November 17th, 2019 (1441ربيع الأول19)

لنگرخانے نہیں،کارخانے کھولیں

 

وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں پہلے سرکاری لنگر پروگرام کا افتتاح کردیا ہے ۔ یہ لنگر پروگرام ایک این جی او سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے اشتراک سے شرو ع کیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں 112 لنگر کھولے جائیں گے ۔ مزید کتنے لنگرخانے کتنے مرحلوں میں کھولے جائیں گے ، اس کا انکشاف انہوں نے نہیں کیا ۔ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ حکومت میں اس طرح کے پرجیکٹ شروع کیے گئے ہوں۔ سابقہ ادوار میں کبھی بحریہ فاؤنڈیشن کے تعاون سے بحریہ دسترخوان شروع کیے گئے تو کبھی سستی روٹی پروگرام شروع کیا گیا مگر یہ سارے کے سارے ہی فلاپ شو بھی ثابت ہوئے اور قوم کا اربوں روپیا کرپشن کے ذریعے ڈکارنے کا سبب بھی ثابت ہوئے ۔ خود وزیر اعظم عمران خان نے کچھ عرصہ پہلے پناہ گاہیں نامی پروجیکٹ شروع کیا تھا جس کا اب نام و نشان بھی نہیں ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے ، ملک میں مہنگائی کا سونامی آگیا ہے ۔ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر پہلے کے مقابلے میں تقریبا نصف رہ گئی ہے تو سونے کی قیمت دُگنی ۔ اسی طرح پٹرول ، گیس اور بجلی کے نرخوں میں ماہانہ کی بنیاد پر اضافہ کیا جاتا ہے ۔ ملک کی صنعتیں بندش کا شکار ہیں جس کے باعث بیروزگاری میں روز اضافہ ہی ہورہا ہے ۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں صنعتی اور زرعی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے ۔ ٹیکس کے ڈھانچے کو سادا بنائے ، ٹیکس کی شرح کو کم کیا جائے ۔ عمران خان نے اب تک جو بھی اقدامات کیے ہیں، انہیںنرم ترین الفاظ میں ملک کی معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ عمران خان نے ملک کی معیشت کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے ۔ بینک دولت پاکستان کے موجودہ سربراہ آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازم ہیں اور ان کے کریڈٹ پر موجود ہے کہ وہ مصر میںاپنی تعیناتی کے دور میں یہی کچھ کر آئے ہیں جو اب وہ پاکستان میں کررہے ہیں یعنی مصری کرنسی میں سو فیصد گراوٹ اور ٹیکسوں میں اضافہ جس کے باعث مصر کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ۔ جو تجربہ اب پاکستان میں کیا جارہا ہے ، وہی تجربہ بھارت میں بھی کیا جاچکا ہے جس کے نتیجے میں بھارت کی ابھرتی ہوئی معیشت اب تباہ حال معیشت کا روپ دھار چکی ہے۔ روز بھارتی کرنسی کی گراوٹ اور بھارتی معیشت میںعدم استحکام کے باعث دنیا کے بین الاقوامی ائرپورٹوں پر منی چینجروں نے لکھ کر لگادیا ہے کہ بھارتی روپے کو کسی اور کرنسی سے تبدیل نہیں کیا جائے گا ۔ کچھ یہی کھلواڑ عمران خان نے پاکستانی کرنسی کے ساتھ کیا کہ اب پاکستان میںفضائی کمپنیاں اپنے کرایے ڈالروں میں وصول کررہی ہیں ۔ عمران خان ملک کی ترقی کے نعرے پر ملک میں برسراقتدار آئے تھے ۔ اگر وہ ملک میں بہتری نہیں لاسکتے تھے تو کم از کم جو صورتحال تھی ، اسے برقرار تو رکھتے ۔ ان کے برسراقتدار آنے کے ایک سال کے اندر جتنا قرض لیا گیا ہے ، اتنا قرض تو نواز شریف اور زرداری نے اپنے دس سال میں بھی نہیں لیا تھا ۔ عمران خان کے ایک سالہ اقتدار میں صورتحال یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اچھے خاصے سفید پوش افراد نان شبینہ کو محتاج ہوگئے ہیں اور حکومت کو ان کے لیے لنگر خانے کھولنے پڑرہے ہیں ۔ لنگر تو ہر درگاہ پر چل رہے ہیں۔عمران خان کو پتا ہونا چاہیے کہ حکومتیں لنگر خانے نہیں کھولتیں بلکہ کارخانے کھولتی ہیں ۔ عوام کو روزگار کے مواقع ان کے گھر پر مہیا کیے جاتے ہیں ۔ جب ملک میں روزگار ہوتا ہے تو ہر کارخانہ چل پڑتا ہے ۔ جب کارخانے چلتے ہیں ، خریدو فروخت ہوتی ہے تو سرکار کو بھی ٹیکس ملتا ہے اور یوں ہر طرف معاملات درست ہوجاتے ہیں ۔ کیا عمران خان کا وژن محض شہریوں کو محتاج بنانے تک ہے ۔ انہوں نے ایک مرتبہ بھی کوئی طویل المیعادیا مختصر المیعاد منصوبہ پیش نہیں کیا جس سے یہ پتا چل سکے کہ وہ ملک کے معاشی نظام کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں ۔ عمران خان کے اقتدار کا پورا ایک برس محض الزام تراشیوں پر گزرا ہے ۔ وہ کبھی پورے پاکستان کو ٹیکس چور قرار دے دیتے ہیں تو کبھی ڈاکٹروں اور انجینئروں کو ۔ ان کے نزدیک تحریک انصاف میں شامل سیاستدانوں کے سوابقیہ تمام سیاستداں چور ہیں ۔ عمران خان وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہیں ، یہ ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ چوروں کو پکڑ کر سزا دلوائیں اور ملک کو درست ڈگر پر ڈالیں نہ کہ روتے رہیں ۔ اس طرف تسلسل سے ہم توجہ دلاتے رہے ہیں کہ عمران خان فوری طور پر اپنی معاشی ٹیم میں بنیادی تبدیلی لائیں اور محب وطن اور اہل افراد پر مشتمل اپنی ٹیم تشکیل دیں ۔ بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لیے لنگر خانوں کاانتظام ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہے ۔ یہ کام تو شہری اپنی سطح پر کرتے ہی رہتے ہیں ۔ رمضان کے مبارک ماہ میں افطار کے وقت صرف کراچی کی شاہراہیں ہی یہ بتانے کوکافی ہیں کہ شہری کس حد تک اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں ۔ عمران خان کے پورے ملک کے لیے آٹھ فٹ لمبائی چوڑائی کے 112 لنگر خانے کتنے شہریوں کا پیٹ بھر سکیں گے ۔ اس وقت تو شہریوں کے پاس جو سہولتیں پہلے سے موجود ہیں ، عمران خان کی حکومت تو وہ بھی شہریوں سے چھین رہی ہے ۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں عملی طور پر تمام ہی سرکاری اسپتال نجی شعبے کے حوالے کرد یے گئے ہیں ۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت تباہ ہے ۔ کیا ہی بہتر ہو کہ عمران خان اپنا منصب بھی پہچانیں اور اپنی ذمہ داریوں سے بھی آگاہی حاصل کریں ۔ اگر یہ سب کرنے کی ان میں اہلیت نہیں ہے تو اقتدار کسی اہل شخص کے حوالے کردیں مگر ملک کو یوں تباہ نہ کریں ۔ عوام کا صبر ختم ہو رہا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ عوام میں صبر نہیں ، نئے پاکستان کا پوچھتے ہیں۔مدینے کی ریاست ایک دن میں نہیں بن گئی تھی۔ لیکن15ماہ میں تو بن گئی تھی ۔ ویسے تو جب رسول اکرم ؐ کے مبارک قدم مدینہ میں داخل ہوئے تھے،ریاست مدینہ وجود میں آ گئی تھی۔

                                                                                          بشکریہ جسارت