December 6th, 2019 (1441ربيع الثاني8)

معاشی ترقی، حقیقت اورافسانہ

 

آزادی مارچ کو ایک طرف رکھا جائے اور وزیراعظم کی کامیابیوں کے دعووں اور معاشی ترقی کی باتوں کو سامنے رکھا جائے تو جو لوگ آزادی مارچ کو مشق فضول سمجھتے ہیں وہ بھی ایک مارچ کرنے کے لیے پر تولنے لگیں گے۔ وزیراعظم نے بات تو آزادی مارچ کے حوالے سے کی ہے لیکن تان ترقی پر توڑی ہے۔ کہتے ہیں کی اپوزیشن حکومت کی کامیابی سے خوفزدہ ہے… کہتے ہیں کہ کبھی یہودی لابی اور کبھی احمدیوں کی حمایت کا الزام لگایا جاتا ہے۔ مہنگائی کی بات کرنے والے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار دیکھ لیں۔ سب کچھ سامنے آچکا ہے۔ ابھی چار دن قبل کاروبار کے لیے آسانیاں دینے والے ممالک میں پاکستان پہلے دس ممالک میں شامل کر لیا گیا تھا۔ پتا نہیں ایسے جائزے کس بنیاد پر تیار کیے جاتے ہیں۔ پورے پاکستان کے تاجر، صنعتکار، امپورٹر، ایکسپورٹر سب پریشان ہیں۔ چھوٹا دکاندار بھی پریشان ہے حتیٰ کہ خریدار بھی۔ اور چھوٹے تاجروں نے تو ہڑتال کر رکھی ہے۔ پھر بھی کاروبار کے لیے آسانیاں دینے پر پاکستان کو نمبر ملے اور وزیراعظم نے خود ہی حکومت کو مبارک باد دے دی ہے۔ اب فرمایا ہے کہ ادارہ شماریات کے اعداد و شمار دیکھ لیں۔ موصوف اپنے مرکزی بینک کی جائزہ رپورٹ بھی دیکھ لیں جس نے بتایا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانا مشکل ہے۔ اور مالی سال میں شرح اور بڑھ جائے گی۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر کو تو وزیراعظم خود بڑی چاہ سے لائے تھے۔ یا آئی ایم ایف کی ہدایت پر انہیں لایا گیا تھا۔ اس ادارے کی رپورٹ ہے کہ مہنگائی 8 اعشایہ 5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہونے کا خدشہ ہے۔ بینک کا تو یہ کہنا ہے کہ حکومت مزید شعبوں سے ٹیکس وصول کرے لیکن کیا وزیراعظم اپنے ادارے کی رپورٹ بھی نہیں دیکھتے جس کے مطابق اقتصادی ترقی کی شرح 9 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کو بھی چھوڑیں… غریب کی دو وقت کی روٹی کے دعوے کرنے والے حکمران کسی متوسط طبقے کے آدمی سے تو پوچھیں کہ اس کا گزارا کیسے ہو رہا ہے۔ کسی ادارے کے اعداد وشمار کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ کے پی کے میں جہاں ساڑھے چھ سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں آٹے کی بوری پر چار سو روپے بڑھ گئے اب 85 کلو گرام کی بوری 5200 روپے کی ہوگئی۔ کیا اپنے صوبے کی خبر بھی نہیں ہے۔ چند موٹی موٹی چیزوں کی قیمتوں کو سامنے رکھا جائے تو سارا ڈیٹا ٹھپ ہو کر رہ جائے۔ چند ماہ قبل پیٹرول 100 روپے سے کم کا تھا آج 118 کا ہے۔ سی این جی 90 روپے کلو تھی اب 123 روپے کی ہے۔ ڈالر 90 اور 100 روپے کا تھا اب 156 پر ’مستحکم‘ ہے۔ آٹا، دالیں، چاول سبزی ہر شے مہنگی ہے۔ بکرے کا گوشت 1000 سے 12 سو تک ہو گیا ہے۔ گائے کا گوشت 780 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سبزی میں لوکی اور توری بھی 120 روپے میں مل رہی ہے۔ خان صاحب بنی گالا سے نکلیں تو پتا چلے کہ ڈیٹا کیا ہوتا ہے۔ جواب میں عام آدمی کی آمدنی میں کیا اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مونگ پھلی کے دانے کے برابر بھی اضافہ نہیں ہوا۔ اب تک حکومت کم سے کم اجرت کے قانون پر عمل نہیں کر سکی۔ پنشن بھی ساڑھے 6 ہزار روپے ہے اور اس میں اضافے کا اعلان کرکے واپس لے لیا گیا۔ وزیراعظم بابا گرونانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر فخر سے اعلان کر رہے تھے کہ سکھوں سے دو وعدے کیے، دونوں پورے کر دیے… وزیراعظم کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ آپ نے پاکستانی قوم سے ووٹوں کے بدلے کچھ وعدے کیے تھے۔ انہیں پورا کرنے کی ضرورت بھی ہے۔ لوٹی ہوئی دولت لانی تھی۔ سب کا احتساب کرنا تھا صرف دو کا نہیں۔ پیٹرول، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں ہی کو کنٹرول نہیں کیا جاسکا۔ اور ٹیکسوں پر اصرار ہے۔ خود وزیراعظم، وزرا اور اشرافیہ کتنا ٹیکس دیتی ہے۔ ایک ڈراما بنا رکھا ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ ایک ایک چیز پر ٹیکس ادا کیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ دہرے ٹیکس بھی دے رہے ہیں۔ پیٹرول پر ٹیکس ریلوے، بسوں اور جہازوں کے کرایوں پر ٹیکس۔ پیسہ نکالنے پر ٹیکس اور اکائونٹ خالی ہونے پر ٹیکس۔ جو لوگ ٹیکس نہیں دے رہے ان کو زبردستی فائلر بنانے پر اصرار ہے۔ حکومت ان کے ٹیکس کی بنیاد پر انہیں خود فائلر بنا دے۔ کم از کم تنخواہ دار طبقے کو تو حکومت خود فائلر بنا سکتی ہے۔ صرف اسٹیٹ بینک کا جائزہ وزیراعظم کے دعوے کی تردید نہیں کر رہا بلکہ تازہ ترین خبر معاصر اخبار جنگ میں ہے کہ ٹماٹر، لہسن، دالیں، آٹا، مرغی اور انڈے سمیت 18 اشیا مہنگی ہو گئیں۔ مجموعی طور پر 41ء17 فیصد مہنگائی ہوئی ہے۔ وزیراعظم کسی رپورٹ پر تو توجہ فرمائیں۔ستم یہ ہے کہ وزیراعظم ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ پچھلی حکومتیں لوٹ کر کھا گئیں۔ یہ رونا کب تک رویا جائے گا۔ بابا گرونانک کے نام پر سکھوں کے لیے جامعہ کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر تعلیم کے فروغ اور نئی جامعات کے قیام کے حوالے سے تقاریر یقینا باموقع تھیں۔ لیکن اچانک عمران خان وہاں بھی سیاسی مخالفین پر گرجنے برسنے لگے۔ این آر او نہیں دوں گا کا نعرہ بہت گھس چکا ہے۔ آزادی مارچ کو بلیک میلنگ قرار دیا لیکن جب آپ نے 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تھا تو کیا وہ بلیک میلنگ نہیں تھی؟

                                                  بشکریہ جسارت