October 24th, 2017 (1439صفر3)

پاکستانیوں کے لیے دو قومی نظریے کی یاد دہانی

 

اداریہ جسارت

پاکستان میں اب تک بحث جاری  ہے کہ پاکستان سیکولر بننے کے لیے قائم ہوا تھا یا اسلام کے لیے ، قائداعظم سیکولر تھے یا اسلام پسند۔  بلکہ بعض تو یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمان بھی تھے کہ نہیں اور نظریہ پاکستان کیا تھا۔ دوقومی نظریہ پاکستان بنا تو فراموش کردیا گیا۔ لیکن بھارت میں ہر روز یاد دلایا جارہا ہے۔
کہ دوقومی نظریہ درست تھا  اور اب بھی زندہ ہے۔ چند روزقبل بریلی میں مسلمانوں کو دھمکیاں دی گئیں اور ان سے کہا گیا کہ ملک سے نکل جاؤ۔ کوئی ہندو لیڈرکہتا ہے کہ مسلمانوں کو بھارت سے نکال دیں گے۔ ان کی عورتوں کو قبرسے نکال کر بے حرمتی کرو اور مسلمانوں کو بھارت سے نکال باہر کرو۔ اب گجرات میں ہندو بلوائیوں نے مسلم آبادی پر دھاوا بول دیا اور مسلمانوں کے درجنوں گھر جلا ڈالے۔ حملوں میں ایک فرد کی شہادت، درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہے۔ یہ کوئی اچانک یا اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ مسلمان طلبہ پر بدتمیزی کا الزام لگا کر 5ہزار بلوائیوں نے حملہ کیا۔ ان کے ساتھ حکومتی مشینری نے بھرپور تعاون کیا اور مسلمانوں پر حملہ آوروں کو کہیں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پولیس کہیں نظر نہیں آئی۔ بلوائی بڑے آرام سے لوٹ مار کرتے رہے۔ پولیس کو 5ہزارلوگوں میں سے کوئی بلوائی نہیں ملا جس کو پکڑا جائے۔
وشواہند وپریشد کے صدر نے جو کچھ کہا وہ کوئی نئی بات نہیں لیکن وہ جس موقع پر کہہ رہے تھے وہ یہ یاددلارہا ہے کہ دوقومی نظریہ پوری آب تاب سے زندہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہندوستان میں ہندوانتہا پسندوں نے 1947ء کے بعد سے ایک دن کے لیے بھی ہندتواکانظریہ نہیں بھلایالیکن پاکستان میں ابتدائی چند برسوں کے سوا باقی سارا وقت نظریہ پاکستان کو جڑوں سے اکھاڑنے میں صرف ہوا ۔ بھارتی انہتاپسند لیڈر تو کہتا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ اس کاحل اس نے یہ تلاش کیا کہ دوسری شادی پر پاپندی لگادی جائے ۔ مسلمانوں سے نفرت کا اظہار اس حد تک کیا کہ پورے بھارت میں مغل بادشاہ ظہیرالدین بابرکے نام سے کہیں کوئی مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیاجائے ۔ پروین توگڑیا نے مقبوضہ کشمیر میں ہند وپیڈتوں کو بھی بسانے کا مطالبہ کیا۔ بھارت میں ہندوقوم پرستی کا بھوت ہر ایک کے سر چڑھ کربول رہا ہے ۔ لیکن پاکستان میں سیکولرازم اور اسلام بے زاری کا بھوت سوار ہے۔ بھارت میں یہ کام صرف انتہاپسند تنظیمیں نہیں کرتیں بلکہ کانگریس کے دور میں سب سے زیادہ مسلم کش فسادات ہوئے ہیں۔ لہٰذا بھارت کے بارے میں غلط فہمی تو اب ختم ہوجانی چاہیے کہ اس ملک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصول کی کوئی اہمیت ہے۔ بھارت مسلمان دشمن ریاست ہے اور اس کے حکمران مختلف مواقع پر ثابت کرتے رہتے ہیں کہ وہ انتہا پسند ہندوہیں اورصرف ہندو۔ پاکستان میں تو اب عرصے سے ہندوانتہاپسندوں کے پرتشدد حملو ں پرکوئی ردعمل نہیں ہوتا ۔ پہلےیہ ردعمل ہوا کرتا تھا لیکن اب بھارت سے زیادہ پاکستان کے بہکے ہوئے دانشوراتنا شورمچاتے ہیں کہ ردعمل کوغلط بلکہ سارے فساد کا سبب قراردے دیا جاتا ہے۔ ہمارا میڈیا اس کی بس اتنی مذمت کرتا ہے کہ آج گجرات کے حملوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے معمولی مذمت سامنے آئی ہے۔ حکومت پاکستان خود ابہام کاشکار ہے کہ نظریہ پاکستان دوقومی نظریہ اسلام وغیرہ کی اب پاکستان میں گنجائش بھی ہے کہ نہیں؟تو یہاں سے کیا جواب جائے گا؟مقبوضہ کشمیر میں زیادیتوں پر تو خاموش رہنے کی ہمارے حکمرانوں اور عوام کی عادت ہوگئی ہے۔یہ محض اتفاق ہے کہ اسی روزامیرجاعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے دوٹوک الفاظ میں یہ بات کہہ دی کہ لبرل پاکستان نہیں چلے گا ۔ ہمارے اجداد نے اسلام کے لیے قربانیاں دی تھیں ۔ یہ محض ایک رسمی جملہ نہیں ہے بلکہ جماعت اسلامی کے اس عزم کا اظہارہے جس کے لیے سیدہ مودودی نے علیحدہ وطن کی تحریک کاساتھ دیا۔ دوقومی نظریے کی وضاحت کی ، اسلام اور موجودہ سیاسی کشمکش کے عنوان سے کتاب تحریرکی اورقیام پاکستان کے فوراََ بعد جماعت اسلامی نے یہاں اسلامی دستورکے مطالبہ کی مہم شروع کی اور اس میں کامیابی بھی حاصل کی ۔ اب اس ملک میں طرح طرح کی بحثیں چھیڑی گئی ہیں۔ لیکن ہندوانتہاپسندوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ دوقومی نظریہ درست تھا اور زندہ ہے۔ پاکستا ن میں رہنے والے اگر بھول بھی گئے ہیں تو ہندوقوم پرست اور ہندوستانی حکمران بارباریاددہانی کراتے رہتے ہیں ۔پاکستان کو عزت اور وقار ملے گا،پاکستان ایک مضبوط مسلم ریاست بن جائے گاتوبھارت،بنگلادیش اور برما کے مسلمانوں پربھی زیادتی نہیں کرسکے گا۔