August 24th, 2017 (1438ذو الحجة1)

دفعہ 63،62 کے خلاف حکومتی عزائم

 

ایک طرف سابق اور معزول وزیراعظم معصومیت سے پوچھ رہے ہیں کہ مجھے بتایا جائے میرا کیا قصور ہے۔ اداروں کے درمیان ٹکراؤ نہیں چاہتا، عدلیہ کا احترام کرتاہوں، آئین کی بالادستی کے لیے تمام جمہوری قوتیں جمع ہوجائیں اورر دوسری طرف ان کے عبوری وزیراعظم اور عبوری حکومت آئین کا حلیہ بگاڑنے پر تل گئے ہیں۔ اب عبوری وزیراعظم نے عندیہ دیا ہے کہ وہ آئین کی دفعہ 63،62 میں ترمیم کے لیے بل لاسکتے ہیں۔ جب کہ بعض اخبارات میں تو یہ خبر ہے کہ دفعہ 63،62 میں ترمیم کے لیے وزیراعظم کے صلاح مشورے شروع ہوگئے۔ ایک اور خبر ہے کہ وفاقی حکومت نیب کو قومی احتساب کمیشن میں تبدیل کررہی ہے۔ اس سلسلے میں بل تیار کیا جارہاہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس ادارے کو بھی مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں کرلے۔ یہ دو باتیں ایسی ہیں جن کا براہ راست تعلق میاں نواز شریف کے خلاف فیصلے سے ہے۔ ایک تو دفعہ 63،62 میں ترمیم کرکے وہ اسے ایسا بنانا چاہتے ہیں کہ آئندہ الیکشن تک میاں نواز شریف کو اسی دفعہ کے تحت ریلیف مل جائے اور احتساب کمیشن بناکر نیب عدالت کے کسی ممکنہ فیصلے کو بے کار کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ گویا آئین پر حملے جاری رہیں گے۔ سندھ حکومت پہلے ہی نیب کے خلاف قانون سازی کرچکی ہے اور اپنا قانون بنالیا ہے۔ یہ ہیں آئین کے رکھوالے اور آئین کی پاسداری کے دعوے کرنے والے۔ اگرچہ اس حوالے سے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو آئین کی شق 63،62 ختم نہیں کرنے دیں گے لیکن اسمبلی میں عددی اکثریت کی بنیاد پر یہ لوگ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں عبوری وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر جس اسکینڈل کا ذکر ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے کیا ہے وہ قابل ذکر ہے۔ اگر وزیراعظم کی نامزدگی اور اپنا وزیراعظم کا امیدوار واپس لینے کے 20 سے 25 ارب روپے لیے جاسکتے ہیں تو مغرب کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے تو اندر سے بھی رقم ملے گی اور باہر سے بھی۔ پھر کوئی بعید نہیں کہ سارے گروپ مل کر اس قانون کو ختم کردیں یا اس کو غیر موثر بنا ڈالیں۔ انہیں روکنے کا واحد راستہ عوامی دباؤ ہی ہے، دینی جماعتیں اور اگر کوئی سیاسی جماعت آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو وہ اس حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ مہم چلائے۔ آج کل جس قسم کی انارکی والی صورتحال ہے اس سے فائدہ اٹھاکر بہت سارے غیر آئینی اقدامات ہورہے ہیں۔ نیب کا معاملہ بھی دفعہ 63،62 کی طرح ہے۔ اگر حکومت نیب کو احتساب کمیشن بنائے گی تو اس کی خود مختاری پر ضرور پڑے گی۔ دوسرے یہ کہ اس حوالے سے آئینی ترمیمی بل میں جو شقیں ڈالی جائیں گی وہ بھی ایسی ہوں گی کہ نیب کو ختم ہی کردیا جائے گا۔ وزیراعظم کی جانب سے نیب اور دفعات 63،62 کے خاتمے کے عندیے سے ایسا محسوس ہورہاہے کہ ملک کا فوری اور ہنگامی نوعیت کا مسئلہ یہی ہے۔ پانی، بجلی، امن وامان اور مہنگائی وغیرہ بالکل نہیں ہیں۔ ان کو چھوڑیں بھارت پاکستان کی داخلی صورتحال سے فائدہ اٹھاکر ڈیمز بنوانے میں مصروف ہے۔ کشمیر میں اس نے مظالم کی انتہا کردی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف اور عالمی بینک میں پانی کے مسئلے پر مذاکرات کو اپنے میڈیا کے ذریعے اپنی کامیابی قرار دے کر خود بغلیں بجارہا ہے۔ لیکن بھارت محض بغلیں نہیں بجاتا بلکہ بعد میں ان ہی خبروں کی بنیاد پر تاریخی حقائق تبدیل کردیتا ہے۔ پاکستانی حکمران سورہے ہیں یا اپنی حکومت بچانے کے چکر میں دستور کا بیڑہ غرق کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہماری اپوزیشن سے بھی گزارش ہے کہ مسلم لیگ ن کا پیچھا ضرور کریں، نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف احتساب کی تحریک ضرور چلائیں لیکن اہم قومی امور آئین اور اداروں کے تحفظ کے حوالے سے بھی بیدار رہیں۔ ایک طرف تو پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف مسلم لیگ ن کے شدید ترین مخالف ہیں لیکن اس قسم کے معاملات میں مضبوط حلیف کا کردار ادا کرتے ہیں اسے ’’جمہوریت کے بہترین مفاد‘‘ کا نام دیا جاتا ہے یہ بہت واضح نظر آرہاہے کہ اگر حکومت نے ایسی کوئی تحریک پیش کی جس میں آئین کی دفعات 63،62 کو ختم یا غیر موثر بنایا جائے گا تو یہ تمام پارٹیاں اپنے مخصوص انداز میں تعاون کریں گی، کوئی ووٹ دے کر اور کوئی واک آؤٹ کرکے۔ تاکہ اسمبلی میں موجود ہوتے ہوئے مخالفت میں ووٹ نہ دینے کا الزام نہ آئے۔یہ تماشا پاکستانی قوم بار بار دیکھ چکی ہے۔ پیپلزپارٹی نے جنرل پرویز کو اس حوالے سے کئی مرتبہ مدد دی۔ 18 ویں ترمیم کے موقع پر بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ پیپلزپارٹی درمیان میں اچانک میدان چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئی اور ق لیگ کو ترمیم کرنے کا موقع مل گیا۔ اگر پی پی، مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتیں مل جاتیں تو اسمبلی میں اکثریت سے بل منظور کرانا ممکن نہ رہتا۔ جب کہ پیپلزپارٹی نے اپنے دس ارکان ق لیگ کو مستعار بھی دے رکھے تھے۔ یہی کچھ آج کل بھی ہورہاہے۔ اب الیکشن کمیشن نے بھی مسلم لیگ ن کو نیا سربراہ منتخب کرنے کا حکم دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس حکم کے خلاف الیکشن کمیشن کا حلیہ بگاڑا جاتا ہے یا کہیں سے کوئی اشارہ ہے جس کے مطابق یہ حکم من و عن تسلیم کرلیا جائے گا۔ حالات تو یہی بتارہے ہیں۔