November 22nd, 2017 (1439ربيع الأول3)

امریکا کی پاکستان کو دھمکی، بھارت کو تھپکی

 

اداریہ

پاکستان کو امریکا کی دھمکی کوئی نئی نہیں ہے۔  برسوں سے ڈو مور کا مطالبہ اور اس کے لیے دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں ۔ اس بار امریکی صدر ٹرمپ نے بڑے کھردرے الفاظ میں دھمکی دے ڈالی ہے اور جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ بین الاقوامی روایات کے بھی منافی ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں خود امریکا میں یہ تاثر بڑھتا جارہا ہے کہ وہ نفسیاتی مریض ہیں اور امریکا کی صدارت کے مستحق نہیں ہیں ۔سی آئی اے کے سابق سربراہ نے بھی ٹرمپ کے خلاف ایسے ہی الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ٹرمپ نے امریکی امداد روکنے کی دھمکی دی ہے لیکن امریکی امداد تو پہلے بھی کئی بار روکی جا چکی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ منگل کو جنوبی ایشیا، بالخصوص افغانستان کے حوالے سے اپنے خطاب میں پورا زور پاکستان کو دھمکیاں دینے اور بھارت کی پیٹھ ٹھونکنے پر لگایا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اربوں ڈالر لینے کے باوجود پاکستان ہمارے دشمنوں کو پناہ دیتاہے، اب برداشت نہیں کریں گے، پاکستان نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ پاکستان تو کب سے منفی نتائج بھگت رہا ہے۔ افغانستان میں روس کی آمد کی وجہ سے پاکستان کو لاکھوں افغانوں کا بوجھ برداشت کرنا پڑا اور اب تک برداشت کررہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن بھی افغانستان کے راستے سے داخل ہوئی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کی بنیادی وجہ افغانستان پر قابض امریکا ہے۔ امریکا گزشتہ 16برس سے افغانستان پر قابض ہے لیکن خود وہ افغانستان میں دہشت گردی ختم نہیں کرسکا۔ وہ امریکا کے جن دشمنوں کو پناہ دینے کا الزام پاکستان پر عاید کرتا ہے خود اس نے ان کے خلاف کتنی کامیابی حاصل کی ۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکا افغانستان میں کر کیا رہا ہے؟ اسے کیا حق پہنچتا ہے کہ ایک آزاد و خود مختار ملک پر قبضہ کر کے بیٹھ جائے۔ افغانستان سے نہ تو اس کی سرحدیں ملتی ہیں اور نہ ہی امریکا کو افغانوں سے خطرہ لاحق ہے۔ پھر ان سے کیسی دشمنی ۔ اپنی فوجیں سمیٹے اور وہاں سے نکل جائے۔ خود امریکا اپنے کئی ہزار فوجی مروا چکا ہے اور آئندہ بھی یہی ہوگا۔ اگر اس کی نظریں افغانستان کی معدنیات پر لگی ہوئی ہیں تو وہ ان سے کبھی فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ اس کے سوا اس کا افغانستان پر قبضے کا کوئی اور جواز نہیں ۔ نائن الیون کے سانحے میں کسی افغان کا ہاتھ نہیں تھا۔ بالفرض اس کی منصوبہ بندی اسامہ بن لادن نے کی تھی تو وہ بھی پراسرار طریقے سے شہید ہوچکے ہیں اور پاکستان کی حدود میں گھس کر اسامہ کے گھر پر حملہ کرنے میں بھی پاکستان کی حکومت نے تعاون کیا تھا جیسا کہ اس وقت کے پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اعتراف کیا۔ پوری پاکستانی ائر فورس بھنگ پی کر تو نہیں پڑی تھی کہ امریکی ہیلی کاپٹر بے روک ٹوک پاکستان میں داخل ہوئے اور حملہ کر کے اسامہ کی لاش بھی ساتھ لے گئے۔ پاکستان کی ہر فوجی اور سول حکومت نے افغانستان میں امریکا سے بھرپور تعاون کیا تاکہ وہ افغان مسلمانوں کا آسانی سے قتل عام کرسکے۔ یہ جو پاکستانی طالبان پاکستان کے اندر دہشت گردی کررہے ہیں، ان کو تقویت اور محفوظ ٹھکانے بھی امریکا اور اس کی کٹھ پتلی افغان حکومت نے فراہم کیے ہیں  پاکستان نے تو دہشت گردی سے مقابلے میں اپنے 70ہزار افراد کی قربانی دی ہے اس کے مقابلے میں امریکا کی قربانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان میں عراق والی غلطی نہیں دوہرائیں گے اور جیت ملنے تک امریکی فوج وہیں رہے گی۔ 16سال میں تو امریکا کو افغانستان میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور اب مزید فوج بھیجی جائے گی جس پر افغان رہنما گلبدین حکمت یار کا کہنا تھا کہ اس طرح مزید امریکی فوجی نشانہ بنیں گے۔ ٹرمپ نے عراق میں کی جانے والی غلطی نہ دوہرانے کا اعلان کیا ہے اور اس سے ان کا مطلب ہے کہ عراق کو مکمل تباہ کرنے سے پہلے وہاں سے فوج کیوں واپس بلا لی۔ حالاں کہ امریکا نے عراق میں نفاق اورباہمی عداوت کے ایسے بیج بو دیے جو تناور درخت بن چکے ہیں اور عراق کی تباہی کے لیے امریکا کی موجودگی ضروری نہیں رہی۔ لیکن کیا ٹرمپ کو معلوم نہیں کہ امریکا کی اصل غلطی ایک جھوٹ کی بنیاد پر عراق پر حملہ کرنے کی تھی جس پر اس کے خلاف جنگی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے تھا لیکن ’’ زبردست کا ٹھینگا سر پر‘‘۔ پاکستان کی حکومتیں اب تک امریکی اشاروں اور اس کی دی ہوئی بھیک پر چلتی رہی ہیں اور اس کی وجہ سے کئی ممالک سے اپنے تعلقات بھی بگاڑے ہیں ۔ اب ممکن ہے کہ پاکستان کے حکمران غیرت کا مظاہرہ کریں اور کسی کی بھیک کے بغیر گزارہ کرنا سیکھ لیں ۔ لیکن ابھی تک حکومت پاکستان کی طرف سے امریکا کی دھمکیوں کا جواب نہیں دیا گیا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو لے کر مدینہ منورہ چلے گئے ہیں تاکہ مسجد نبویؐ میں دعائیں کرسکیں لیکن یہ وقت قیام کاہے۔ حکومت پاکستان کے مقابلے میں چین نے مضبوط موقف اختیار کرتے ہوئے امریکی الزامات مسترد کردیے اور کہا ہے کہ پاکستان نے عظیم قربانیاں دی ہیں ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار اہم ہے، عالمی برادری اس کا اعتراف کرے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ہمیں امریکی امداد نہیں اس کا اعتماد چاہیے۔ لیکن خود امریکا کسی پر اعتماد نہیں کرتا، اپنےدوستوں پربھی نہیں ۔ افغان طالبان کا ردعمل یہ ہے کہ یہ صلیبی جنگ ہے جو کئی نسلوں سے لڑ رہے ہیں، افغانستان کو امریکیوں کا قبرستان بنا دیں گے، ہم افغانستان کی حفاظت کرنا جانتے ہیں ۔ اور یہ محض لفاظی نہیں ہے بلکہ افغان حریت پسند اپنے ملک کے تحفظ کے لیے 1979ء سے قربانیاں دے رہے ہیں ۔ ٹرمپ کے خطاب کو افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت اور بھارت نے خوب سراہا ہے۔ افغان صدر نے امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کی مشترکہ کوششوں کی حمایت کی ہے۔ افغان صدر ذرا غور سے ٹرمپ کا خطاب سن لیں ۔ انہوں نے انتباہ کیا ہے کہ افغان حکومت خود بھی کچھ کرے، یہ نہیں ہوگا کہ ہم امداد دیتے چلے جائیں ۔ افغان حکومت کو ٹرمپ کے اس اعلان پر خوش نہیں ہونا چاہیے کہ امریکا افغانستان میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گا، فوج میں اضافہ اور کارروائیوں میں شدت لائی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا ہم یہ بھی نہیں بتائیں گے کہ آپریشن کب اور کہاں کرنا ہے۔

اس پر خوش ہونے کے بجائے  بجائے صدر اشرف غنی کو حکومت چھوڑ دینی چاہیے کیوں کہ ان کا کوئی کام نہیں رہا۔ لیکن وہ کیسے محب وطن ہیں کہ اپنے ملک پر امریکی قبضے میں اضافے پر خوش ہو رہے ہیں ۔ لیکن بات یہ ہے کہ جب تک امریکا افغانستان پر قابض ہے اشرف غنی یا کسی اور کٹھ پتلی کی حکومت بھی برقرار ہے خواہ وہ کابل کے محدود علاقے ہی میں کیوں نہ ہو۔ اسی کے ساتھ پاکستان میں متعین امریکی سفیر یا حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے سینٹ کام کے جنرل پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے رہے ہیں ۔ ٹرمپ نے بھارت کو افغانستان میں جو کردار ادا کرنے کا حکم دیا ہے اس پر بھارت کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ امریکا کی تاریخ ہے کہ وہ دوست بناکر پیٹھ میں چھرا گھونپتا ہے۔ ٹرمپ نے بھارت کو جتایا ہے کہ وہ کھربوں کے مفادات حاصل کررہاہے چنانچہ وہ بھی افغانستان میں کچھ کرے۔ بھارت تو پہلے ہی افغانستان کے ذریعے پاکستان میں بہت کچھ کررہاہے۔ پاکستانی طالبان کے ترجمان احسان اﷲ احسان نے ’’را‘‘ کے حوالے سے کئی اہم انکشافات کیے ہیں اور ’’را‘‘ کا ایجنٹ کل بھوشن تو پاکستان ہی میں گرفتار ہوا ہے۔ کیسی مضحکہ خیز بات ہے کہ یہی ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں امریکی فوج رکھنے کے خلاف اپنے پیش روؤں پر تنقید کرتے اور اس طویل جنگ کو ختم کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔