November 17th, 2019 (1441ربيع الأول19)

امریکا بھارت دفاعی گٹھ جوڑ

 

امریکا کھل کر بھارت کی پشت پناہی پر اتر آیا ہے۔ یہ وہی امریکا ہے جس کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا تو وزیراعظم عمران خان اور ان کے حواریوں نے اپنی کامیابی کے خوب ڈھول پیٹے تھے جیسے مسئلہ اب حل ہوا۔ اب یہی ڈونلڈ ٹرمہپ امریکی شہر ہیوسٹن میں مودی کے جلسے میں ہزاروں مسلمانوں کے قاتل مودی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑا ہے اور مودی جلسے کے شرکاء سے نعرے لگوا رہا ہے کہ ’’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘‘۔ یہ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں مودی کی طرف سے تعاون ہے۔ اس موقع پر ٹرمپ نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ ’’آج بھارت کے ساتھ ہمارا رشتہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، میں انڈیا کا بہترین دوست ہوں‘‘۔ قاتل ہی قاتلوں کا دوست ہوتاہے۔ افغانستان، عراق اور لیبیا میں امریکا نے جو قتل عام کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اسی طرح بطور وزیراعلیٰ مودی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جس پر امریکا نے بھی اسے قتل عام کا مجرم قرار دے کر امریکا کا ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ گجرات کا یہ قسائی اب مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ امریکی صدر اس سے بے خبر تو نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدے کی امید ظاہر کی ہے۔ دفاعی معاہدہ کس کے خلاف ہوگا، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ایسا ہی ایک معاہدہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ہوا تھا جو 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں کام آیا نہ ہی 1971ء میں مشرقی پاکستان پر بھارتی فوجی چڑھائی میں روبکار آیا۔ 65ء میں تو یہ جواب دیا گیا تھا کہ یہ دفاعی معاہدہ بھارت سے جنگ کی صورت میں کار آمد نہیں ہے۔ یہ تو کسی تیسرے ملک مثلاًسوویت یونین وغیرہ کے خلاف کام آئے گا۔ اس جنگ میں امریکا نے فوجی ساز و سامان اور اہم پرزے بھی روک لیے تھے جب کہ سوویت یونین نے بھارت کی بھرپور مدد کی۔ روسی شرمن ٹینکوں کی مدد سے بھارت نے پاکستان کی سرحدوں کو روندنے کا خواب دیکھا تھا جسے پاکستانی جوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر ناکام بنا دیا اور چونڈہ کے محاذ پر ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ شرمن ٹینکوں کا قبرستان بن گئی۔ 1971ء کی جنگ میں یہ تسلی دی جاتی رہی کہ امریکی بحری بیڑا روانہ ہونے ہی والا ہے مگر وہ کبھی نہیں پہنچا۔ عمران خان امریکی تاریخ اور اس کی دھوکا بازیوں سے ناواقف ہیں اس لیے اس سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔ امریکا اور بھارت میں اٹوٹ رشتہ ہے جس کا اعلان ہیوسٹن کے جلسے میں ہوا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور بھارت ’’اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی‘‘ کے خلاف مل کر لڑیں گے۔ ٹرمپ کو ہندو دہشت گردی اور انتہا پسندی نظر نہیں آ ئی۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ اسلامی دہشت گردی ہے؟ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ’’دونوں ممالک کے لیے سرحدی سلامتی ناگزیر ہے‘‘۔ یہ کھلم کھلا مقبوضہ کشمیر میں مودی کی دہشت گردی کی حمایت ہے۔ ٹرمپ نے آسام میں مدتوں سے آباد مسلمانوں کو نکالنے اور میکسیکو کی سرحد پر پابندی کو ایک کر دیا۔ ٹرمپ نے مقبوضہ کشمیر کے لیے بھارتی آئین کی شق 370 کی منسوخی کی بھی حمایت کی ہیے کہ دہشت گرد اس کا غلط استعمال کر رہے تھے۔ 370 کی بھی حمایت کی کہ دہشت گرد اس کا غلط استعمال کر رہے تھے۔ مقبوضہ کشمیر میں بچے تک قتل ہورہے ہیں۔ کیا یہ کام مسلمان دہشت گرد کر رہے ہیں؟ افسوس تو یہ ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اب بھی امریکا کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ کیا انہیں کسی نے بتایا نہیں فلسطین میں مسلمانوں کے قتل عام اور قبلہ اول پر یہودی قبضے میں امریکا ہی کا ہاتھ ہے۔ عمران خان ٹرمپ کے یہودی داماد کشنر اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دوستی اور تعاون کے ذریعے ٹرمپ سے ملتے میں کامیاب ہوئے اور حواریوں نے اسے بھی بڑی کامیابی قرار دے دیا۔ عمران خان نے امریکا میں جلسہ کیا تو 19 ہزار افراد شریک ہوئے جس پر خوب بغلیں بجائی گئیں۔ گزشتہ اتوار کو ہیوسٹن میں قاتلوں کے جلسے میں 50 ہزار افراد تھے۔ یہ الگ بات کہ جلسہ گاہ سے باہر ’’گو مودی گو‘‘ کے نعرے لگتے رہے۔ مودی کا یہ جملہ قابل غور ہے کہ ’’نائن الیون اور ممبئی حملوں کا ذمے دار ایک ہی ملک ہے جس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا وقت آ گیا‘‘۔بھارت ممبئی حملے کا الزام پاکستان پر لگاتا رہا ہے۔ اب مودی نے ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے اس میں نائن الیون بھی شامل کر دیا گو کہ نائن الیون کا واقعہ ایک ڈراما تھا جو سی آئی اے نے اسٹیج کیا تھا تاکہ افغانستان پر حملہ کیا جاسکے۔ اب تک اس میں پاکستان کو کوئی ذکر نہیں آیا۔ پاکستان کی طرف سے ایک یہی مطالبہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھایا جائے اور شق 370 بحال کی جائے۔ یہ مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیا جائے اور کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے۔ یہ مطالبہ کرتے ہوئے کیا شرم آتی ہے؟
بشکریہ جسارت