November 17th, 2019 (1441ربيع الأول19)

عمران خان کنٹرول لائن کے محافظ کیوں بن گے؟

 

وزیر اعظم پاکستان نے دوسری مرتبہ متنبہ کیا ہے کہ کنٹرول لائن عبور کرنا بھارت کے ہاتھوںکھیلنے کے مترادف ہو گا ۔ اس سے قبل وہ اسے غداری قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن ان کی جانب سے جو عذر پیش کیا جار ہا ہے وہ کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ خوفزدگی کی علامت ہے اس بیان سے بزدلی کا اظہار ہو رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ بھارت کنٹرول لائن عبور کرنے پر اس کا بہانہ بنا کر حملہ کر سکتا ہے ۔ حالانکہ اسی حملے کے لیے تو آپ بھارت کو اکسا رہے تھے اور آپ کے وزراء تو دشمن کو زمین میں گاڑ بھی چکے تھے ۔ آزاد کشمیر آ کر تو دکھائو… یہ کر دیں گے وہ کردیں گے ۔توپھر اب ڈرنا کیسا جو شہری ایل او سی عبور کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں حکومت کوان کا راستہ نہیں روکنا چاہیے ۔ کنٹرول لائن عبور کرنے کی اپیل تو جموں کشیر لبریشن فرنٹ نے کی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں اپنے بھائیوں کی حالت زار دیکھ کر پورا پاکستان ہی بے چین ہور ہا ہے ۔ خود وزیر اعظم کہتے ہیں کہ وادی میں دو ماہ سے جاری کرفیو پر آزاد کشمیر کے لوگوں میںپائے جانے والے کرب کو سمجھ سکتاہوں ۔لیکن یہ سمجھنے کے باجوود ان کا اور آزاد کشمیر کی انتظامیہ کا رویہ کرفیو لگانے والوں کو تقویت دے رہا ہے ۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ بھارت کو حملے کا بہانہ مل جائے گا عذرلنگ ہے ۔ سوال یہ ہے کہ بھارت نے خود کشمیر میں 47میںفوج کشی کی تو کیا اس وقت بھی کوئی حملے کر رہا تھا حملے تو اس کے بعد ہوئے اور آزادکشمیر پاکستان کو ملا ۔ بھارت کو کوئی قدم اٹھانے کے لیے پاکستان کی کسی غلطی کی ضرورت نہیں وہ اپنے اقدامات اپنے منصوبے کے تحت طے شدہ وقت پر اٹھاتا ہے ۔ 5اگست کا بھارتی اقدام کنٹرول لائن عبور کرنے کی وجہ سے نہیں اٹھایا گیا بلکہ مودی حکومت نے اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت اعلان کر کے پارلیمنٹ میں بل لاکر اور آئین میں ترمیم کر ڈالی ۔ پھر کرفیو لگا دیا ۔ اس کرفیو کامقصد بھی کنٹرول لائن عبور کرنے والوںکو روکنا نہیں ہے بلکہ وادی میںکشمیریوں کو رد عمل سے روکنا ہے۔ ایک طرف بھارت نے امریکی سینیٹرکوکشمیر میں داخل ہونے سے روکا ہے اور پاکستانی وزیراعظم پاکستانی عوام کو مقبوضہ کشمیر جانے سے روک رہے ہیں ۔ دونوں ہی انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے مقبوضہ کشمیر جانا چاہتے تھے ۔کرس ہولین صدر ٹرمپ کوکرفیو اور انسانی المیے کی جانب توجہ دلاتے ۔ لیکن مودی حکومت نے انہیں کشمیر میں داخل نہیں ہونے دیا تاکہ دنیا کو پتا ہی نہ چل سکے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے مودی حکومت سے تعاون کرتے ہوئے ہماری حکومت بھی کشمیری عوام کو کنٹرول لائن پار کرنے سے روک رہی ہے ۔ یہ کنٹرول لائن تو افواج کے لیے ہے ۔ کشمری عوام تو پورے کشمیر کے شہری ہیں انہیں ایک حصے سے دوسرے حصے جانے میں رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے ۔ یہ کشمیری شہری مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوں گے تو کرفیو زدہ علاقوں کی صورتحال سامنے آئے گی ۔ اس سے قبل غزہ میں بھی تو فریڈم فلوٹیلا کے جانے سے محاصرہ ختم ہوا تھا ،یا نرم ہوا تھا ۔ اگر بھارت امریکی سینیٹر کو نہ روکتا اور پاکستانی وزیر اعظم کشمیری شہریوں کو نہ روکیں تو کشمیر میں کرفیو زدہ علاقوں میں بہتری آ سکتی ہے ۔ پاکستانی قوم کے لیے یہ بھی ایک مخمصہ ہے کہ وزیر اعظم تو کہہ رہے ہیں کہ جس نے کنٹرول لائن عبور کی وہ غدار ہو گا۔ گویا22کروڑ پاکستانی غدار ہیں ۔اور ہمارے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی فرماتے ہیں کہ بھارت کے خلاف اشتعال بڑھ رہا ہے دنیا تماشائی نہ بنے ۔ سوال یہ ہے کہ پاکستانیوں کو تماشائی کیوںبنایا جا رہا ہے اور دنیا سے یہ امید کیوں ہے کہ وہ تماشائی نہ بنے ۔ ایسے متضاد بیانات تو کشمیریوں کو تماشا بنانے کے مترادف ہیں ۔ اس امر کی کیا ضمانت ہے کہ اگر دنیا تماشائی بننے کے بجائے کشمیر کا دورہ کرنا چاہے تو کیا پاکستانی حکمران اسے کنٹرول لائن پار کرنے دیں گے ۔ ان کے ساتھ کیا رویہ ہو گا ۔ وہ غدارکہلائیں گے یا ان کو گولی مار دیںگے ۔یہ افسوس ناک پہلو ہے کہ پاکستانی قوم تو کشمیر کے لیے لڑنے مرنے کو تیار ہے اور حکمران اپنے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہیں ۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ بھارت کو حملے کا جواز ملے گا ۔ لیکن بھارت نے5 اگست کے اقدام کے بعد پاکستان کو جوموقع دیا تھا پاکستانی حکومت نے اس کو ضائع کر دیا ۔ نہ فوج اتاری نہ عوام کو آگے کیا اور نہ عالمی برادری کو متحرک کیا ۔ بلکہ آزاد کشمیر میں عملاً دوسرا کرفیو لگایا جا رہا ہے۔خار دار تاریں اور کنٹینر لگا کر ایل او سی مارچ کا راستہ روکا جا رہا ہے ۔
بشکریہ جسارت