September 25th, 2017 (1439محرم5)

گریٹ چائنہ (قسط نمبر 1)

 

مسعود انور

اس خطے میں کیا ہورہا ہے ؟ یہ وہ اہم سوال ہے جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ اس بارے میں بہت سارے لوگ بہت ساری باتیں کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس میں امریکا، روس ، یوروپی یونین سمیت ساری طاقتیں زیر بحث آجاتی ہیں مگر چین کا کردار کہیں خاموش نظر آتا ہے ۔ 1979 سے افغانستان کا محاذ گرم ہے ۔ سات سمندر پار کینیڈا، آسٹریلیا، امریکا اور پورا یورپ یہاں پر سرگرم ہے ۔ سرحدیں مشترک ہونے کی بنا پاکستان اور ایران تو بہت ہی زیادہ مسئلہ افغانستان میں ملوث رہے ۔ یوں تو بھارت کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں بنتا مگر وہ بھی ابھی تک دامے ، درہمے ، سخنے افغانستان میں ہر جگہ نظر آتا ہے پر اب تو چین کی سرحدیں بھی افغانستان کے ساتھ مل گئی ہیں مگر اس پورے قضیے میں چین کہیں پر بھی نظر نہیں آتا۔ اسی طرح خلیج کی جنگ ہو، عراق پر امریکی چڑھائی ہو، لیبیا کی تباہی ہو ، ایران کا مقاطعہ ہو، شام کا المیہ ہو، یمن میں فوج کشی ہو، قطر کا محاصرہ ہو، چین کا کردار کہیں پر بھی نظر نہیں آتا ۔ یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے۔اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں جو پہلے رخ سے یکسر مختلف ہے ۔ یہ 29 جولائی 2017کی بات ہے کہ چین نے سری لنکا کی بندرگاہ ہمبنٹوٹا کو 99 سالہ لیز پر دیے گئے قرض کے عوض قبضے میں لے لیا۔ اسی برس تاجکستان کا واخان کے ساتھ ایک ہزار مربع کلومیٹر کا افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقہ دیے گئے قرض کے عوض اپنی مملکت میں شامل کرلیا اور اب چین کی افغانستان کے ساتھ 300 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے اور چین کی فوجیں افغان فوجوں کے ساتھ مل کر افغانستان کے اندر چینی سرحد کے ساتھ مشترکہ گشت کرتی ہیں ۔ بھوٹان کے سرحدی علاقے ڈوکلام میں بھارتی فوج کو پسپا ہونا پڑا اور اب یہ علاقہ بھی چینی قبضے میں جاچکا ہے جہاں پر وہ زمینی راستوں کی بہتری کے لیے سڑکیں تعمیر کررہی ہے۔ بھاری شرح سود پر سی پیک کے نام پر چینی بینکوں نے پاکستان کو بھاری قرضے دیے ہیں اور خدشات ہیں کہ ان قرضوں کے عوض آئندہ پانچ برسوں میں پاکستانی گلگت و بلتستان کے علاقوں کے علاوہ گوادر بھی چینی قبضے میں جاچکا ہوگا .چین صرف اپنی سرحدوں کے ساتھ نہیں پھیل رہا۔ جولائی 2017 میں چین کی فوجیں ایشیا کے بالکل سامنے اور افریقا کے کونے کے ایک چھوٹے سے ملک جبوتی میں جااتریں۔ ساڑھے آٹھ لاکھ کی آبادی والا ننھا سا ملک جبوتی اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ یمن اور جبوتی کے درمیان سمندر کی چوڑائی محض 29 کلومیٹر ہے ۔ اس پر ایک پل بھی بنایا جارہا ہے ۔ یہاں سے دنیا کا 10 فیصد تیل اور 20 فیصد کمرشیل برآمدات ہوتی ہیں ۔ اگر اس پوائنٹ پر کوئی قبضہ کرلے تو سعودی عرب، قطر ، یمن سمیت پورا علاقہ قبضے میں آجاتا ہے ۔ یہیں سے باب المندب اور سوئز عدن کینال کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ اس علاقے کی اہمیت کا اندازہ سب کو ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قطر میں امریکا کا سینٹرل کمانڈ برائے ایشیا موجود ہے اور یہاں پر امریکا کی 10 ہزار فوج موجود ہے تو اس کے بالکل قریب ہی جبوتی میں امریکا کی سینٹرل کمانڈ برائے افریقا موجود ہے اور یہاں پر امریکا کے 6 ہزار اہلکار موجود ہیں ۔
یہ سب اچانک ہی نہیں ہوگیا ہے بلکہ چین گریٹر چائنا کی پالیسی پر 90 کی دہائی سے عمل پیرا ہے جس کے اثرات اب سامنے آرہے ہیں ۔ گریٹر چائنا کو ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں ۔بحر ہند ہمیشہ سے دنیا کی اقتصادی شہ رگ کے طور پر جانا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں پر ساری طاقتوں کے اڈے موجود ہیں ۔ بحر ہند میں واقع ڈیگو گارشیا کے جزیرے میں امریکا کا امریکی سرزمین کے باہر سب سے بڑا فوجی اڈا ہے ۔ 90 کی دہائی میں شروع اس پالیسی کو واشنگٹن نے string in the pearls کا نام دیا تھا۔
string in the pearls کے تحت چین کے سمندر جنوبی بحیرہ چین سے لے کر پورٹ آف سوڈان تک چینی عملداری قائم کرنا ہے۔
نئے توسیعی منصوبے کے تحت چین blue water navy کا قیام عمل میں لاچکا ہے جو بحرہند میں چینی تسلط کو قائم کرے گی ۔ اس منصوبے کے تحت چین علاقے کی تمام آبناؤں پر اپنی فوجی چوکیاں بنارہا ہے ۔ اس میں جزائر انڈیمان اورجنوبی بحیرہ چین کو ملانے والی آبنائے ملاکا، انڈونیشیا کی آبنائے لومبوک، یمن اور جزیرہ نما عرب کے درمیان واقع باب المندب اور ایران کی آبنائے ہرمز شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ پاکستان ، سری لنکا، بنگلا دیش ، مالدیپ اور صومالیہ میں اسٹرٹیجک اہمیت کی حامل بندرگاہوں کو چینی قبضے میں لینا شامل ہے .منصوبے پر چین String in Pearls  کی تیزی کے ساتھ پیش قدمی جاری ہے ۔ سری لنکا کی ہمبنٹوٹا بندرگاہ سے صرف 6 کلومیٹر کے فاصلے سے بحر ہند کے ذریعے تجارت کرنے والے سارے بحری جہاز گزرتے ہیں ۔ یہاں پر بیٹھ کر مشرق و مغرب کے مابین ہونے والی عالمی تجارت کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان میں گوادر اور بنگلادیش کی چٹاگانگ کی بندرگاہوں پر اس منصوبے کے تحت کام جاری ہے ۔
یہ تو چین کی توسیع پسندی کا صرف ایک منصوبہ String in the Pearls ہے ۔ اس کے علاوہ چین نے پوری دنیا میں اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ اور اپنی کالونیوں میں توسیع کے لیے دوسرا منصوبہ بھی شروع کررکھا ہے جسے One Belt One Road کا نام دیا گیا ہے ۔
یہ چینی پیش قدمی کی مختصر ترین تصویر ہے ۔ تاہم اس سے یہ بات واضح ہے چین ایک ایسا خاموش دیو ہے جو تیزی کے ساتھ اپنے اثرات میں اضافہ کررہا ہے اور اب دنیا میں نئی کالونیاں کسی طاقت کے زیر اثر ہوں گی تو وہ چین ہی ہوگا ۔ گریٹر چائنا کا مہیب دیو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔اس پوری تفصیل کو جاننے کے بعد اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دیگرعالمی طاقتیں امریکا ، یورپ اور روس کیا کررہے ہیں ۔ یہ ساری پیش قدمی کس کو نہیں معلوم تو پھر یہ سب ٹک ٹک دیدم ، دم نہ کشیدم کے مصداق دم سادھے اور دُم کیوں دبائے بیٹھے ہیں ۔ اس کے بعد دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئندہ برسوں میں کوئی نئی جنگ ہونے جارہی ہے جس میں چین کے مدمقابل روس ، امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپ اتحادی ہوں گے۔ اور اگر یہ جنگ ہوئی تو کہاں پر ہوگی ۔ ان سوالات پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ (مزید پڑھیں)