December 5th, 2019 (1441ربيع الثاني8)

سوال تو استعفے ہی کا ہے

 

بات پھر مائنس ون کی طرف جا رہی ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں میاں نواز شریف اپنے پہلے دور میں دو سال میں پہنچے تھے یعنی استعفیٰ نہیں دوں گا… ڈکٹیشن نہیں لوں گا ور اگلے ہی دن استعفیٰ دے دیا۔ اور یہ استعفیٰ کسی کی ڈکٹیشن پر دیا ہوگاجو کاکڑ فارمولا کہلایا۔ اب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… لیکن ایک قدم پیچھے ہٹایا ہے اور مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ اور یہ شرائط کیا ہیں… وہ تحریک لبیک کے دھرنا کیس میں جسٹس فائز عیسیٰ کے مقرر کردہ ضوابط ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے مارچ روکنے کے لیے اقدامات بھی شروع کردیے ہیں۔ اٹک پل اور ڈی چوک پر کنٹینر لگ گئے ہیں۔ جی ٹی روڈ کی بندش کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ عمران خان کے دھرنے کے موقع پر کیے جانے والے تمام حکومتی اقدامات آج عمران خان کی حکومت خود کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ پنجاب، بلوچستان اور آزاد کشمیر سے پولیس کی نفری بھی بلائی جا رہی ہے جن کا صرف کھانے کا بل کروڑوں میں طلب کیا گیا ہے۔ گویا میدان سج گیا ہے۔ جب عمران خان نواز شریف کے خلاف نکلے تھے اور ان کے قدم بڑھتے ہی جارہے تھے تو لوگوں کی زبان پر یہ سوال تھا کہ اس کے پیچھے کوئی ہے۔ آج اس کا جواب عمران خان نے خود دے دیا کہ فوج حکومت کے پیچھے ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمن کے پیچھے کون ہے۔ تمام تر الزامات کے باوجود مولانا کے قدم بڑھتے جارہے ہیں۔ اب 27 اکتوبر بھی قریب ہے۔ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ جو کچھ عمران خان کہہ رہے ہیں وہی سب میاں نواز شریف اور ان کے وزراء کہتے تھے کہ عمران بیرونی ایجنڈا لے کر آئے ہیں۔ طاہر القادری بیرونی ایجنٹ ہے۔ عمران کی سابقہ بیوی یہودی باپ کی بیٹی ہے۔ چینی صدر کا دورہ عمران کے دھرنے کی وجہ سے ملتوی ہوا وغیرہ وغیرہ… آج عمران خان کہہ رہے ہیں کہ مولانا کے مارچ پر بھارت میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ جہاں تک استعفے کا سوال ہے یا مولانا فضل الرحمن کا چارٹر آف ڈیمانڈ واضح نہیں ہے والی باتوں کا ایک ہی جواب ہے کہ چارٹر آف ڈیمانڈ بھی واضح ہے اور سوال تو ہے ہی استعفے کا… لیکن یہ نعوذ باللہ خدا کے لہجے میں کون بول رہا ہے۔ میں… میں اور میں… یہی لہجہ نواز شریف کا تھا۔ یہی لہجہ جنرل پرویز مشرف کا بھی تھا اور سب سے بڑھ کر… اپنی کرسی کے ہتھے پر ہاتھ مار کر یہ کہنے والا ذوالفقار علی بھٹو تو سب کو یاد ہوگا۔ میں کمزور ہو سکتا ہوں… لیکن یہ کرسی بہت مضبوط ہے استعفا نہیں دوں گا۔ پھر کیا ہوا… بھٹو بھی گئے، مضبوط کرسی بھی اور اس کے بعد تو وزارت عظمیٰ کی کرسی صرف کمزور نہیں ہوئی بلکہ اس کا وقار بھی پامال ہوا اور اس قدر پامال ہوا کہ کبھی جمالی، کبھی گیلانی، کبھی راجا، کبھی خاقان اور کبھی عمران خان اس پر براجمان ہوئے… ان میں سے بیشتر کے ساتھ ان کے کارناموں کے لاحقے بھی لگے ہوئے ہیں۔ کوئی رینٹل ہے تو کوئی ایل این جی اور اب نہایت عامیانہ زبان استعمال کرنے والا شخص اس کرسی پر بیٹھا ہے۔ انتقام لینے والوں نے منصب اور کرسی دونوں کو رسوا کردیا اور باقی کام اس کرسی پر بیٹھنے والوں نے کیا۔ ان تمام وزرائے اعظم میں سے سب سے آگے ظفر اللہ خان جمالی تھے کہ برسر عام جنرل پرویز کو اپنا باس کہتے تھے۔ لیکن عمران خان نے جو کہا ہے کہ فوج حکومت کے پیچھے ہے وہ صرف وہ نہیں کہہ رہے۔ حکومت ابتدائی دنوں میں فوج کے ترجمان نے کھل کر کہا تھا چھ ماہ تک حکومت پر تنقید نہ کی جائے مثبت تصویر دکھائی جائے۔ پھر ایک اور مرتبہ تنقید پر تنقید کی گئی۔ اس کے بعد تو جنرل باجوہ نے ہی کہہ دیا کہ فوج حکومت کے ساتھ ہے تاجر بھی اس کا ساتھ دیں۔ ہوسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن بھی یہی سمجھ رہے ہوں کہ فوج ان کے ساتھ ہے۔ بہرحال آزادی مارچ کی آواز ہر طرف سے آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن پر کشمیر کی آواز دبانے کا الزام حکومت لگا رہی ہے لیکن کشمیر کے لیے خود آواز نہیں اٹھا رہی۔ میڈیا پر دانشوروں کی نت نئی اقسام تیزی سے اُگ رہی ہیں اور آکاس بیل کی طرح چمٹ گئی ہیں ان کے منہ سے بھی ایسی ہی باتیں نکل رہی ہیں۔ لیکن کوئی ان سے پوچھے آپ تو دانش ور ہیں، آپ تو سچ بات کہیں۔ آپ کو کس نے روکا ہے کشمیر پر بات کرنے سے۔ جس قسم کی صورتحال پاکستان میں ہے یہ پہلی مرتبہ نہیں ہو رہی۔ ایوب خان بھی ایسی ہی صورتحال میں ابھرے، جنرل ضیا بھی ایسی ہی صورتحال میں ابھرے۔ ہاں جنرل پرویز مشرف دوسری صورتحال میں سامنے آئے جس میں براہ راست ان پر ہاتھ ڈال دیا گیا تھا۔ ملک کے سارے خیر خواہ یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی کو ملک کی پروا نہیں۔ بات تو ٹھیک ہے لیکن تمام میڈیا والوں کو کیا ہوا ہے کہ ملک کے اصل مسائل پر بات نہیں کرتے… کیا مہنگائی مسئلہ نہیں۔ ڈالر کو راکٹ لگے ہوئے ہیں، پیٹرول کی قیمت کا کوئی پتا نہیںکب کتنا بڑھا دیا جائے اور کیوں؟… گیس، سی این جی، بجلی کی قیمتیں آئئے دن بڑھ رہی ہیں۔ بدانتظامی عروج پر ہے۔ نااہلی کا عالم یہ ہے کہ ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے والی کیفیت ہے۔ یہ بات درست ہے کہ حکومت اور وزیراعظم اس کے ذمے دار ہیں… اس لیے مولانا فضل الرحمن نے ان کو نشانہ بنا رکھا ہے لیکن میڈیا بھی اسی مارچ اور دھرنے کو اجاگر کر رہا ہے۔ پھکڑ پن اور جگت بازی کے مقابلے ہو رہے ہیں۔ سب مل کر اس مارچ کو بھی جگہ دیں لیکن حکومت سے پوچھیں کہ عافیہ کہاں ہے کیوں نہیں لاتے۔ آسیہ کیوں چلی گئی۔ ابھی نندن کو کس سے پوچھ کر رہا کیا۔ اسے رہا کرنے سے قبل اتنے اجلاس کیوں نہ ہوئے جتنے مولانا فضل الرحمن کے مارچ کو روکنے کے لیے کیے گئے۔ عدالتوں کے فیصلوںکا حوالہ دے کر مارچ کی مشروط اجازت دی جا رہی ہے۔ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بھی جگتیں کی جا رہی ہیں۔ 27 سے 31 اکتوبر تک آنے والے دور کے لیے بہت سی راہیں متعین کی جائیں گی۔ یہ کرنے والے کیا کرتے ہیں۔ اس کا کسی کو علم نہیں، یا بتاتے نہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ جولائی 2018ء کی غلطیوں کی اصلاح کرنے کا موقع نکالا گیا ہے۔ دیکھیے اس بحر کی تہ سے اچھلتا ہے کیا۔

        بشکریہ جسارت