October 24th, 2017 (1439صفر3)

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام پر حملے (حصّہ اوّل)

 

شاہنواز فاروقی

پاکستان کے لوگ اس بات پر پریشان رہتے ہیں کہ مغرب میں آئے دن اسلام اور رسول اکرمؐ کی ذاتِ مبارکہ پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اسلام پر حملے اب مغرب کا ’’اختصاص‘‘ یا ’’امتیاز‘‘ نہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ بالخصوص انگریزی پریس میں آئے دن ایسے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ جن میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسلام یا اہل اسلام کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ لیکن اس ضمن میں اب انگریزی پریس کو مطعون کرنا بھی درست نہیں۔ اسی لیے کہ اب اسلام پر حملوں کا معاملہ عام ذرائع ابلاغ کیا وزیراعظم میاں نواز شریف تک آ پہنچا ہے۔ اس کی ایک مثال کراچی میں ہولی کے حوالے سے ہونے والی تقریب سے میاں نواز شریف کا خطاب ہے۔ آئیے اس خطاب کے اہم نکات کا نکتہ بہ نکتہ تجزیہ کرکے دیکھتے ہیں کہ میاں صاحب نے اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ کیا ظلم کیا ہے؟
میاں صاحب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا میں جنت اور دوزخ کا فیصلہ کرنے والوں کا ایجنڈا کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس سے میاں صاحب کی مراد یہ ہے کہ جنت اور دوزخ میں کون جائے گا یہ بات خدا ہی جانتا ہے۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کے جنت یا دوزخ میں جانے کا فیصلہ کریں۔ میاں صاحب کی یہ بات سو فی صد درست ہے۔ مسلمانوں کو واقعتاً اس بات کا حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ کسی کے بارے میں خود یہ فیصلہ کریں کہ کون جنت کا مستحق ہے اور کون جہنم کا سزا وار۔ لیکن میاں صاحب اپنی نام نہاد روشن خیالی کے اندھیرے میں یہ بھول گئے کہ قرآن مجید نے صاف کہا ہے کہ کافر اور مشرک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے۔ چناں چہ قرآن کے اس صریح حکم اور اعلان کی بنیاد پر اگر مسلمان کافروں اور مشرکوں کو جہنم کا ایندھن سمجھتے ہیں تو اس میں بیچارے مسلمانوں کا کوئی قصور نہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو میاں صاحب نے اپنے خطاب کے مذکورہ نکتے میں قرآن پاک کے واضح حکم اور اعلان کا اعلان کیے بغیر انکار کیا ہے۔ یہ اسلام پر ایک کھلا اور ہولناک حملہ ہے۔ میاں صاحب شاید نہیں جانتے کہ اسلام میں اصل چیز ایمان ہے اور ایمان کے دو پہلو ہیں۔ ایک خدا پر ایمان لانا اور اس کے ساتھ ساتھ رسول اکرمؐ کی رسالت کی گواہی دینا اور تصدیق کرنا۔ رسول اکرمؐ کے زمانہ مبارک سے آج تک مسلمانوں کا اس بات پر ’’اجماع‘‘ ہے کہ ایک خدا اور رسول اکرمؐ پر ایمان لائے بغیر کسی کا ایمان قابل قبول نہ ہوگا اور جس کے پاس ایمان نہیں ہوگا وہ جنت میں نہ جاسکے گا۔ لیکن میاں صاحب نے ایمان کو معمولی اور اتنی مجّدد یا abstract چیز بنادیا ہے کہ جیسے اس کی کوئی اہمیت اور ٹھوس شکل و صورت ہی نہ ہو۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کافروں اور مشرکوں کے بارے میں تو دنیا ہی میں فیصلہ ہوگیا کہ وہ دوزخ میں جائیں گے۔ رہے اہل ایمان تو ان کے بارے میں بھی اسلام کی تعلیم واضح ہے۔ جو مسلمان گناہ کریں گے وہ سزا کے طور پر ضرور جہنم میں جائیں گے لیکن جس شخص کے دل میں رتی برابر بھی ایمان ہوگا اسے دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور اسے بالآخر جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ یہ بھی کسی مسلمان کی ’’خودساختہ‘‘ رائے نہیں۔ یہ قرآن و سنت سے ماخوذ تعلیمات سے ماخوذ عقیدہ ہے اور اس پر بھی مسلمانوں کا ’’اجماع‘‘ ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اپنے خطاب میں میاں صاحب نے اس ’’اجماع‘‘ کا بھی انکار کیا ہے۔ یہ بھی اعلان کیے بغیر اسلام کے بنیادی عقیدے پر حملہ ہے۔
میاں نواز شریف نے کراچی میں ہولی کے موقعے پر ہندو برادری کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ ہم سب اللہ کی مخلوق ہیں، ہر مذہب کے لوگ اپنے عقائد کے مطابق عبادت کرتے ہیں، کوئی اللہ کہتا ہے، کوئی خدا، کوئی بھگوان اور کوئی ایشور۔ لیکن تمام مذاہب کا درس انسانیت کا احترام ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو میاں صاحب نے ان فقروں میں اسلام اور دیگر تمام مذاہب کو ایک صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ ان کے نزدیک ان میں فرق ہے تو اتنا کہ کوئی اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے، کوئی خدا یعنی god اور کوئی بھگوان یا ایشور۔ میاں صاحب کی یہ بات بھی اسلام پر حملہ ہے۔ اس لیے کہ اسلام اور دیگر مذاہب ’’مساوی‘‘ نہیں۔ قرآن و سنت اور مسلمانوں کے اجماع کے مطابق عیسائیت ہو یا یہودیت، ہندو ازم ہو یا کوئی اور مذہب اسلام یعنی شریعت محمدیؐ کے ظہور کے بعد تمام دیگر ادیان ’’منسوخ‘‘ ہوگئے۔ صرف اسلام موجود اور موثر ہے۔ چناں چہ اسلام اور باقی مذاہب کو ایک سطح پر لانا یا انہیں ’’مساوی‘‘ بنا کر پیش کرنا اسلام پر کھلا حملہ ہے اور میاں صاحب نے دن دہاڑے یہ کام کیا ہے۔ میاں صاحب نے یہ بات درست کہی ہے کہ ہم سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ لیکن مخلوق میں فرق ہے۔ ورنہ ابلیس بھی اللہ کی مخلوق ہے اور نمرود، فرعون اور ابو جہل بھی اللہ ہی کی مخلوق تھے۔ لیکن محض اللہ کی مخلوق ہونے کی وجہ سے ہم ابلیس، نمرود، فرعون اور ابوجہل کی تعریف نہیں کرسکتے، ان سے دوستی نہیں کرسکتے، انہیں اپنے لیے نمونہ نہیں بناسکتے۔ بلاشبہ اسلام کافروں، مشرکوں اور اہل کتاب کو انسان سمجھتا ہے اور انہیں اپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرنے کا حق دیتا ہے، لیکن اسلام انہیں ’’اہل ایمان‘‘ کے مساوی قرار نہیں دیتا۔ اس درجہ بندی پر بھی مسلمانوں کا ’’اجماع‘‘ ہے اور میاں صاحب اس اجماع پر مسلسل حملے کررہے ہیں۔
میاں صاحب نے اپنے خطاب میں یہ بھی فرمایا کہ کسی مذہب کے خلاف بُرے خیالات گری ہوئی سوچ ہے۔ کسی مذہب کے خلاف بُرے خیالات کا اظہار واقعتاً گھٹیا بات ہے۔ لیکن بُرے خیال اور حق گوئی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مثلاً اصول توحید کی رو سے ’’تثلیت‘‘ شرک ہے اور شرک گمراہی ہے۔ چناں چہ اگر مسلمان شرک کو شرک اور گمراہی کو گمراہی کہیں تو کیا یہ ’’گری ہوئی بات‘‘ ہے؟ نہیں میاں صاحب یہ حق کا بیان ہے۔ بلکہ اس کے برعکس جو گمراہی کو گمراہی نہ کہے وہ حق کو چھپاتا ہے اور یوں ضلالت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال ہندوؤں کی ہے۔ ہندو بتوں کو پوجتے ہیں اور یہ بھی شرک کی ایک صورت ہے۔ چناں چہ اگر مسلمان ہندوؤں کو مشرک قرار دیتے ہیں تو کیا وہ ’’گری ہوئی بات‘‘ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حضور اکرمؐ سے زیادہ صاحب اخلاق اور انسانوں کا احترام کرنے والا نہ کوئی ہوا ہے نہ ہوگا۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کسی کو برے نام سے نہ پکارو لیکن حضور اکرمؐ نے ابوجہل کو ابوجہل ہی کہا حالاں کہ یہ اس کا اصل نام تھا نہ اس میں ’’توصیف‘‘ کا کوئی پہلو تھا لیکن حضورؐ نے ابوجہل کو ابو جہل کیوں کہا؟ اس لیے کہ ابوجہل ابو جہل تھا۔ اسے معلوم تھا کہ آپؐ نبی ہیں مگر اس کے باوجود وہ آپؐ کی نبوت کا انکار کرتا رہا۔ ویسے میاں صاحب اور ان کی پارٹی جتنی مہذب اور انسانوں کا احترام کرنے والی ہے وہ سب جانتے ہیں۔ قوم دیکھ رہے ہے کہ میاں صاحب کی جماعت کے رہنما عمران خان کو روز ایک نئے اور برے نام سے یاد کرتے ہیں۔ لیکن میاں صاحب نے آج تک ان کو ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عمران خان کی توہین میں میاں صاحب کی مرضی شامل ہے۔ ایک جانب میاں صاحب کی ننگ رسی کا یہ عالم ہے کہ جب تک وہ اپنے سیاسی حریف کو گالی نہ دلوالیں انہیں چین نہیں آتا۔ دوسری جانب ان کی ’’کشادہ رسی‘‘ کا یہ عالم ہے کہ اگر مسلمان اسلام کی تعلیمات کے مطابق کافر کو کافر اور مشرک کو مشرک کہیں تو میاں صاحب فرماتے ہیں کہ یہ ’’گری ہوئی بات‘‘ ہے۔ لیکن اسلام پر حملوں کے سلسلے میں میاں صاحب تنہا نہیں۔
چند روز پیش تر یعنی 14 مارچ 2017ء جیو کے پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں بھی اسلام پر کئی حملے کیے گئے۔ مثلاً معروف کالم نویس حسن نثار نے رسول اکرمؐ کے زمانہ مبارک میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، اس واقعے میں مسلمان لڑکیوں کی تذلیل کی گئی تھی، بعد میں پتا چلا کہ وہ مسلمانوں کی بچیاں ہیں تو معافی تلافی کی گئی۔ اس پر حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ ہماری بچیاں علیحدہ نظر آنی چاہییں۔ واقعے کا ذکر کرنے کے بعد حسن نثار نے کیا کہا۔ نقل کفر کفر نباشد کے اصول کے مطابق ملاحظہ فرمائیے۔ حسن نثار نے کہا ’’اب مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے جب میں پڑھتا ہوں کہ امریکا میں ہماری کسی بچی کے ساتھ لوگوں نے mis behave کیا کیوں کہ اس نے حجاب پہنا ہوا تھا۔ او بھائی ساڑھے چودہ سو سال پہلے تمہیں بالکل علیحدہ نظر آنا سوٹ کرتا تھا۔ اب ’’اُن میں‘‘ ضم ہوجانا اور گم ہو جانا سوٹ (suit) کرتا ہے۔ یہ wisdom کی interpretation کی بات ہے۔ حدیث شریف کی بھی ایک فلاسفی ہے۔
changing rules for the changing needs
unchanging rules for the unchanging needs