November 17th, 2019 (1441ربيع الأول19)

معیشت مستحکم، کارخانے بند، بیروزگاری میں اضافہ

 

حکومت پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ملکی معیشت بہتر اور اعتماد بحال ہوگیا ہے۔ تجارتی اور مالیاتی خساروں پر قابو پا لیا گیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ اور کرنسی بھی مستحکم ہو گئی ہے۔ مزید خوشخبری یہ سنائی گئی ہے کہ ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے جلد نکل آئیں گے۔ منی لانڈرنگ روکنے پر تمام ادارے متفق ہیں۔ پانچ لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہو گئے ہیں۔ آمدن 16 فیصد بڑھ گئی ہے یہ ساری خوشخبریاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے آنے والے حفیظ شیخ اور ٹیکس بچانے کی برسوں پریکٹس کرنے والے فرد نے سنائی ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کہتے ہیں کہ مشکل فیصلوں کے مثبت نتائج ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ فیکٹریاں چل پڑی ہیں۔ نئی ملازمتیں نکلیں گی۔ مزید یہ کہ حکومتی اخراجات میں 40 ارب روپے کمی کی گئی ہے۔ مشیر خزانہ ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی کے ساتھ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ خوش خبریوں کی طویل فہرست میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، پیٹرول کی قیمت نہ بڑھنے کی خبر بھی شامل ہے۔ اگر پاکستانی عوام اپنے ذہن پر زور ڈالیں تو یہی مشیر خزانہ جب آصف زرداری کے وزیر خزانہ تھے جب سندھ کے مشیر خزانہ تھے اس وقت بھی یہی باتیں بتاتے تھے۔ لیکن آج ان کی حکومت کے وزیراعظم پچھلی حکومتوں کو چور کہتے ہیں۔ یہی اعلانات میاں نواز شریف کے مشیر خزانہ اور دیگر وزراء کرتے رہتے تھے لیکن ان کے دور کو بھی خراب کہا جاتا ہے۔ اب نیا پاکستان بن چکا ہے اور اعلانات اسی طرح کے ہو رہے ہیں اور حقائق اس کے برعکس ہیں۔ حکمرانوں، وزیروں اور مشیروں کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں وہ قیمتوں کے اشاریے سرکاری خزانے کی مالی پوزیشن اور بین الاقوامی مارکیٹ سے موازنے کرتے ہیں اور عوام کو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھا دیتے ہیں۔ یہی کام اب بھی کیا گیا ہے۔ جہاں مشیر خزانہ کی خبر لگی ہے کہ کارخانے چل پڑے ہیں اسی جگہ پر خبر لگی ہوئی ہے کہ بھاری ٹیکسوں، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے صرف پشاور میں 309 کارخانے بند ہو گئے ہیں۔ مزدور بے روزگاری کا شکار ہو گئے ہیں۔ درجنوں کارخانے بندش کے دہانے پر ہیں۔ جس آمدنی میں اضافے کا دعویٰ کیا جارہا ہے وہ ٹیکس دہندگان پر دبائو ڈال کر زبردستی وصول کیے جانے والے پیسے ہیں۔ جن فائلرز یا ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافے کی بات کی جارہی ہے وہ بھی اس لیے بڑھ رہے ہیں کہ ہر قدم پر ان کے چیکوں اور وصولیوں میں کٹوتی کی جارہی تھی چھوٹی سے چھوٹی ادائیگی بھی اگر 50 ہزار سے زیادہ ہو تو 6 فیصد ٹیکس دینا پڑ رہا تھا۔ اس سے بچنے کے لیے ٹیکس فائلرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ مشیر خزانہ اور ایف بی آر کے چیئرمین خوش خبریاں سنا رہے ہیں اور جن لوگوں کی وجہ سے معیشت چل رہی ہے وہ سڑکوں پر ہیں۔ 28 اور 29 اکتوبر کو ہڑتال کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ ملک کے بڑے بڑے تجارتی ادارے اور تاجروں کی تنظمیں اور رہنما موجودہ معاشی حالات کو تباہ کن قرار دے چکے ہیں۔ پاکستان کیمیکل اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین یوسف بالا گام والا نے معیشت کی صورت حال کو خراب ترین قرار دیا ہے اور ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے ٹیکسٹائل برآمدات 26 ارب ڈالر تک لے جانے کی خواہش کو ناممکن قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برآمدی صنعتوں پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیے بغیر برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں ہے۔ اگر مزید تفصیل میں جائیں تو صرف اگست میں پاکستان کی شکر کی برآمدات میں 54 اعشایہ 52 فیصد کمی ہو گئی ہے۔ اگر معیشت بہتر اور اعتماد بحال ہو رہا ہے تو چھوٹے تاجر، صنعتکار، جیولرز، تجارتی ایسوسی ایشنیں وغیرہ یہ سب احتجاج پر کیوں اتر آئے ہیں۔ آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے بنیادی مسئلے کی جانب توجہ دلائی ہے اور وہ ہے بجلی کی مسلسل فراہمی ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی فراہمی میں تعطل کے سبب نجی صنعتوں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔ اگر کرنسی کے استحکام کی بات کی جائے تو یہ دعویٰ قوم کے ساتھ مذاق ہے بلکہ ظالمانہ مذاق ہے۔ ڈالر 80 سے 85 یا 90 کے درمیان ڈول رہا تھا کہ اچانک اسے پر لگ گئے اور وہ 170 تک جا پہنچا۔ اب 155 سے 160 کے درمیان ہے ایسے میں پاکستانی کرنسی کو مستحکم قرار دینا جھوٹ نہیں تو مذاق ہی قرار دیا جائے گا۔ ابھی تو عوام پر حکومتی پالیسیوں کے اثرات کی بات نہیں کی جارہی صرف تاجروں کی تنظیموں اور بڑے بڑے بزنس مینوں کی بات کی جارہی ہے۔ بڑے تاجروں کا بڑا وفدکیا آرمی چیف کے پاس کشمیر میں بھارتی مظالم کی شکایت لے کر گیا تھا؟؟ انہوں نے بھی حکومت کی بے سروپا معاشی پالیسیوں اور تاجر دشمن اقدامات کی شکایت کی تھی۔یہ بحث اپنی جگہ ہے کہ تاجروں کو آرمی چیف کے پاس جانا چاہیے تھا یا نہیں اور آرمی چیف نے براہ راست اس معاملے میں مداخلت کیوں کی۔ لیکن کچھ تھا تو شکایات کے انبار لگے ہیں۔ مختلف ماہرین اور معیشت کے اہم ستونوں کی بات زیادہ اہم ہے یا حکومتی پالیسیاں مسلط کرنے اور ان کے حق میں دعوے کرنے والوں کی بات زیادہ درست سمجھی جائے گی۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے تو ٹیکسٹائل سیکٹر کے حوالے سے آنے والے خطرات سے آگاہ کردیا ہے کہ کپاس کی پیداوار میں کمی ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا ہے کہ ٹیکسٹائل، فوڈ پرودکشن، مشروبات، تمباکو، پیٹرولیم، کیمیکل اور ادویات کے شعبے تنزلی کا شکار ہیں۔ پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل کہتے ہیں کہ عوام کو غریب کرکے معیشت مستحکم نہیں کی جاسکتی۔ عوام کی قوت خرید ختم ہوتی جارہی ہے۔ وہ خریداری نہیں کر رہے تو پروڈکشن نہیں ہو رہی، کارخانے بندش کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے نہایت بنیادی بات کی ہے کہ پاکستان کی کاروباری برادری مقامی منڈی پر انحصار کرتی ہے کیونکہ تین سو ارب ڈالر کی معیشت کی برآمدات صرف 19 ارب ڈالر ہیں۔ صنعتی اور زرعی خدمات کے شعبوں کو مقامی منڈی نے قائم رکھا ہوا ہے جسے آئی ایم ایف کی ہدایت پر کمزور کیا جارہا ہے۔ اب یہ سوال کرنے یا تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کون ہے۔ اب ذرا معیشت کے بہتری کے دعوے کا عام آدمی کی سطح پر جائزہ لیں تو ساری کہانی سامنے آ جاتی ہے۔ دالیں مہنگی، تیل مہنگا، آٹا مہنگا، روٹی مہنگی، دوائیں مہنگی، اسپتالوں کے ٹیسٹ مہنگے، پیٹرول بجلی گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ، جو پیٹرول 80 روپے کا تھا اب 113 روپے لیٹر ہو گیا ہے۔ سی این جی 80 سے 85 روپے تھی 123 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ ایل پی جی بھی مہنگی ہے۔ وہ جو پیٹرولیم کے وزیر تھے اسد عمر حکومت کے اوپننگ بیٹسمین، کسی وجہ سے اپنے ہی کھلاڑیوں نے انہیں رن آئوٹ کروا دیا وہ کہتے تھے کہ نواز شریف کے دور میں عوام سے پیٹرول پر ناجائز ٹیکس لیا جارہا ہے لیکن ان کی پارٹی کے دور میں عوام سے 27.22 روپے فی لیٹر زیادہ وصول کیے جا رہے ہیں۔ اس پر شبر زیدی اور حفیظ شیخ کیا کہیں گے۔ عوام کے لیے ٹرانسپورٹ کرایے مہنگے ہو گئے ہیں۔ اوبر اور کریم والوں نے بھی ریٹ بڑھا دیے ہیں۔ غریب آدمی دال، روٹی، سبزی کھا کر گزارہ کرتا تھا۔ پیاز 100 روپے، ٹماٹر 80 اور 100 روپے، پالک 100 روپے مل رہا ہے۔ آلو بھی کبھی 40 اور کبھی 60 روپے کا… کپڑے، جوتے چپلیں مہنگی، روزمرہ کی کوئی چیز غریب کی پہنچ میں نہیں رہی۔ کراچی غریب پرور شہر تھا لیکن ٹرینوں کے کرایے اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ عام آدمی ایک دفعہ اپنے گھر سے نکل آیا تو کئی کئی سال گائوں جانے کے بارے میں نہیں سوچتا ہے۔ پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت کو آئی ایم ایف کی ٹیم نے جس طرح تباہ کیا ہے اس پر کوئی آرمی چیف کے پاس جائے یا نواز شریف کو یاد کرے اسے اس کا حق ہے۔ جو انداز موجودہ حکمرانوں کی درآمد شدہ معاشی ٹیم کا ہے یہ مجرمانہ فعل ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ آرمی چیف بھی سب کچھ سن کر خاموش کیوں ہیں۔ پھر نہ بلاتے تاجروں کو اپنے پاس۔

                                                                                                  بشکریہ جسارت