November 22nd, 2017 (1439ربيع الأول3)

سی پیک: بھیانک حقیقت

 

مسعود انور

سرکاری کار پردازوں کی بنائی ہوئی خوب صورت تصویر سے ایک منٹ کے لیے نگاہ ہٹا کر اس کے پس منظر میں جھانکنے کی کوشش کریں تو انتہائی بھیانک صورت حال نظر آتی ہے۔ محض کمیشن کے چکر میں ہر پروجیکٹ کی لاگت کئی گنا بڑھادی گئی ہے۔ زیادہ سے زیادہ پروجیکٹ سی پیک کے نام پر شروع کردیے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کمیشن مل سکے۔ سی پیک کا مطلب ہے ایک ایسی شاہراہ جس پر پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کو فروغ دیا جاسکے۔ کہا گیا کہ چین کے ساتھ صنعتی اشتراک کے لیے خصوصی اکنامک زون بنائے جائیں گے۔ پھر کہا گیا کہ ان صنعتی زونوں کے لیے بجلی کی بھی ضرورت ہوگی، اس لیے بجلی گھر بھی بنائے جائیں گے۔ مگر کوئی یہ بتائے کہ لاہور میں میٹرو ٹرین کا سی پیک سے کیا تعلق ہے۔ اسی طرح کے دیگر کئی پروجیکٹ ہیں جن کا دیکھنے میں سی پیک سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر وہ سی پیک کے نام پر لیے گئے قرض سے بن رہے ہیں۔ سرکار ہو یا اپوزیشن، ہر شخص کی کوشش ہے کہ اس کا اپنا ذاتی گھر بھی سی پیک کے کھاتے میں بن جائے۔سی پیک کے لیے حاصل کیے گئے قرض کی شرح سود ہم دیکھ ہی چکے ہیں جو انتہائی زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 7 فی صد انشورنس پریمیم کسی بھی پروجیکٹ کو مالی طور پر ناکام بنانے کے لیے کافی ہے۔ ایک مرتبہ پھر سے صورت حال دیکھتے ہیں۔ سی پیک کے تحت شروع کردہ تمام پروجیکٹ قرض پر بن رہے ہیں جس پر شرح سود اور انشورنس پریمیم کی سالانہ شرح تقریباً 13.5 فی صد سالانہ ہے۔ یہ قرض پاکستانی کمپنیوں نے حاصل کیا ہے اور وہی اسے ادا کرنے کی پابند ہیں البتہ چینی کمپنیاں منافع میں 65 فی صد سے لے کر 88 فی صد تک کی حصہ دار ہیں اور یہ کمپنیاں ہر قسم کے ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں۔
تمام پروجیکٹوں پر چینی کمپنیاں کام کررہی ہیں اور وہ خام مال سے لے کر مزدور تک چین سے لائی ہیں۔ سریا، سیمنٹ، آلات کچھ پاکستان سے نہیں خریدا جارہا اس طرح چینی کمپنیوں کو ایک نیا معاشی اچھال ملا ہے اور ان کے وارے نیارے ہوگئے ہیں۔ ہنر مند و غیر ہنرمند، دونوں طرح کی چینی لیبر کی زبردست کھپت بھاری تنخواہوں پر ہوئی ہے جب کہ پاکستانی ہنرمند و غیر ہنرمند لیبر باہر بیٹھی بیروزگاری کے عفریت سے نبردآزما ہے۔ اس طرح سے قرض کی یہ ساری رقم دوبارہ سے چین واپس لوٹ رہی ہے۔ کچھ عرصے کے بعد جب یہ پروجیکٹ مکمل ہوجائیں گے تو چینی بینکوں کے وارے نیارے ہوجائیں گے۔ چینی انشورنس کمپنی کو تو مفت میں بیٹھے بٹھائے 7 فی صد رقم سالانہ ہاتھ آئے گی.

اس کے بعد پاکستانی معیشت کی تباہی کا دوسرا فیز شروع ہوگا۔ وہ ہے سی پیک کے تحت خصوصی اکنامک زون۔ پاکستان کی برآمدات روز روبہ زوال ہیں۔ پاکستانی برآمدات کا تقریباً 60 فی صد حصہ ٹیکسٹائل اور اس سے ملحقہ مصنوعات پر مشتمل ہے۔ پاکستان کہیں سے بھی چینی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کرسکتا کیوں کہ پاکستانی صنعت کاروں نے صرف اور صرف ریبیٹ حاصل کرنے کے لیے دنیا کی فرسودہ ترین ٹیکنالوجی لگا رکھی ہے۔ اب چینی مصنوعات کی پاکستان میں چینی کمپنیوں کے تحت تیاری کا واحد مطلب یہ ہے کہ پاکستان اپنی برآمدات کے 60 فی صد حصے سے دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ چینی کمپنیوں کو زراعت میں بھی سب کچھ کرنے کی آزادی دے دی گئی ہے۔ وہ جینیاتی تبدیل شدہ بیج اگانے کے پروجیکٹ بھی لگائیں گی اور کارپوریٹ سطح پر بڑے بڑے زرعی پروجیکٹ بھی شروع کریں گی۔ اس کے ساتھ ہی اب پاکستانی ہاری بھی بے روزگار ہوگا اور پاکستان کی اپنی خاص انواع و اقسام کی زرعی پیداوار بھی معدومی کے خطرے سے دوچار ہوں گی۔ پاکستانی صارف کو اصلی زرعی پیداوار کے بجائے جینیاتی تبدیل شدہ زرعی پیداوار ملے گی جس کے اپنےنقصانات ہیں اور اس کے خلاف دنیا بھر میں مہم جاری ہے۔

تمام نکات کو جوڑیں تو جو بھیانک تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ سی پیک کے تحت شروع کیے گئے منصوبے اقتصادی طور پر feasible نہیں ہیں اس لیے اس میں نادہندگی کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔ چین نے ایسے ہی پروجیکٹ تاجکستان میں شروع کیے تھے اور نادہندگی کی بناء پر وہ تاجکستان کی 1000 مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کرچکا ہے۔ گوادر جیسا منصوبہ چین نے سری لنکا میں ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ پر شروع کیاتھا اور نادہندگی کے بعد 2017 میں ہی 29 جولائی کو چین نے ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ کا قبضہ حاصل کرلیا ہے۔ بھاری شرح سود، بھاری انشورنس پریمیم اور پروجیکٹوں کے feasible نہ ہونے کی بِنا پر ایسے ہی خدشات پاکستان میں بھی موجود ہیں۔ تاجکستان اور سری لنکا میں چینی بینکوں کی سرمایہ کاری پاکستان کے مقابلے میں انتہائی کم تھی۔ پاکستان میں خدشات ہیں کہ گوادر کے ساتھ ساتھ گلگت و بلتستان کا خطہ بھی چینی قبضے میں چلا جائے گا۔
چینی صنعت کاروں کو لامحدود چھوٹ کے نتیجے میں پاکستانی صنعت بہ آسانی چینی بینکوں کے شکنجے میں جاچکی ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی زرعی منظر بھی تبدیل ہوچکا ہوگا۔

سی پیک کے معاہدے کہیں سے بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہیں۔ مثلاً چینی عوام کو آزادی حاصل ہے کہ وہ سی پیک کے تحت بلاویزا پاکستان آمدورفت کرسکتے ہیں مگر ایسی ہی سہولت پاکستانی شہریوں کو نہیں دی گئی ہے۔ کسی بھی معاہدے میں حد بندی نہیں کی گئی ہے کہ جو خام مال پاکستان میں دستیاب ہے وہ پاکستان سے ہی لیا جائے گا، درآمد نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی معاہدے میں چینی کمپنیوں کو پابند نہیں کیا گیا ہے کہ کارکنان کی بھرتی پاکستان سے کریں گی۔ اسی طرح چینی کمپنیوں پر منافع کے تناسب سے قرض کا بوجھ نہیں ڈالا گیا ہے۔ یعنی اگر وہ 88 فی صد منافع لے جائیں گی تو 88 فی صد قرض کا بوجھ بھی ان پر ڈالا جائے۔ اسی طرح انہیں دیگر پاکستانی کمپنیوں کی طرح ٹیکس کی ادائیگی کا ذمے دار بھی ٹھیرایا جائے۔ اگر کوئی پروجیکٹ نہیں چل پاتا تو اس کا ذمے دار پاکستانی پارٹنر کے ساتھ ساتھ چینی پارٹنروں کو بھی ہونا چاہیے۔ مگر ایسا کہیں پر بھی کچھ بھی نہیں ہے۔ جب اس قسم کی بات کی جائے تو ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی دوستی کا نعرہ لگا کر منہ بند کردیا جاتا ہے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جدید دنیا میں غلام بنانے کا طریقہ فوج کشی نہیں ہے بلکہ قوم کو قرض کے بوجھ تلے دبا دینا ہے۔ چھوٹا سا قرض لے کر تو ہم آئی ایم ایف کے ہر املا پر یس سر، یس سر کہنے پر مجبور ہیں۔ ایک منٹ کو سوچیں کہ جب چینی بینکوں کے نادہندہ ہوں گے تو کیا صورت حال ہوگی۔ یہ سب سوچنے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ حال میں ہی تاجکستان اور سری لنکا کے ساتھ ان چینی بینکوں کے معالات سب بتانے کے لیے کافی ہیں۔اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔

معاملات صرف اتنے ہی سادہ نہیں ہیں کہ سی پیک کے تحت شروع کیے گئے تمام پروجیکٹوں پر تقریباً 6.5 فی صد سود اور 7 فی صد انشورنس پریمیم ادا کیا جائے گا۔ یہ ملا کر 13.5 فی صد بنتا ہے۔ یہ تو سرمایہ کاری پر ادا کیا جانے والا سود اور انشورنس ہے۔ حکومت پاکستان نے تمام منصوبوں پر 17 فی صد سالانہ یقینی ادائیگی کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین کے مطابق اگر ہر پروجیکٹ کی سرمایہ کاری میں پاکستانی حصہ داری کو 40 فی صد تصور کیا جائے تو پاکستان کو ہر برس 2.4 ارب ڈالر کی ادائیگی چینی بینکوں اور کمپنیوں کو کرنا ہوگی۔ اگر ایک ڈالر کو 106 روپے کا تسلیم کرلیا جائے تو یہ رقم بنتی ہے 2 کھرب 54 ارب 40 کروڑ روپے۔ یہ تو اس وقت ہے جب سرکاری اعلانات کو مان لیا جائے کہ 17 فی صد کی سالانہ ادائیگی ہے اور پاکستانی حصہ داری 40 فی صد ہے۔ مگر حقائق اس سے بھی زیادہ تلخ ہیں۔ تمام ہی پروجیکٹوں میں پاکستانی سرمایہ کاری 25 فی صد سے زائد نہیں ہے اور ان پروجیکٹوں پر 17 فی صد کے بجائے 34.5 فی صد تک یقینی ادائیگی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ اس صورت میں ہر سال پاکستان کو 5 ارب ڈالر یا 530 ارب روپے سالانہ کی ادائیگی کرنا ہوگی۔

ان میں سے اکثر پروجیکٹ خسارے میں چلنے والے ہیں۔ مثلاً لاہور کا اورنج ٹرین کا منصوبہ۔ یہ منصوبہ کما کر نہیں دے گا بلکہ جنگلا بس سروس کی طرح قومی معیشت کو چوستا رہے گا۔ اسی طرح جتنی بھی سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں، یہ بھی براہ راست کما کر نہیں دیں گی اور ان پرحاصل کیا گیا قرض خود ہی واپس کرنا پڑے گا۔ ہر پروجیکٹ کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے۔ جب تک قرض بے باق ہوگا اس وقت تک ان سڑکوں کی طبعی عمر پوری ہوچکی ہوگی۔

لے دے کر پاور پروجیکٹ بچتے ہیں جو اپنے اوپر حاصل کیے قرض کو واپس کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ سرکار نے عوام کو پاور کمپنیوں کے حوالے کررکھا ہے کہ وہ چاہے جتنا ٹیرف وصول کریں اور چاہے جتنی اوور بلنگ کریں۔ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ صارفین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر اربوں روپے ماہانہ کا منافع بنانے والی یہ پاور کمپنیاں صرف اپنا تو قرض ادا کریں گی مگر دیگر پروجیکٹوں پر حاصل کیا گیا قرض اور سود ادا نہیں کریں گی کیوں کہ یہ ساری کی ساری پرائیویٹ چینی کمپنیاں ہیں جو کیے گئے یک طرفہ معاہدوں کے تحت 80 فی صد تک منافع بغیر کسی ٹیکس کی ادائیگی کے سمیٹ کر باہر کے بینکوں میں جمع کروا دیں گی.

اب دوبارہ سے صورت حال کو دیکھیں۔ یہ دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف پاکستانی عوام کو 1802 ارب روپے سالانہ ہر صورت میں اپنے پلّے سے اد ا کرنے ہیں۔ دوسری طرف اس کی صنعت خصوصی اکنامک زون بنا کر چینی صنعت کاروں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ زرعی فارم  منصوبوں کے تحت زراعت بھی چین کے حوالے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جو چینی کمپنیاں اس وقت پاکستانی مزدوروں اور ہنرمندوں کو ان پروجیکٹوں میں ملازمت دینے پر راضی نہیں ہیں جو پاکستان بھاری شرح سود پر قرض حاصل کرکے خود تعمیر کروا رہا ہے تو جب یہ کمپنیاں صنعت و زراعت میں اپنے منصوبے لے کر آئیں گی تو کیا گل کھلائیں گی؟
ایک ایسی معیشت جو اپنے روزمرہ کے اخراجات کے لیے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سامنے گڑگڑاتی رہتی ہو، جس کی برآمدات روز کم ہورہی ہوں اور درامدات کا بل آسمان پر جارہا ہو، زراعت و صنعت تباہ کردی گئی ہوں۔ وہ کس طرح سے 5 ارب ڈالر سالانہ کی ادائیگی کرسکے گی۔ یقینی طور پر نادہندگی کا عفریت منہ کھولے سامنے کھڑا ہے اور نادہندہ ہونے کا واضح مطلب سری لنکا کی ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ کی طرح 

گوادر کی بندرگاہ کی چین کو حوالگی اور تاجکستان کی واخان کے ساتھ ایک ہزار مربع کلومیٹر زمین پر چین کی ملکیت کی طرح پاکستانی گلگت و بلتستان کے علاقے سے دستبرداری ہے۔

چینی قبضہ صرف ان ہی علاقوں تک بلکہ چینی پورے پاکستان میں قائم کیے گئے خصوصی معاشی زون کی صورت میں ہر جگہ ہوں گے۔ ان کے آنے سے پاکستانی ثقافت و تہذیب پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اس پر الگ سے خصوصی کام کرنے کی ضروت ہے۔ یہ امر کلیہ ہے کہ جو قوم معاشی طور پر مضبوط ہوتی ہے اس کی تہذیب بھی مضبوط ہوتی ہے اور جس قوم کی معیشت کمزور ہوتی ہے وہی قوم غلامی کی طرف جاتی ہے اور حکمراں قوم کی تہذیب کو فخریہ طور پر اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔ اب ذرا چینی قوم کی موجودہ تہذیب تو دیکھیں۔ موجودہ چینی قوم ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھی ہے جس میں اسے ایک انسانی روبوٹ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ مروت، احسان نام کی کوئی چیز چینی قوم میں نہیں پائی جاتی۔ مقصد کے حصول کے لیے انتہائی سفاکانہ اقدام سے یہ گریز نہیں کرتے۔ یہ ابھی ایک سال قبل ہی کی بات ہے کہ دبئی کی پولیس نے ایک فلپائنی کی گمشدگی کا مسئلہ حل کیا ہے۔ پتا چلا کہ اس کے چینی دوستوں کے ساتھ جھگڑا ہوگیا تھا اور یہ چھ چینی اس فلپائنی کو کاٹ کر کھا گئے۔ چینیوں کے ہاں حلال و حرام کا تصور پاکستان سے یکسر مختلف ہے۔ ان کے ہاں حرمت کا تصور بالکل مختلف ہے۔ اب چینی تہذیب کی بالادستی کی صورت میں پاکستان میں کیا کایا  کلپ ہوگی، اس کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔

تعجب اس بات پر نہیں ہے کہ چینی ساہوکار یا بینکار کس طرح پاکستان میں پیش قدمی کرہے ہیں۔ تعجب تو پاکستانی حکمرانوں پر ہوتا ہے کہ انہوں نے کس طرح چند ارب ڈالر کے کمیشن پر پوری قوم کو فروخت کردیا۔ تعجب تو پاکستانی معیشت دانوں پر ہوتا ہے جو حقائق پر گفتگو کرنے کے بجائے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں پھنسائے ہوئے ہیں۔ تعجب پاکستانی حزب مخالف پر ہوتا ہے کہ اس پر گفتگو کے بجائے منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھی ہے۔ تعجب پاکستانی میڈیا ہاؤسز پر ہوتا ہے کہ کس طرح چند لاکھ کے اشتہارات کے لیے پاکستانی قوم کی فروخت میں شامل باجا ہے۔ تعجب بیوروکریسی پر ہوتا ہے کہ حقائق عوام کے سامنے لانے کے بجائے اس چھپانے میں کوشاں ہے۔
جان لیجیے کہ کرنسی نوٹ جلا کھانا پکانا تفاخر کی بات ضرور ہوگی مگر کہیں سے بھی عقل مندی نہیں۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔