November 17th, 2019 (1441ربيع الأول19)

اکنامک فورم کی چشم کشا رپورٹ

 

ورلڈ اکنامک فورم نے عالمی مسابقتی رپورٹ 2019 جاری کی ہے جو پاکستان کے لیے کہیں سے بھی خوش آئند نہیں ہے ۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق کرپشن کے انڈیکس میں پاکستان کا مقام مزید تین درجے کم ہوکر 141 ممالک میں99 سے 101 پر آگیا ہے ۔ ورلڈ اکنامک فورم کی یہ رپورٹ اس لیے بھی مزید تشویشناک ہے کہ عمران خان کا انتخابی نعرہ ہی کرپشن کا خاتمہ تھا ۔ اب بھی وہ 500 افراد کو ٹانگنے کی بات کرتے ہیں تو ان کے ماتحت ادارے نیب کے سربراہ سعودی عرب جیسے اختیارات چاہتے ہیں کہ جسے چاہیں پابند سلاسل کردیں اور جسے چاہیں زن بچہ سمیت کولہو میں پلوادیں ۔ ورلڈ اکنامک فورم اس امر کی نشاندہی کررہا ہے کہ عمران خان کرپٹ افراد سے لوٹی گئی رقم کی واپسی تو بہت دور کی بات ہے ، وہ جاری کرپشن کو بھی نہیں روک سکے بلکہ ان کے دور میں کرپشن میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے ۔ ورلڈ اکنامک فورم نے حکومت کے ساتھ ساتھ اس کے سلیکٹرز کو بھی آئینہ دکھا دیا ہے ۔سرکارمیں شامل ہر فرد کا بس ایک ہی کام ہے اور وہ ہے بلاثبوت اور بلاجواز محض الزام تراشی کرنا۔ ملک کے سارے ہی وسائل حکومت کی دسترس میں ہیں ۔ نیب بھی حکومت کی زبان بولتی ہے تو پولیس وہ سب کچھ کرگزرتی ہے جو سرکار میں بیٹھے ہوئے لوگ چاہتے ہیں ۔ تو پھر عمران خان کو کرپشن کے خاتمے کے لیے اور کیا چیز درکار ہے ۔ اس امر کی نشاندہی ہم پہلے بھی متعدد مرتبہ کرچکے ہیں کہ عمران خان کو سلیکٹ کرنے والوں نے عمران خان کی ٹیم میں وہی چہرے شامل کردیے ہیں جو پرویز مشرف اورآصف زرداری کی ٹیم میں تھے اور ان سب پر اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات نیب کو کرنا تھیں جو فی الوقت یا تو منجمد کردی گئی ہیں یا پھر ختم کردی گئی ہیں ۔ اب ملک کا خزانہ دوبارہ سے ان ہی لوگوں کے سپرد ہے جو آزمائے ہوئے ہیں اور کرپشن میں نامور ہیں ۔ ایسے میں پاکستان کی کرپشن میں ترقی کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے ۔ پاکستان اکنامک فورم کی اس رپورٹ سے شاید عمران خان سبق حاصل کریں اور اپنی ٹیم میں بنیادی تبدیلی لاکر کرپٹ عناصر کو قانون کے حوالے کریں ۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ پاکستان نے صرف کرپشن ہی میں ترقی نہیں کی ہے بلکہ ایسی ترقی اور بھی دیگر عنوانات کے تحت نظر آتی ہے مثلا پریس فریڈم میں پہلے پاکستان کی پوزیشن 112 پر تھی تو اب یہ 116 پر آگئی ہے ۔ یہ صورتحال صرف پاکستان کے ساتھ ہی ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک پاکستان سے بہت بہتر حالت میں ہیں ۔ مسابقتی حوالے سے بھی پاکستان کی تین درجے گراوٹ ہوئی ہے اور اس کی پوزیشن 107سے 110ہوگئی ہے جبکہ مسابقتی حوالے سے بھارت کی پوزیشن 68 ، سری لنکا کی 84،بنگلہ دیش کی 105،نیپال کی 108اور پاکستان کی 110ویں پوزیشن ہے۔عمران خان کی پارٹی کا نام ہی تحریک انصاف ہے مگر یہ بھی حقیقت کے ان کے دور حکومت میں عوام انصاف سے محروم ہیں ۔ سانحہ ساہیوال کو ایک برس گزرگیا مگر تمام تر شواہد کے باوجود ایک بھی مجرم کو سزا نہیں دی جاسکی ۔ ان کے دور حکومت میں عوام کو سہولتیں تو کیا دستیاب ہوتیں جو سہولتیں پہلے سے حاصل تھیں وہ بھی واپس لے لی گئی ہیں ۔ اب پنجاب اور خیبر پختون خوا کے اسپتالوں میں ٹیسٹ اور ایکسرے کروانے کے چارجز مارکیٹ ریٹ سے وصول کیے جارہے ہیں تو تعلیمی اداروں کو بھی نجی شعبے کے حوالے کیا جارہا ہے ۔ عمران خان پر بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر نورا کشتی کا الزام تو پہلے ہی تھا ، اب ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ کرپشن پر اب تک وہ جو کچھ کہتے رہے ہیں ، وہ محض زبانی جمع خرچ تھا اور عملی طور پر انہوں نے بھی کرپٹ عناصر کی سرپرستی ہی کی ہے ۔ آزادی صحافت کے حوالے سے بھی پاکستان کی تنزلی تشویشناک ہے ۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے ، اصولی طور پر پاکستان میں عدلیہ اور صحافت کو مکمل آزاد ہونا چاہیے مگر معاملات اس کے بالکل برعکس ہیں ۔ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کو بلا امتیاز مجرموں کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے مگر ایسا نہیں ہے ۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ مملکت کے امور محض خواہشات یا تقریروں سے نہیں چلائے جاتے ۔ اس کے لیے ایک اہل ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے جس کی عمران خان کے پاس شدید قلت ہے ۔ریلو کٹوں سے کب تک کام چلے گا۔ حزب اختلاف اب تک عمران خان اور ان کے سلیکٹروں پر جو بھی الزامات لگاتی رہی ہے انہیں ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ نے درست ثابت کردیا ہے۔

 بشکریہ جسارت