November 17th, 2019 (1441ربيع الأول19)

عوام حکومت سے کچھ نہ مانگیں

 

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے عوام سے کہا ہے کہ وہ حکومت سے نوکریاں نہ مانگیں ، روزگار دینا حکومت کا نہیں نجی شعبے کا کام ہے ، حکومت صرف ماحول پیدا کرتی ہے ، حکومت نوکریاں نہیں دے سکتی۔فواد چودھری نے تحریک انصاف کے منشور ہی کی تردید کردی ہے ۔ عمران خان نے مسند اقتدار سنبھالتے ہی پہلے سو دن کا جو منصوبہ پیش کیا تھا اس میں نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرنے اور 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا اعلان تھا ۔ ایک سال گزرنے کے بعداب فواد چودھری عوام سے فرمارہے ہیں کہ وہ حکومت سے نوکریاں نہ مانگیں ۔فواد چودھری نے مزید فرمایا ہے کہ حکومت سرکاری شعبے میں روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنا تو دور کی بات، چار سو محکموں کو بندکرنے پر غورکررہی ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر ہم روزگار دلانے لگیںتو معیشت تباہ ہوجائے گی ۔فواد چودھری کے فرمودات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ یا تو پہلے عمران خان اور ان کے مشیروں کو علم نہیں تھا کہ وہ کیا وعدے کررہے ہیں یا پھر اب فواد چودھری کو حقیقت حال کا علم ہو ا ہے کہ سرکار ایک کروڑ نوکریاں نہیں فراہم کرسکتی۔ بعد ازاں فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نوکریاں دینا نجی شعبے کا کام ہے ،حکومت صرف ماحول پیدا کرتی ہے۔ عمران خان نے حکومت میں آنے کے بعد جو ماحول پیدا کیا ہے اسے عالمی بینک کی رپورٹ میں بھی دیکھا جاسکتا ہے اور شہروں شہروں ہونے والی تاجروں کی ہڑتال سے بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔ عمران خان نے برسراقتدار آتے ہی جو پالیسیاں اختیار کیں انہوں نے ملکی معیشت کے لیے دو دھاری تلوار کا کام کیا ہے ۔ روپے کی بے قدری ، ٹیکسوں میں بے انتہا اضافہ ، بجلی ، گیس اور پٹرول کے نرخوں میں ہر چند دن کے بعد اضافے نے نجی شعبے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ اس پر شرح سود میں زبردست اضافے نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔ اس کے نتیجے میں صنعتی یونٹ روز بند ہورہے ہیں اور زرعی شعبہ بھی زبردست خسارے کا شکار ہے ۔ پاور لومز ٹیکسٹائل انڈسٹری کی جان ہیں۔ فیصل آباد میں پاور لومز بند پڑی ہیں اور ہزاروں افراد کے گھروں کا چولہا بجھ گیا ہے۔ عمران خان کی پالیسیوں نے جو ماحول پیدا کیا ہے اس سے روزگار کے مزید مواقع کیا پیدا ہوتے ، جو لوگ روزگار سے لگے ہوئے تھے وہ بھی اب بے روزگاروں کی صف میں شامل ہوگئے ہیں ۔ نیب کی کارکردگی پر اعلیٰ عدالتیں کئی مربہ تنبیہ کرچکی ہیں مگر اس کی چال وہی پرانی ہے ۔ یہ ادارہ صرف اور صرف گرفتاریاں کرتا ہے ، اس کے افسران مول تول کرتے ہیں اور یا تو گرفتار شدگان کو تاوان وصول کرکے رہا کردیا جاتا ہے یا پھر کیس اتنا کمزور بنایا جاتا ہے کہ وہ عدالتوں سے بری ہوجاتے ہیں ۔ جو لوگ نیب افسران کو تاوان ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے ، وہ برسوں نیب کی جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں اور ان میں سے کئی کی اموات بھی نیب کی حراست میں ہوچکی ہیں ، نیب کی وجہ سے جو ماحول پیدا ہوا ہے ، اسے ایک سرکاری محکمے سیکوریٹی ایکسچینج اینڈ کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین پالیسی بورڈ کے چیئرمین خالد مرزا کے بیان کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خالد مرزا نے کہا کہ ایس ای سی پی کا اسٹاف پکڑے جانے کے خوف سے گھبرایا ہوا ہے اور کام کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ان کے ادارے کے اٹھارہ بیس افسران کو اٹھالیا گیا ہے اور حکومت کو آگاہ کرنے کے باوجود انہیں نہیں چھوڑا جارہا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے دو چار لوگوں کے کیس دیکھے ہیں اور مجھے نہیں لگا کہ ان افسران نے کوئی غلط کام کیا ہے ۔ خالد مرزا نے افسوس کے ساتھ کہا کہ کسی کو کیپیٹل مارکیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر کی کوئی پروا نہیں ہے ۔خالد مرزا اہم سرکاری ادارے کے سربراہ ہیں اور ان کا مذکورہ بیان یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ حکومت روزگار کی فراہمی کے لیے نجی شعبے کو کتنا سازگار ماحول فراہم کررہی ہے ۔ عمران خان کے اہم وزیر فواد چودھری نے یہ بھی کہا ہے کہ سرکاری اداروں کا آج جو حال ہے اس کی بنیادی وجہ سرکاری اداروں میں نوکریاں بیچنا اور میرٹ سے ہٹ کر نوازنا ہے ۔ وفاقی حکومت کے تحت پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی میں گزشتہ دنوں افسران کی بھرتیوں میں فی نوکری تیس تا چالیس لاکھ رشوت وصول کرنے کی بازگشت اب بھی باقی ہے ۔ اب تو ان بھرتیوں کے خلاف نیب کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی انجمن اکاؤ میں بھی درخواست دی جاچکی ہے ۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی میں رشوت کے عوض بھرتیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے ۔ ملکی معیشت کی ترقی کے لیے پیش کیے گئے تحریک انصاف کے انڈہ مرغی اور کٹا منصوبوں پر اب تو عوام کے ساتھ ساتھ خواص میں بھی تنقید شروع ہوگئی ہے ۔ سیدھی سی بات یہ ہے کے عمران خان کے قول اور فعل میں زبردست تضاد ہے ۔ انہوں نے ہوائی تیر چلائے اور لوگوں کو لبھانے کے لیے غیر حقیقی وعدے کیے ۔

                                                              بشکریہ جسارت