August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

کیا پاکستان پانی کے بغیر جی سکے گا؟

 

متین فکری

پاکستان اور بھارت کے درمیان انڈس واٹر کمیشن کا دو روزہ اجلاس پچھلے دنوں اسلام آباد میں ختم ہوگیا، اس اجلاس کے نتائج کے بارے میں پاکستانی ذمے داران کی طرف سے بڑی خوش فہمی کا اظہار کیا گیا اور پاکستانی میڈیا کو بتایا گیا کہ بھارت دریائے چناب پر زیر تعمیر متنازع ڈیموں کا ڈیزائن تبدیل کرنے اور ان پر فی الحال کام بند کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے جب کہ اس نے پاکستانی وفد کو ان علاقوں کا دورہ کرنے کی اجازت دینے پر بھی غور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت سیلاب کی قبل از وقت اطلاع دینے کا بھی پابند ہوگا۔ پاکستانی میڈیا میں ان باتوں کا خوب خوب چرچا ہوا، اخبارات میں اس موضوع پر اداریے لکھے گئے اور ٹی وی چینلوں پر ٹاک شوز نشر ہوئے جن کا مجموعی تاثر یہی تھا کہ اب بھارت معقولیت کی راہ پر آگیا ہے اور وہ سندھ طاس معاہدے کو پھاڑنے کے بجائے اسے برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ بھارت عالمی دباؤ کے سبب پاکستان کو رعایت دینے پر مجبور ہوا ہے اور اب اس کے لیے پاکستان کے آبی وسائل پر قابض رہنا دشوار ہوجائے گا لیکن بھارتی وفد نے نئی دہلی واپس پہنچتے ہی یہ ساری خوش فہمی دور کردی اور بھارتی میڈیا کو بیان دیتے ہوئے واضح کردیا کہ پاکستان میں جس خوش فہمی کا اظہار کیا جارہا ہے اس کی ذرا سی بھی گنجائش نہیں ہے۔ بھارت اپنے متنازع ڈیموں کا ڈیزائن تبدیل کرے گا نہ کام کی رفتار روکے گا۔ رہی پاکستانی وفد کے دورے کی بات تو اس کے لیے بھی حالات سازگار نہیں ہیں البتہ بھارت پاکستان کو سیلاب کی پیش گی اطلاع دیتا رہے گا۔

یہ ہے دو روزہ ’’آبی مذاکرات‘‘ کی وہ حقیقی تصویر جو بھارتی وفد نے سب کے سامنے پیش کردی ہے اور پاکستان کو آئینہ دکھادیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے ابتدا میں سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرنے کی بات کی تھی لیکن اس کے مشیروں نے سمجھایا کہ یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے ہم پہلے کون سا اس معاہدے کی پابندی کررہے ہیں کہ اس کے پھاڑنے سے ہمارے ہاتھ مزید کھل جائیں گے۔ مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ اس معاہدے کی کاغذی حیثیت برقرار رکھی جائے اور پاکستان کو پانی کو ایک ایک بوند کے لیے ترسانے کا کام جاری رکھا جائے۔ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہے لیکن وہ بھی دونوں ملکوں کے آبی مسائل پر ثالثی سے گریزاں ہے۔ عالمی بینک کا موقف ہے کہ دونوں ملکوں کو سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں اپنے اختلافات خود طے کرنے چاہئیں، بھارت نے بھی عالمی بینک کو یہی مشورہ دیا ہے کہ اسے درمیان میں آنے کی ضرورت نہیں وہ پاکستان سے خود نمٹ لے گا۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کی ابتدا ہی سے خلاف ورزی کررہا ہے، معاہدے کی رو سے بھارت کو تین دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی پر اختیار حاصل تھا وہ ان دریاؤں کا پانی اپنے کثیرالمقاصد منصوبوں کے لیے استعمال تو کرسکتا تھا لیکن ان کے قدرتی بہاؤ کو روکنے اور ان کا رُخ موڑنے کا مجاز نہ تھا۔ بھارت نے اس پابندی کی کوئی پروا نہ کی اور ان دریاؤں کا پانی مکمل طور پر ذخیرہ کرکے پاکستان کو ان کے قدرتی بہاؤ سے یکسر محروم کردیا۔ اب ان دریاؤں میں صرف سیلابی ریلا چھوڑا جاتا ہے جس سے پنجاب کے بہت سے گاؤں زیر آب آجاتے ہیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں اور لوگوں کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حیرت ہے کہ پاکستان مذکورہ تینوں دریاؤں پر بھارت کی مکمل اجارہ داری کے خلاف اپنا کیس نہ کبھی عالمی بینک یا عالمی عدالت میں لے کر گیا نہ بھارت سے کبھی احتجاج کیا اور نہ ہی انڈس واٹر کمیشن کے مشترکہ اجلاسوں میں یہ معاملہ زیر غور آیا۔ پاکستان نے اس صورت حال کو نہایت خاموشی سے قبول کرلیا، پاکستان اب احتجاج چناب، جہلم اور سندھ کا پانی روکنے پر کررہا ہے جو سندھ طاس معاہدے کے تحت مکمل طور پر اس کے اختیار میں ہیں اور بھارت ان دریاؤں پر نہ کوئی ڈیم بنانے کا مجاز ہے اور نہ ان دریاؤں کا رُخ موڑنے کا اختیار رکھتا ہے لیکن وہ یہ دونوں کام بڑی دلیری اور ڈھٹائی سے کررہا ہے اور پاکستان کے کسی اعتراض یا احتجاج کو کوئی وزن دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھارت نے پاکستان انڈس واٹر کمیشن میں بھی نقب لگا رکھی تھی اس کے ذمے داران سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش رہے، اب جب کہ بھارت نے ان تینوں دریاؤں پر کئی منصوبے مکمل کرلیے ہیں اور کئی مکمل ہونے کے قریب ہیں تو پاکستان کا احتجاج صدا بصحرا ثابت ہورہا ہے، دریائے سندھ جو پاکستان کی آبی شہ رگ کا درجہ رکھتا ہے بھارت اسے مکمل طور پر دبوچنے کا عزم کیے ہوئے ہے اس مقصد کے لیے وہ آبی سرنگ کے ذریعے دریا کا رُخ موڑنے کے منصوبے پر کام کررہا ہے اس وقت بھی پاکستان کے تینوں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بہت کم ہوچکا ہے۔ جب بھارت ان دریاؤں پر اپنے تمام منصوبے مکمل کرلے گا تو نریندر مودی کی یہ دھمکی سچ ثابت ہوجائے گی کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کو ترسا دے گا۔

پاکستان میں پانی کی قلت کا اہم سبب یہاں پانی کے ذخائر کا تعمیر نہ ہونا بھی ہے، ہم منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہ بناسکے، کالا باغ کا منصوبہ 1960 کے عشرے میں تیار ہوگیا تھا لیکن وطن فروشوں نے بھارت کے آلہ کار بن کر اس منصوبے پر وہ گرد اُڑائی کہ خدا کی پناہ۔ بھارت نے جی کھول کر پاکستان کے بکاؤ مال پر بولی لگائی اور انہیں کالا باغ ڈیم کے خلاف مرنے مارنے پر آمادہ کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ایک ڈراؤنا خواب بن گیا اور کوئی حکومت اسے شروع نہ کرسکی، حتیٰ کہ فوجی حکومتیں بھی سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوگئیں۔ چلیے کالا باغ ڈیم نہ سہی‘ چھوٹے چھوٹے بیسیوں ڈیم بنائے جاسکتے تھے لیکن اس طرف بھی حکومتوں نے توجہ نہ دی اس کی سزا پورا ملک بھگت رہا ہے۔ اے ڈی پی کے مطابق پاکستان جیسی آب و ہوا والے ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک ہزار دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو لیکن صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ہنگامی ضرورت کے لیے صرف تیس دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس میں بھی بتدریج کمی ہورہی ہے۔ اندازہ کیجیے کہ جب پاکستان بنا تو فی کس پانی کی دستیابی 5650 کیوبک میٹر سالانہ تھی جو ستر سال بعد کم ہو کر صرف 964 کیوبک میئر سالانہ رہ گئی ہے۔ بلاشبہ اس میں آبادی میں غیر معمولی اضاف کا بھی دخل ہے لیکن ہماری مجرمانہ کوتاہی یہ ہے کہ ہم نے اپنی ضرورت کے مطابق آبی ذخائر میں اضافہ نہیں کیا۔

کہا جاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حق و انصاف کی بنیاد پر حل ہوجائے تو پاکستان کو دریاؤں کے ہیڈ ورکس پر دسترس حاصل ہو جائے گی اور پاکستان پانی میں خود کفیل ہوجائے گا۔ کیا مستقبل قریب یا بعید میں ایسا ممکن ہے؟ اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو کیا پاکستان پانی کے بغیر جی سکے گا؟ اس سوال پر ساری مقتدر قوتوں کو سر جوڑ کر سوچنا چاہیے اور اس کا کوئی حل نکالنا چاہیے۔