October 15th, 2019 (1441صفر15)

جشن فتح مگرکس بات پر؟

 

وزیر اعظم عمران خان کی وطن واپسی پر اسلام آباد میں ان کی پارٹی نے ایک ہیرو کے طور پر استقبال کیا اور زبردست نعرے بازی کی ۔ اقوام متحدہ میں خطاب کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا انداز کچھ ایسا ہی ہے جیسے انہوں نے میدان مار لیا ہے اور اب وہ فتح کا جشن منارہے ہیں ۔ اقوام متحدہ کا یہ 74 واںاجلاس تھا جو پیر کو ختم ہوگیا ۔ جمع تفریق کرکے دیکھیں کہ اس میں پاکستان کے حوالے سے کیا حاصل ہوا تو پاکستان کے حصے میں عمران نیازی کی تقریر آئی ہے جبکہ بھارت کے حصے میں کشمیر ۔ بھارت کی وہی صورتحال ہے یعنی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ، مسلسل کرفیو جاری ، کشمیریوں پر ظلم و ستم میں روز ایک نیا اضافہ ، ان کے باغات کاٹے جارہے ہیں ، اشیائے خور ونوش کی شدید قلت ہے ، ادویات نہ ملنے کے سبب اموات ہورہی ہیں ، گھروں سے نوجوانوں کو بھارتی فوج اغوا کررہی ہے ، کشمیری خواتین کی آبرو ریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ، روز کئی نوجوان شہید ہورہے ہیں ۔ لائن آف کنٹرول پر گولہ باری جاری ہے جس سے آزاد کشمیر کے نہتے عوام شہید ہورہے ہیں ۔ اس کے جواب میں عمران خان اور ان کے سرپرستوں کی وہی تکرار ہے کہ اب کی مار تو بتاؤں ۔ ہر مرتبہ تان یہیں پر آکر ٹوٹتی ہے کہ اگر پاکستان پر حملہ کیا گیا تو پھر بھارت کی خیر نہیں ۔ یہ سوال پہلے بھی کئی بار پوچھا جاچکا ہے ، ایک بار پھر ہم دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ آخر بھارت پاکستان پر حملہ کیوں کرے گا ۔ اسے تو جو کچھ کرنا تھا وہ کرچکا ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ایک اچھا موقع تھا کہ پاکستان بھار ت پر عالمی دباؤ پڑواتا اور اسے مجبور کرتا کہ وہ کم از کم 5اگست سے قبل کی پوزیشن بحال کرے اور استصواب رائے کاشیڈول اقوام متحدہ کو فراہم کرے ۔ پاکستان نے اس سنہری موقع کو ضائع کردیا ۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے اپنی رپورٹ میں خود مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا کونسل میں قراردار کی منظوری کے لیے صرف 24 ارکان کی حمایت کی ضرورت تھی ۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے بعد جنرل اسمبلی کی بھی ایسی ہی صورتحال رہی کہ بھارت کے خلاف نہ تو کوئی قراردار پیش کی گئی اور نہ ہی کسی قرارداد کے ذریعے 5 اگست کے بھارتی اقدام کی مذمت کی گئی ۔ اگرعمران خان اور ان کی ٹیم یہ کچھ نہیں کرسکتے تھے تو پھر وہ اقوام متحدہ کیا کرنے گئے تھے ۔ اگر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اتنے ہی ناکام وزیر خارجہ ہیں تو انہیں فوری طور پر ان کے منصب سے سبکدوش کیوں نہیں کیا گیا ۔ عمران نیازی صاحب کو علم ہونا چاہیے کہ وہ مملکت خداداد پاکستان کے سربراہ ہیں اوراس ملک کی ایک ایک انچ کی حفاظت ان کے فرائض میں شامل ہے ۔ بھارت پاکستان کے ایک حصے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرگیا اور یہ محض دوڑ دھوپ ہی کررہے ہیں اور اس پر شاباشی کے خواہاںبھی ہیں ۔ قوم یہ جاننے کا حق رکھتی ہے کہ اب تک کی ناکامی کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی اور بھارت سے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے سلیکٹروں کے پاس کیا لائحہ عمل ہے ۔ وزیر اعظم اور ان کے سلیکٹروں کو علم ہونا چاہیے کہ دنیا کے مسائل پرجوش تقاریر سے حل ہورہے ہوتے تو یاسر عرفات کی اقوام متحدہ میں مشہور زمانہ تقریر کے بعد فلسطین کا مسئلہ حل ہوچکا ہوتا ۔ امریکا ویتنام ، کمبوڈیا اور اب افغانستان سے اس لیے واپس نہیں جارہا ہے کہ ان ممالک کے رہنماؤں نے جوشیلی تقاریر کرکے امریکا کے پرخچے اڑا دیے ۔ امریکا کو افغانستان میں مسلسل مزاحمت اور جنگ نے پسپائی پر مجبور کیا ہے ۔ عمران خان کا تو یہ حال ہے کہ وہ بھارت کے خلاف فوجی معرکہ تو بعد میں لڑیں گے ، ان کی ہمت بھارت کے ساتھ معاشی جنگ کی نہیں ہوپارہی ہے ۔ انہیں کشمیر کے بجائے دیگر مفادات اتنے محبوب ہیں کہ وہ کرتار پور کا راستہ یکطرفہ ہی کھولنے کو تیار بیٹھے ہیں ۔ عمران صاحب تقاریر تو آپ مدینہ کی ریاست ، آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے اور لینے کی صورت میں خودکشی کرنے والی سمیت بے شمار کرچکے ہیں ۔ عوام کو سیدھا سادا سا نتیجہ بتائیں کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے شکنجے سے نکالنے کے لیے اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے ۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے بجائے حقیقی اقدامات بتائیں تاکہ قوم میں پھیلی ہوئی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے ۔ پاکستان دنیا کی بہترین فوج رکھتا ہے ، اپنے جہاز اور گولہ بارود خود بناتا ہے ، گزشہ چالیس برس سے مسلسل حالت جنگ میں ہے جس کی وجہ سے اس کی فوج کی تربیت میں کوئی شک ہی نہیں رہ گیا ہے ، شہادت کا شوق اس ملک کے بچے بچے کو ہے ۔ اس سب کے باوجود بھی اگر پاکستانی قیادت بغیر لڑے ہی بھارت کے آگے ہتھیار ڈال دے تو اسے ایک اور نیازی کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے ۔

                                                                                 بشکریہ جسارت