November 17th, 2019 (1441ربيع الأول19)

پاکستان کی کمزور سفارتکاری

 

ایف اے ٹی ایف ( فنانشل ایکشن ٹاسک فورس )کا اجلاس 13 اکتوبر سے پیرس میں ہورہا ہے ۔ پاکستان کا نام اس ادارے کی گرے لسٹ میں ہے اور اجلاس منعقد ہونے سے قبل ہی ایک رپورٹ کے ذریعے ڈراوا دے دیا گیا ہے کہ پاکستان نے اس ادارے کی دی ہوئی گائیڈ لائن پر عملدرآمد نہیں کیا ہے ، اس لیے خدشات ہیں کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں نہ بھی ڈالا گیا تو بھی گرے لسٹ میں مزید چھ ماہ تک رہے گا اور اس کا نام گرین لسٹ یا وائٹ لسٹ میں آنے کے امکانات معدوم ہیں ۔ پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے کے لیے بھارت اور اس کے پشت پناہ امریکا اور برطانیہ سرگرم عمل ہیں جبکہ اسے بچانے میں اب تک ترکی اور چین نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ایف اے ٹی ایف ہو یا اقوام متحدہ یا کوئی اور اس جیسا عالمی ادارہ ، یہاں پر کارکردگی نہیں دیکھی جاتی اور نہ ہی دلیل سے بات ہوتی ہے ۔ ان اداروں میں طاقت کی زبان چلتی ہے ۔ بھارت سے زیادہ کس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور امریکا سے زیادہ کس نے دوسرے ممالک پر فوج کشی کرکے بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا ہے مگر ان کے خلاف کسی بھی ادارے میں کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔ ہر جگہ پاکستان ہی مورد الزام ہے ۔ یہ صرف اور صرف پاکستان کی کمزور سفارتکاری اور امریکا اور دیگر طاقتوں کے سامنے مودبانہ انداز ہے جس نے پاکستان کو ہر جگہ ذلت کا شکار کررکھا ہے ۔ پاکستان کے بغیر امریکا افغانستان میں بری طرح پھنسا ہوا ہے اور ہر کچھ دن کے بعد پاکستان سے مدد کا درخواست گزار ہوتا ہے مگر پاکستان ہے کہ ایک مرتبہ بھی سودے بازی نہیں کرتا کہ پاکستان کی مدد چاہیے تو کشمیر میں پاکستانی موقف کی حمایت کرنا ہوگی ، ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں ڈالنے کی قرارداد پیش بھی کرنا ہوگی اورکامیاب بھی کروانا ہوگی ، پاکستان کو تجارتی سہولیات مہیا کرنا ہوں گی ۔ اگر پاکستان یہ سب کچھ نہیں کرسکتا تو بہتر ہوگا کہ پاکستان افغانستان میں کی جانے والی کوئلے کی دلالی سے باہر نکل آئے اور امریکا سے کہہ دے کہ اپنے معاملات خود ہی درست کرو ۔ پاکستان کی قیادت ابھی تک قوم کو مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں دے سکی ہے ۔ ایف اے نے ایف کی فرمائشوں کے نام پر پاکستان کو شدید مسائل میں مبتلا کردیا گیا ہے ۔ یورپ اور امریکا سے کوئی پاکستانی بینکوں کے ذریعے بھی اپنے گھر کو رقوم بھیجے تو کئی کئی ہفتوں تک بینک اپنے پاس اس رقم کو روکے رکھتے ہیں کہ تحقیقات کررہے ہیں کہیں دہشت گردوں کو تو مالی سہولت فراہم نہیں کی جارہی ہے ۔ حکومت بجائے اس کے کہ اپنے دوست ممالک کو پاکستان کی مدد کے لیے آمادہ کرے ، الٹا پاکستانیوں کا خون نچوڑنے میں مصروف ہے ۔ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب جیسا ملک بھی پاکستان کے بجائے بھارت کے موقف کی حمایت کررہا ہے ۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان گزشتہ ایک برس میں اپنی سفارتی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور اس محاذ پر اہل ٹیم کو اتاریں تاکہ پاکستان عالمی برادری میں تنہائی کا شکار نہ ہو ۔
بشکریہ جسارت