December 13th, 2017 (1439ربيع الأول25)

پنجاب یونیورسٹی میں انصاف کی دہائی ہے

 

غزالہ عزیز

 صحافیوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم ’’رپوٹرز ود آؤٹ بارڈز‘‘ کے مطابق دنیا بھر میں آزادی صحافت تنزلی کا شکار ہے۔ عالمی رہنما گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں اور انہوں نے میڈیا کے خلاف کارروائیاں شروع کررکھی ہیں۔ جب کہ ذرائع ابلاغ کا نجی شعبہ اپنے کاروباری مفادات کے دباؤ میں ہے۔ لیکن یہی تنظیم بتاتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی تنازعات کی کوریج میں صحافی آزاد ہیں بلکہ ایشیا میں سیاسی معاملات کی کوریج کرنے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ سب سے زیادہ آزاد ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ دنیا میں سلطنت روما طاقت ور ترین سلطنت تھی۔ اس کی جغرافیائی وسعت اس قدر پھیل گئی تھی کہ حکمرانوں کو بروقت اطلاعات کا ملنا مشکل ہوگیا تھا۔ پھر اطلاعات کی صحیح اور بروقت فراہمی نہ ہونے کے باعث حکومت کا کنٹرول کمزور ہوتا چلا گیا اور بالآخر یہی بات سلطنت کے خاتمے کی بنیادی وجہ بنی۔ آج الٹا معاملہ ہے۔ اطلاعات کی کثرت ہے۔ اور اطلاعات کے ڈھیر سے اہم معلومات ڈھونڈنا کار دارد ہے۔ عوام کے سر پر روز اطلاعات کا کچرا ٹرک بھر کر انڈیل دیا جاتا ہے، پھر اس کو پانچ سو دفعہ دہرایا جاتا ہے، ٹیلی ویژن چینلوں کو ایسی ڈھیل ملی ہے کہ وہ جب چاہیں اور جو چاہیں دکھائیں، اور لگا تار دکھاتے رہیں۔ جھوٹ سچ کسی چیز کی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہے، چینل کی ریل پیل اور کثرت اظہار آزادی کے لیے ثبوت کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ لیکن اس کثرت نے رائے اور دلیل کے خوب بخیہ ادھیڑے ہیں۔

صحافت کا کام روشنی کرنا ہے سچائی کی روشنی، ہدایت دینا ہے، راہ نمائی کرنا ہے، صحافت اگر اپنا کام چھوڑ دے، سچائی نہ بتائے، ظلم کو حق اور حق کو ظلم کہنا شروع کردے تو وہ صحافت نہیں رہتی خود ظلم بن جاتی ہے۔ روشنی نہیں رہتی اندھیرا بن جاتی ہے کیوں کہ وہ خودکشی کرلیتی ہے جی ہاں۔ روشنی مرجاتی ہے اور اندھیرا پھیل جاتا ہے جھوٹ کا اندھیرا۔ ظلم اور ناانصافی کا اندھیرا۔ افسوس کہ آج ہماری صحافت اسی راستے پر چل نکلی ہے۔

کیا اس بات کا تصور کیا جاسکتا تھا کہ یوم پاکستان کی تقریب پنجاب کی سب سے بڑی مادر علمی میں ہو اور اس پر حملہ کردیا جائے، طالبات کو خوفزدہ کیا جائے جلسے میں توڑ پھوڑ ہو کیمپ کو نذر آتش کردیا جائے۔ اور ملک کے چینلز ایسی رپورٹنگ کرتے رہیں۔ جمعیت اور جماعت اسلامی سے تعصب میں ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم گردانتے رہیں بلکہ اس سے بڑھ کر تعصب کی آگ تاپنے کا اہتمام کرنے میں مصروف ہوجائیں، پشتون حق کے لیے اور ان پر کیے جانے والے مظالم کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے کسی کو خیال نہ آیا کہ معاملے کی تحقیق کی جائے۔ آخر سمیعہ راحیل پختون خاتون ہی تو ہیں۔ انہوں نے تو کبھی اس بات کا فیور لینے کی کوشش نہیں کی کہ وہ پختون ہیں اور ساتھ بلوچ گھرانے کی بہو بھی ہیں۔ تحقیق کے لیے کوئی سوال نہ اُٹھایا گیا کہ….

کیمپ کس کا جلایا گیا؟؟

کون ہے جس کو لاٹھیوں سے اس قدر زدوکوب کیا گیا کہ وہ کوما کی حالت میں آئی سی یو میں پہنچ گیا؟؟

کن لوگوں کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا؟؟ ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں لیا گیا بس جمعیت پر پابندی کی بات ہوتی رہی۔ ایک ہی بات گھما پھرا کر تقریباً سارے چینلز دہراتے رہے، حالاں کہ تحقیق کے لیے سب کچھ قریب ترین موجود تھا کوئی سات سمندر پار کی بات نہ تھی لیکن معاملہ یہ ہے کہ ہمارے صحافی صحافتی ادارے اور میڈیا گروپس محنت اور جستجو کے عادی نہیں ہیں۔ ان کی معلومات سطحی ہوتی ہے، خود موقع پر جا کر تحقیق کرنے کے بجائے غیر ملکی میڈیا سے نشر ہونے والی خبر اور رپورٹ پر دل و جان سے ایمان لانا آسان بھی سمجھتے ہیں اور منفعت بخش بھی۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ہمارے میڈیا مالکان بیرون ملک سے مالی امداد حاصل کرتے ہیں اور پھر ان کے ایجنڈے کے تحت میڈیا پر مہم چلاتے ہیں۔

ایک اہم سوال ہے کہ میڈیا کا ایجنڈا کون طے کرتا ہے؟؟ اگرچہ یہ بات بار بار دہرائی جاتی ہے کہ ہمارا میڈیا آزاد ہے لیکن اپنی آزادی کے باوجود مال و زر کی سنہری زنجیریں اس کو پابند رکھتی ہیں۔ لہٰذا اس بات پر بحث کرنے اور سوال اُٹھانے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ ایک دور تھا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا کردار اس سلسلے میں سب سے اہم تصور ہوتا تھا لیکن اب ایجنڈے کا تعین میڈیا مالکان کے ہاتھ میں ہے اور بیرونی اسٹیبلشمنٹ نے میڈیا مالکان کو معاشی فوائد کے سنہرے دھاگوں کے ذریعے کٹ پتلی کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی طے کرلی ہے۔ آخر حکومتیں عالمی سیاست میں اپنی حکمت عملی طے کرتی ہی ہیں اور سب سے اہم حکمت عملی میڈیا کے ہتھیار کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ آج کا دور میڈیا وار کا دور ہے۔ لیکن افسوس ہمارا میڈیا غیروں خاص طور سے انڈیا کے اشاروں پر ناچتا ہے۔

پاکستان میں لبرلز کا ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو اسلام اور اسلامی جماعتوں کی مخالفت کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھتا ہے، لہٰذا ہر چھوٹے بڑے معاملے میں عورت کی مظلومیت کا رونا رونے والوں نے پنجاب یونیورسٹی کی طالبات اور ان کے کیمپ پر حملے کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔ اور تازہ معاملہ یہ ہے کہ اب تک اس کی ایف آئی آر کاٹنے سے بھی گریز کیا جارہا ہے لیکن میڈیا کو اس کی کوئی خبر ہی نہیں ہے۔ اور نہ ہی وہ خبر لینا چاہتا ہے۔

عورتوں پر تشدد اور ان کے حقوق کا شور اٹھایا جاتا ہے تو اس کا مقصد پاکستان کو مطعون کرنا ہوتا ہے۔ ورنہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ مغرب میں عورت کو کس طرح اور کس پیمانے پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت پر تشدد اور اس کے حقوق کی ادائیگی سے انکار ایک بہت بڑا جرم ہے۔ عورت خواہ این جی اوز کی ہو یا سول سوسائٹی کی یا اسلامی حدود کی پابند ہو، میڈیا کو سب کے لیے آواز اُٹھانا چاہیے۔ معاملے کی چھان بین کرنا اور تہہ تک پہنچنا میڈیا کا فرض ہے۔

پاکستان میں ذرائع ابلاغ نے پچھلے دور کے مقابلے میں ترقی کی ہے۔ نجی شعبے میں ٹی وی چینلوں کی بھرمار ہے لیکن الیکٹرونک میڈیا میں صحافت کو خطرہ ہے نا تجربہ کار ادارتی عملے اور میڈیا مالکان کی کاروباری سوچ سے…. صحافت کو خطرے کا مطلب ملکی مفادات کو خطرہ ہے کیوں کہ اس کا براہِ راست اثر ملک پر ہوتا ہے، عوام پر ہوتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ سب کا احتساب کرنے والے میڈیا کا احتساب کیا جائے، میڈیا مالکان کے مالی معاملات کو دیکھا جائے کیوں کہ اس کا براہِ راست تعلق ملک و قوم کے مفاد سے ہے صحافت سلطنت کا اہم ترین ستون ہے اگر یہ غیر کا آلہ کار بن جائے تو سلطنت کو کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔