October 24th, 2017 (1439صفر3)

سندھ طاس معاہدہ اورپانی

 

شہزاد سلیم عباسی

پاکستان کے آبی مسائل کثیر الجہتی ہیں اور اس کے حصول کے لیے ہماری جہد مسلسل صفر ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اور عالمی مافیا کا گٹھ جوڑپاکستان اور بھارت کے درمیان دہائیوں پرانا سندھ طاس معاہدہ ہوا میں اُڑا کر پاکستانی دریاؤں کا پانی بند کرکے اسے بنجر و بیابان بنا نے کا ناپاک ارادہ رکھتاہے۔جب کہ ہمارے حکمران علاقائی امن و استحکام کے لیے بلی کو دودھ کا رکھوالا بنانے پر خواب خرگوش میں مدہوش ہیں۔پاکستان میں امسال پانی کے اہم ترین ذخائر انتہائی قلیل تھے جو خوفناک بات ہے۔ پاکستان کی سالانہ آبی ضروریات ایک کروڑ دو لاکھ ایکڑ فٹ کے قریب ہیں اور سال بھر میں ملک کو 120 سے 125 ملین ایکڑ فٹ پانی ہماری ضرورت سے کچھ زیادہ ہے۔ ہم نے اپنی نالائقی اور بد مستی سے 1999میں بھارت کو دریائے جہلم پر بگیہار ڈیم بنانے پر مجرمانہ سکوت اختیار کیے رکھی اب بھارت کے دریائے نیلم (جو بھارت میں کشن گنگا کہلاتا ہے) پر ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کی مکمل تعمیر پر بھی بے زبان ہیں اور شاید اس کے افتتاح پر بھی اقوام متحدہ میں محض ایک آدھ قرار داد جمع کراکر اپنا فرض ادا کرلیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے 2,50,000 بچے آلودہ پانی کی وجہ سے موت کی نیند سو جاتے ہیں۔ افسوس کہ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز(پی سی آر ڈبلیو) کی رپورٹ کے مطابق آج بھی ہمارے ملک کی پچاسی فی صد آبادی صاف پانی سے محروم کسی مسیحا اور انقلابی کے انتظار میں ہے۔ حکمرانوں کی فوج ظفر موج یا اپوزیشن میں سوائے سراج الحق کے کوئی ایسا نہیں جس نے اب تک بغیر کسی تعصب کے پانی یا صاف پانی کے حصول کے لیے آواز اُٹھائی ہو۔ نئی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی کم وبیش 21کروڑ ہوچکی ہو گی۔ مادہ پرستی، قتل و غارت گری اور دہشت گردی اور بین الاقوامی نرغوں کے باوجود ارض پاکستان میں ایک خوش گوار تبدیلی رونما ہوئی ہے جس نے انسانیت کی فلاح و بہبود کو اپنا مشن بنا کر لوگوں کی غربت و جہالت اور بھوک افلاس کے خاتمے کا بیڑا اُٹھا یا ہے جو صد ستائش کے قابل ہے ۔ بے شمار دوسرے اداروں کی طر ح الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان بھی انسانی خد مت کا ادارہ ہے جو اپنے باقی سات پروگراموں کفالت یتامیٰ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، تعلیم، صحت عامہ، مواخات، کمیونٹی سروسز کے ساتھ ساتھ پانی اور صحت کے لیے بھی حصہ بقدر جثہ اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے صاف پانی۔ محفوظ زندگی منصوبے کا مقصد ایک صحت مند اور توانا معاشرے کا قیام ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن مسلسل آلودہ پانی کے حوالے سے آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ صاف پانی کے منصوبوں پر ملک بھر میں مصروف عمل ہے۔ اس نے ملک بھر میں حسب ضرورت 42 فلٹریشن پلانٹس،700 فلٹریشن یونٹس، 1,351 کنویں، 3,483 ہینڈ پمپ بنائے ہیں جب کہ دیگر271 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ جن سے روزانہ کی بنیاد پر 1,20,8400 افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں صحت کے معاملات کی سب سے بڑی وجہ آلودہ پانی ہے۔ پی سی آر ڈبلیو کی سہہ ماہی رپورٹوں اورپانی کے کیمیائی اور حیاتیاتی نمونوں کے اعدادوشمار کے مطابق اکثر پانی مضرصحت ہے جس سے لاکھوں افراداسہال، ہیضہ اور یرقان، ٹی بی، کینسر اور ان جیسی متعدد موزی امراض میں مبتلاہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ملک کو آلودہ پانی کی وجہ سے ہونے والے امراض اور دیگر مسائل کے باعث سالانہ 110 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔ قیمتی زندگیوں کو بچانے کے لیے میٹھے پانی (بارش کا پانی وغیرو) کو بچانا ہو گاہمیں آج ہی سے گھریلو، صنعتی اور زرعی استعمال میں سائنسی طریقہ کار اپنانا ہوگا۔ بے ہنگم طور پر زیر زمین پانی کی نکاسی پر پابندی عائد کرنا ہو گی۔ میٹھے پانی کے غیرانسانی استعمال سے متعلق قانون سازی کر نا ہوگی ۔صنعتی ، تعمیراتی منصوبوں، ورکشاپوں اوردوسری مختلف جگہوں پرپانی کے بیجا اصراف پر بھی پابندی عائد کر نا ہو گی۔ صنعتی ، زرعی، فیکٹریوں ، گندے نالوں اور گھروں کے گندے اور فضلہ زدہ پانی کو میٹھے پانی میں شامل ہونے سے بچانا ہو گا۔ پانی کے لائنوں اور گٹر کی لائنوں کو ایک ساتھ رسنے اور بہنے سے بچا نا ہو گا۔ سرکاری طور پر پانی کی منصفانہ تقسیم کو بہتر کرنا ہوگا۔

ماہرین اور اہل الرائے کے نزدیک مستقبل قریب میں پانی کی کمی سے بچنے کا واحد حل مزید ڈیم تعمیر کرنا ہے۔ گزشتہ سال بھی 12 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ نہ ہونے کی وجہ سے سمندر کی نذر ہوگیا تھا۔ اب نظریہ ضرورت کی علمبردار پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں کو اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کوبالائے طاق رکھ کرملک کو آبی جنگ اور آبی خطرے سے باہر نکالنے کے لیے کالا باغ ڈیم جیسے میگا پروجیکٹ پر رضامندی ظاہر کرنا ہوگی۔سہ فریقی معاہدے سندھ طاس کی دو بار بدترین خلاف ورزی پر میاں نواز شریف کو جنرل ایوب کا کردار ادا کر کے ڈیم کی تعمیرکا ایمرجنسی حکم دینا ہوگا۔ خشک سالی ہو یابد حالی، سیلاب ہو یا بادو باران، کالا باغ ڈیم کی تعمیر اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنا ہی ہمارے ملک کی زراعت، صنعت اورزندگی کی دوسری بہترین خوشیوں کی ضامن ہے۔