November 17th, 2019 (1441ربيع الأول19)

جاندار خطاب، اب عملی قدم اٹھائیں

 


بلاشبہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بڑی جاندار تقریر کی ہے جس کی وجہ سے ملک کے اندر بھی ان کی ساکھ بحال ہوئی ہے جس کی عمران خان کو بہت ضرورت تھی۔ سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ لکھی ہوئی تقریر کے بجائے فی البدیہ طویل تقریر میں ان کی زبان نہیں مچلی اور انہوں نے بین الاقوامی فورم پر کشمیر کا مقدمہ بڑی خوبی سے پیش کیا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تو دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہوں گی اور یہ دھمکی نہیں ہے۔ ایٹمی جنگ چھڑی تو اس کے نتائج دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ عمران خان نے بجا طور پر کہا کہ بھارت یا انصاف، دنیا ایک کا انتخاب کرلے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بیشتر مسلم ممالک سمیت بیشتر ملکوں کی نظر بھارت سے تجارتی تعلقات اور دیگر مفادات کے حصول پر ہے۔ سعودی عرب جیسا ملک، جسے اسلامی دنیا کا امام سمجھا جاتا ہے اسے بھی بھارت سے معاشی تعلقات عزیز ہیں اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آئندہ بھی بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر رکھا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے کشمیری مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کو ایوارڈز دیے جارہے ہیں۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسانیت پر تجارت کو فوقیت دینا افسوسناک ہے۔ یہ عمل کرنے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوانے کا وقت ہے۔ جنگ ہوئی تو پاکستان آخری حد تک جائے گا۔ کشمیر پر اب صلح صفائی کا نہیں کارروائی کا وقت ہے۔ عمران خان نے اس موقع پر کلمہ پڑھ کر کہا کہ ہمارے پاس صرف دو راستے ہیں، سرنڈر یا جنگ۔ انہوں نے توہین رسالتؐ کرنے والوں کو بھی متنبہ کیا کہ رسولؐ اللہ مسلمانوں کے دلوں میں بستے ہیں اور دل کی تکلیف جسمانی تکلیف سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ عمران خان کے اس خطاب کو پاکستان کے اندر بھی بیشتر سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں نے سراہا ہے۔ جنہوں نے تنقید کی وہ مخالفت برائے مخالفت کا اظہار ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کے خطاب نے کشمیریوں کے دل جیت لیے۔ ان کا خطابا قوم کے دل کی آواز ہے۔ اس موقع پر بھی امریکا اپنی شرارت سے باز نہیں آیا۔ امریکی وزارت خارجہ کی اعلیٰ عہدیدار ایلس ویلز نے سوال اٹھادیا کہ عمران خان 10 لاکھ ایغور مسلمانوں کو حراستی مراکز میں بند رکھنے پر یقین کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتے؟ یہ بالواسطہ بھارت کے لیے امریکا کی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔ امریکا نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر میں پابندیاں ختم، سیاسی قیدی رہا اور پاکستان سے کشیدگی میں کمی لائے۔ لیکن یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو 55 دن سے محصور کر رکھا ہے۔ اگر 8 ہزار یہودیوں کے ساتھ ایسا ہوتا تو دنیا چیخ پڑتی۔ عمران خان کے اس پُرجوش خطاب نے بڑی حد تک ان کی حکومت کی اب تک بے عملی اور غلط کاری پر پردہ ڈال دیا ہے اور توقع کی جانی چاہیے کہ وہ اپنی عادت کے مطابق یوٹرن نہیں لیں گے۔ انہوں نے امریکا میں طویل قیام کے دوران میں کسی بھی فورم پر ایک بار بھی پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی بات نہیں کی۔ اقتدار میں آنے سے قبل وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس لانے کے عزم کا اظہار کیا کرتے تھے ، اب وزیر اعظم بننے کے بعد انہیں اس بارے میں چپ لگ گئی ہے ۔ پاکستانی قوم تو اس تقریر کی بھی دیوانی ہوگئی تھی جس میں انہوں نے مدینہ کی ریاست کے قیام کا اعلان کیا تھا ۔ عملی طور پر قادیانیوں کو ملک میں ہر سہولت فراہم کی گئی اور ان کے لیے بھارت سے کشیدگی کے باوجود کرتار پور کی سرحد کھولنے کا کام زور و شور سے جاری ہے ۔ 60 روپے کا ڈالر اور 45 روپے لیٹر پٹرول والی تقریریں بھی قوم کو گرمادینے والی تھیں مگر عمل سب کے سامنے ہے کہ ڈالر 160 روپے پر جا کر تھما اور اب دوبارہ روپے کی بے قدری کی خبریں گرم ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں بھارت کو جو کچھ بھی کہا ہو ، وہ اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر مشکل میں بھارت کی مدد کو عمران خان ہی موجود ہوتے ہیں ۔ یہ جاننے کے باوجود کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا نعرہ مودی کا انتخابی نعرہ تھا اور منتخب ہونے کے بعد بھی مودی اس پر کام کررہا تھا ، عمران خان نے سلامتی کونسل میں بھارت کو ووٹ دیا۔ جہاں تک تقریروں کا تعلق ہے ، اقوام متحدہ کے اسی ایوان میں یاسر عرفات ، صدام حسین ، احمدی نژاد ، ہیوگو شاویز سمیت بے شمار افراد نے بہت جوشیلی تقاریر کی ہیں مگر ان کے نتائج کچھ بھی نہیں نکلے ۔ نتائج صرف اور صرف عمل سے نکلتے ہیں ۔ عمران خان اگر کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے کسی عمل پر یقین رکھتے ہیں تو دنیا ان کی بات پر کان دھرے گی بصورت دیگر وہ اس جیسی ہزار تقریریں اور کرلیں، حالات جوں کے توں رہیں گے ۔ مودی کشمیر کو ہڑپ کرنے کے بعد مزے سے امن کی بات کررہا ہے ۔ اگر پاکستان مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرچکا ہوتا تو کیا مودی یوں امن کی بات کرتا ۔ جب ابھے نندن پاکستان کے پاس محض چند گھنٹوں کے لیے قید تھا ، تو ان چند گھنٹوں میں مودی کا لب و لہجہ کیا تھا ۔ عمران خان صاحب بھارت کے خلاف فوجی قدم اٹھانے کی بات تو بعد میں آئے گی ، پہلے بھارت کی اقتصادی ناکہ بندی تو کیجیے ۔بھارت تو پاکستان کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ اس نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں مگر پاکستان صرف اور صرف بھارت کے خلاف زبان کی توپیں چلا کر اور سوشل میڈیا پر کارٹون بنا کر اسی پر نازاں ہے ۔ تاریخ میں نتائج درج ہوتے ہیں تقاریر نہیں ۔ دنیا بس یہ جانتی ہے کہ مشرقی پاکستان بنگلا دیش بن چکا ہے ۔ اس میں بھارت نے کیا سازش کی اور بھٹو نے کتنی جذباتی تقاریر کیں ، کسی کو یاد نہیں ۔ قوموں کے درمیان فیصلے اخلاقیات کے درس سے نہیں ہوا کرتے بلکہ تلوار وں سے ہوتے ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ اب عمران خان عملی اقدامات پر توجہ دیں ۔ اس وقت عمران خان کا خوشامدی ٹولہ واہ واہ اور سبحان اللہ میںمصروف ہے اور بہت عرصے تک عمران خان کو اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر کے خمار میں رکھے گا ۔ اس عرصے میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنا قبضہ مزید مستحکم کرلے گا ۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا ، مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کو دنیا تسلیم کرتی چلی جائے گی ۔ جس طرح سے فلسطین میں ہونے والا اسرائیلی ظلم و ستم اب معمول بن چکا ہے اور دنیا کے لیے اپنی کشش کھو چکا ہے بالکل یہی صورتحال بھارت کشمیر میں چاہتا ہے ۔ پاکستان کو کشمیر پر ثالثی کی نہیں فیصلے کی ضرورت ہے ۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہیے ، یہ ان کا حق ہے ۔ عمران خان سے ان کے دورہ امریکا کے دوران توقع کی جارہی تھی کہ وہ ٹرمپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں گے کہ اس وقت امریکا کی رگ افغانستان میں دبی ہوئی ہے مگر عمران خان نے ایک مرتبہ بھی پاکستان کے مفادات کی اس طرح بات نہیںکی جس طرح ان سے توقع کی جارہی تھی.

                                                                                                                                                        بشکریہ جسارت