November 22nd, 2017 (1439ربيع الأول3)

جنگ کو پاکستان سے نکالا جائے

 

مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ افغان جنگ کو پاکستان نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے دوشنبے میں فوجی سربراہوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی کو مشترکہ تعاون کے ذریعے ہی شکست دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے چار ملکی فوجی سربراہوں کو بتایاکہ پاکستان نے اپنی سرحدوں کے اندر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو بلا تفریق ختم کیا اب سرحد پر یکطرفہ طور پر سیکورٹی اقدامات بھی کررہے ہیں۔ آرمی چیف نے دیر پا امن کی ضمانت کے طور پر افغان مہاجرین کی باوقار واپسی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ یہ ساری گفتگو امریکی دھمکیوں اور افغانستان میں امریکی افواج کی شکست کے تناظر میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب امریکی جنرل جان نکلسن بھی یہی کہہ رہا ہو کہ طالبان قیادت کوئٹہ اور پشاور میں ہے۔ پاک امریکا تعلقات نازک ترین موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی قیادت نے بھی سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کے لیے کسی وزیر یا فوجی افسر نے وقت نہیں دیا جس کی وجہ سے امریکی نائب وزیر کا دورہ ملتوی ہوگیا۔
یہ بھی امریکیوں کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ گزشتہ کئی روز سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے نتیجے میں پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی ہے۔ ایک طرف پاکستانی قیادت کے لیے امتحان ہے کہ اس دھمکی کے جواب میں کیا اقدام کیا۔ منہ توڑ جواب کیوں نہیں دیا، امداد منہ پر کیوں نہیں ماری، سفیر کو نکالو اور ناٹو کے قافلوں کو روکو جیسے مطالبات بھی سامنے آگئے ہیں لیکن دوسری طرف خود امریکی حکومت اپنے صدر کے بیان کے سبب مشکل میں ہے کیونکہ امریکی صدر نے پہلے مرحلے میں آخری مرحلے والا انتہائی بیان دے دیا تھا۔ اب ان کے عوام بھی پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان نے تو کچھ کیا نہیں اب اسے نتائج بھگتنے پر مجبور کرو۔ لیکن امریکی صدر طاقتور ترین ہونے کے باوجود ہر کام تن تنہا نہیں کرسکتا اس لیے ان کی حکومت اگر مگر اور لیکن کررہی ہے۔ افغانستان کی صورتحال پاکستانیوں سے زیادہ امریکیوں کو معلوم ہے۔ امریکیوں ہی کی مثال ہے کہ جوتے کے اندر کا حال پاؤں ہی جانتا ہے اور امریکی پاؤں افغانستان کے جوتے میں جس طرح پھنسا ہوا ہے اس میں سے وہ نکل بھی نہیں پارہا اور اندر بھی نہیں رہ سکتا۔
امریکی جرنیلوں اور صدر کی چیخوں سے پتا چل رہا ہے کہ جوتے کے اندر کیا کیا ہے۔ بہر حال پاکستان آرمی چیف نے جس عزم کا اظہار کیا ہے پاکستانی فوج کی خواہش بھی یہی ہے کہ جنگ افغان ہو یا امریکی، سعودی ہو یا ایرانی اسے پاکستان میں نہیں آنا چاہیے۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس جنگ کو پاکستان نہیں آنے دیں گے اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ دو عشرے قبل یہ جنگ پاکستان میں آچکی ہے۔ اسے پاکستان لانے والے جنرل پرویز مشرف تھے وہ کیوں خوف زدہ ہوئے ان کا جواب وہی بہتر طریقے سے دے سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ یہ جنگ پاکستان آچکی ہے اب تو اسے پاکستان سے نکالا جانا ہے۔ جنرل باجوہ کا عزم بہر حال یہی ہے کہ اس جنگ سے پاکستان اور پاکستانیوں کو محفوظ رکھا جائے گا لیکن اس کے لیے پہلا قدم یہی ہے کہ اب اس جنگ سے پاکستان کو باہر نکالا جائے۔ امریکی الزامات تو اپنی جگہ یہ کبھی رکیں گے نہ انہیں کوئی روک سکتا ہے لیکن جب پاکستان امریکا سے نو مور کا رویہ اختیار کرے گا تو پھر اس جنگ کو روکا جاسکے گا۔ یہ جنگ کئی برس سے پاکستان میں بھی لڑی جارہی ہے یہ ممکن نہیں کہ افغانستان میں امریکی مفادات کی جنگ لڑی جائے، پاکستان فرنٹ لائن اتحادی بنے اور جنگ افغانستان تک محدود رہے۔ جو جو ممالک جنگ میں اتحادی ہوتے ہیں اس جنگ کی آگ ان کے گھروں تک بھی پہنچتی ہے۔
جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ اصولی ہو، جنگ اصولی ہو یا غیر اصولی لیکن ہر جنگ دو طرفہ ہوتی ہے بلکہ بسا اوقات سہ طرفہ بھی ہوجاتی ہے۔ دو فریقوں کی جنگ میں تیسرا خوامخواہ لپیٹ میں آجاتا ہے۔ بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ افغان جنگ کو پاکستان سے نکالا جائے۔ جہاں تک جان نکلسن کے الزام کا تعلق ہے کہ طالبان قیادت پاکستان میں کوئٹہ اور پشاور میں ہے تو اس کا پاکستان کیا کرے۔ ساری دنیا کی طاقت رکھنے، جدید ترین ٹیکنالوجی رکھنے اور جاسوسی کا بہت بڑا نیٹ ورک رکھنے کے باوجود امریکی یہ نہیں بتاسکتے کہ یہ طالبان قیادت کوئٹہ اور پشاور کیسے پہنچ گئی پھر انہیں یہ کیسے پتا چل گیا کہ یہ لوگ کوئٹہ اور پشاور میں ہیں۔ یہ صرف امریکی حیلے ہیں پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے ہیں اگر پاکستان چاہے تو وہ بھی حسین حقانی کو پاکستان بلوائے اور کئی دہشت گردوں کے امریکا میں محفوظ ٹھکانوں کے بارے میں پوچھے۔ بہر حال اس امر سے کسی کو اختلاف نہیں کہ پاکستان کو کسی دوسرے ملک کی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے اور اگر جنگ چھڑ جائے تو بھی اسے پاکستان نہیں آنا چاہیے سیاسی قیادت کو اس حوالے سے متفقہ اور مشترکہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔
امریکا کی جانب سے دھمکیاں اور سخت موقف نے پاکستان کو اس جنگ سے نکلنے کا موقع فراہم کردیا ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ امریکی جرنیلوں اور ٹرمپ کے بیانات کے بعد بھارتی جنرل کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں چنانچہ بھارتی آرمی چیف نے بھی پاکستان کو دھمکی دینے کی کوشش کی ہے۔ جنرل بپن راوت نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان نے خطے میں پراکسی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ جہادی تنظیموں کی مدد کے سنگین نتائج نکلیں گے۔ سی پیک ہماری خود مختاری کے لیے چیلنج ہے۔ بھارتی جنرل کو اس سے کیا غرض کہ پاکستان مالدیپ اور میانمر میں دفاع اور معاشی شراکت بڑھارہا ہے اور چین پاکستان کا دفاع کررہاہے۔ در اصل یہ ساری جنگ ایک ہی جنگ کا حصہ ہے نہ یہ بھارت کی جنگ ہے نہ چین اور امریکا کی۔ اگر ہمارے حکمران سمجھیں تو یہ جنگ امت مسلمہ کے خلاف ہے یہ کہیں شام کی جنگ نظر آتی ہے کبھی یمن میں اور کبھی عراق میں یہ جنگ ہوتی ہے۔
یہ جنگ در اصل امت مسلمہ کے خلاف کفر کی پراکسی ہے۔ بھارتی جنرل کے الزام کے جواب میں تو ان سے صرف یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ کشمیر میں بھارت خود کیا کررہاہے۔ جہادی تنظیموں کی پشت پناہی کا الزام تو پاکستان پر لگایا جارہاہے لیکن ایک باقاعدہ فوج نہتے کشمیریوں کے خلاف کیا مظالم ڈھارہی ہے۔ کون سا ظلم ہے جو نہیں کیا گیا۔ بھارت خود کشمیر میں کون سی پراکسی جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستان کو قیمت چکانے کی دھمکیاں دینے والے امریکا اور بھارت در اصل خود اب اس مقام پر پہنچ رہے ہیں کہ انہیں اپنی جنگوں کی قیمت اب خود چکانی پڑ رہی ہے۔ پاکستان نے تو امریکی جنگ کی قیمت بھی بہت چکائی ہے اور بھارت سے مذاکرات اور دوستی کے دھوکے کھاکر بہت قیمت ادا کرچکا اب اپنا اپنا بوجھ خود اٹھانے کا وقت آگیا ہے۔