیں کیوں؟؟
یہ کیوں اس لیے ہے کہ حکومت نے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھاتے ہوئے چھ سے آٹھ گھنٹے کرنے کا اعلان کردیا ہے جب کہ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے قبل ہی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بارہ گھنٹے یا اس سے زیادہ ہو رہا ہے۔ ابھی تو گرمیوں کی ابتدا ہے اس کے باوجود کراچی میں بجلی کے بحران سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، وزارت پانی و بجلی اور کے الیکٹرک کی ناکامی نے شہریوں کی جان عذاب میں ڈال دی ہے، اس پر طرّہ یہ کہ اس عذاب کے خلاف احتجاج کرنے کا حق بھی دینے سے انکار کررہے ہیں۔ کون عوام پر لاٹھیاں برسارہا ہے، فائرنگ کررہا ہے حکومت سندھ کی پولیس…..؟؟ حکومت سندھ پولیس کے ذریعے کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کو تشدد کے ذریعے روک کر کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟؟
حکومت سندھ اور کے الیکٹرک کے کون سے مفادات ہیں جو ایک دوسرے سے وابستہ ہیں؟؟ معاملہ یہاں تک ہی نہیں ہے وفاق سے بھی جڑا محسوس ہوتا ہے۔ جب ہی تو کے الیکٹرک کی باسٹھ ارب روپے کی اوور بلنگ کا انکشاف کرنے والے یونس ڈھاگا کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا۔ جب صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں ہی کے الیکٹرک کے معاملے میں ایک پیج پر ہوں تو عوام کی شکایات پر کون کان دھرے…..؟؟
لیکن یوں لگتا ہے کہ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے اس کے لیے کمر کس لی ہے، گرمی کی شدت اور رمضان کی آمد سے قبل کراچی کے لوگوں کی آواز بن کر کے الیکٹرک کی دس دس، بارہ بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے پہلے تو دوسرے دن پچاس مختلف مقامات پر احتجاج کیا اور پھر 7 اپریل کو بھرپور احتجاج کے لیے میدان میں نکلنے کا اعلان کیا ہے۔
اس احتجاج سے جتنی تکلیف ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو ہے اس کا اظہار ٹی وی پر آنے والے ان کے رہنماؤں کی جلی کٹی سے خوب ہورہا ہے۔ یعنی انہیں کراچی کے عوام کی تکلیف کا احساس نہیں بلکہ اگر کوئی اس کے لیے آواز اٹھا رہا ہے تو انہیں ناگوار ہے حالاں کہ اس سے قبل وہ نان ایشوز پر شاہراہ فیصل تو کیا پورے کراچی کو تین تین دن کے لیے بند کردیا کرتے تھے۔
عشروں سے حکومت میں رہنے والے اسمبلیوں میں بیٹھنے والے بلدیاتی اداروں اور کراچی کی میئر کی کرسی پر براجمان یہ لوگ کراچی کو کس حال پر پہنچا چکے ہیں، روشنیوں کا شہر لوڈشیڈنگ کا مارا ہوا اور اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ سڑکیں ادھڑی ہوئی اور پارک بنجر اُجاڑ اور ویران ہیں۔ امن کو ترستا یہ شہر اب اگر کچھ اُن کے چنگل سے نکل پایا ہے تو انہیں یہ خوف ستا رہا ہے کہ کہیں کراچی انتخابات میں کوئی دوسرا فیصلہ نہ کرلے۔ چناں چہ انہیں کراچی کے لیے آواز اُٹھانا سخت ناگوار ہے۔ کے ای ایس سی (KESC) کو کے ای (K-E) میں بدلنے والے اُن کی ناقص کارکردگی پر ہمیشہ ہی مطمئن رہے ہیں، بجلی کی پیداوار اپنی استعداد سے کم رکھنے والے کراچی الیکٹرک اپنے ہر ٹربائن اور تھرمل بجلی گھر سے اس کی استعداد کے مقابلے میں کم بجلی پیدا کررہا ہے۔ یہ سوال انہوں نے کراچی الیکٹرک سے کبھی نہیں پوچھا۔ یہ سوال اس وقت بھی نہیں پوچھا گیا جب 2015ء میں شدید گرمی اور کے الیکٹرک کی حد سے زیادہ لوڈشیڈنگ کے باعث تین ہزار سے زیادہ لوگ جان سے گئے تھے۔
کراچی کے عوام کے لیے جماعت اسلامی یوں تو ہر وقت میدان میں ہوتی ہے لیکن لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور مہنگی بجلی کے خلاف اس نے عدالت میں بھی مقدمہ لڑا اور سڑکوں پر بھی۔ انہوں نے مقدمہ جیتا اور نیپرا کو کے الیکٹرک کے خلاف فیصلہ دینا پڑا اور اسے کے الیکٹرک کو کہنا پڑا کہ اہل کراچی سے جو زائد رقم وصول کی گئی ہے اس کو واپس کرے۔ لیکن کے الیکٹرک کی ہٹ دھرمی دیکھیں اس نے عوام کے 62 ارب کی واپسی کا حکم چٹکیوں میں اُڑا دیا اور اس کے بجائے بجلی کے نرخ بڑھا دیے۔ ان حالات میں کے الیکٹرک کے خلاف دھرنے اور احتجاج کا اعلان بروقت بھی ہے اور ضروری بھی….. سو، قدم بڑھاؤ کراچی